راجستھان : کانگریس سے اردو بچاؤ

40

از۔ محمد قمر انجم فیضی

اردو جنوبی ایشیاء کی ایک اہم اور بہت بڑی زبان ہے ،بر صغیر ہند کی آزادی کے بعد سے اس کی مقبولیت اور اہمیت میں مزید اضافہ ہوا ہے
یہ ہندوستان کی 22 قومی زبانوں میں سے ایک ہے اردو اپنی چاشنی ،حلاوت ،مٹھاس اور نغمگی میں ہندوستان کی تمام زبانوں سے فائق وبرتر ہے اس کے زبان کوآج تک نصیب نہیں ہوا، اس وقت اردو کا مرغ شہرت ہندوستانی سرحدوں کو عبور کرکے انگلینڈ وامریکہ ، کناڈا وجاپان ،ڈنمارک ،ناروے اور سوئیڈن تک پہونچ چکا ہے ، ہر جگہ اس کی دھوم مچی ہوئی ہے ، تھوڑے سے تصرف کے بعد داغ دہلوی کا یہ شعر اردو کی شہرت کے بالکل مناسب حال ہے۔
اردو ہے جس کا نام ہمیں جانتے ہیں داغ
سارے جہاں میں دھوم ہماری زباں کی ہے
اردو نے مختلف زبانوں ، بولیوں ،تہذیبوں اور ثقافتوں کے عطرکشید کر اپنے اندر اس طرح سمویا اور اس خوبی سے ان کو برتا ہے کہ ماہر لسانیات اور علمائے زبان اردو کے ابتداء وارتقا اور اس کے مولد و مسکن کے بارے میں مختلف خیالات ہیں ، اتنی بات تو سب مانتے کہ اردو ہندوستان کی بیٹی ہے ،اسی کی کوکھ سے جنم لی ہے ،اختلاف اس کے بچپن اور ابتدائی نشوونما میں ہے،میر امن دہلوی نے اردو زبان کو ایک مخلوط زبان قرار دیاہے اور دربار اکبری کی لونڈی بتایا ہے ،وہ اپنی کتاب "باغ وبہار ” کے دیباچہ میں لکھتے ہیں "جب اکبر بادشاہ تخت پر بیٹھا تب چاروں طرف کے ملکوں سے سب قوم ، قدردانی اور فیض رسانی اس خاندان لا ثانی کی سن کر حضور میں آکر جمع ہوئے لیکن ہر ایک کی گویائی اور بولی جدا جدا تھی ، اکٹھے ہونے سے آپس میں لین دین سودا سلف سوال جواب کرتے ایک زبان اردو کی مقرر ہوئی "(باغ وبہار :ص 7-8)اردوکی پیدائش ہندوستان میں ہوئی، جب پیدا ہوئی تو ملک بہت ہی وسیع تھا، شمالی مغرب میں ایران شمالی مشرق میں تھائی لینڈ اس کے حدودتھے پھر رفتہ رفتہ یہ حدود سکڑتے گئے، 1947ءمیں تقسیم ہندکے بعد تو ہندوستان آج کی شکل کا ہواہے، پھر بھی یہ ملک اتنا وسیع ہے کہ اج بھی اس کو برصغیر کا بڑا حصہ تصور کیاجاتاہے اس ملک میں لسانی اعتبار سے مختلف طبقات ہیں
یہاں کی سرکاری زبان تو ہندی ہے مگر اس کے ساتھ انگریزی بھی دفتری زبان ہے، اردو ہندوستان کی بعض ریاستوں کی سرکاری زبان ہےکل 29 ریاستیں ہیں اور ان ریاستوں میں 22 سرکاری زبانیں ہیں،
مگر قابل افسوس والی بات یہ ہے کہ ہندوستان میں جو نئی تعلیمی پالیسی آئی ہے اس میں سہ لسانی فارمولے کی بات کی گئی ہے۔جب کہ وہیں دوسری طرف راجستھان میں کئی ہزار سرکاری اسکولوں میں اردو، سندھی پنجابی زبان کی تعلیم بندہوجائےگی،
اس کے تحت راجستھان کے تعلیمی آفیسر سوربھ سوامی نے فرمان بھی جاری کردیاہے، جس کے تحت اب اسکولوں میں سہ لسانی فارمولے کے تحت ہندی انگریزی کے ساتھ صرف سنسکرت زبان میں ہی تعلیم دی جائے گی، اور جن اسکولوں میں سنسکرت کے ساتھ اردو کی بھی تعلیم ہورہی تھی وہاں پر اردوکے ٹیچروں کے عہدے کو ختم کردیاجائے گا، ایسے میں اردو یا سندھی زبانوں میں تعلیم حاصل کرنے والے بچے ان زبانوں میں تعلیم حاصل نہیں کرپائیں گے،فرمان کے مطابق (اسٹافنگ پیٹرن) 28 مئی 2019 قانون کے تحت ہر ایک سرکاری اسکول میں سہ لسانی فارمولے کے تحت صرف ایک ہی زبان رکھی جاسکتی ہےاور اس میں صرف ایک ہی استاذ کے رکھنے کا قانون ہے تعلیمی امور کے آفیسر کا یہ فرمان تاناشاہی ہے جو حقیقت کو مٹانے اور جمہوری حق کو پامال کرنے جیساہے، کیونکہ مادری زبان میں تعلیم حاصل کرنے کا ہم کو مکمل اختیار حاصل ہے،راجستان میں اردو زبان زوال پذیر ہے،ریاست کی تشکیل کے بعد سے ہی اردو زبان و ادب کی ترقی کے تئیں کبھی بھی کوئی حکومت سنجیدہ نہیں رہی ہے ریاست کے اردو اسکولوں کے معیار کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اردو اسکولوں میں معقول تعداد میں نہ تو اردو اساتذہ ہیں اور نہ ہی انگریزی کو چھوڑ کر اردو مضمون کے علاوہ دیگر مضامین کی کتابیں اردو زبان میں دستیاب ہیں۔ جس کی وجہ سے اردو کے طلباء ہندی زبان کی کتابیں پڑھنے پر مجبور ہیں۔ دلچسپ بات تو یہ ہے کہ کئی اردو اسکولوں میں اردو کے استادہی نہیں ہیں۔ ایسے حالات میں کئیں اردو اسکولوں کا ہندی اسکولوں میں انضمام ہو گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق ریاست کی تشکیل کے تقریباً آٹھ سال بعد طویل زمانے کے منظور شدہ چار ہزار چار سو ایک اردو پرائمری اساتذہ کی بحالی کا عمل شروع بھی ہوا تو کئی اڑچنیں پیدا ہو گئیں ۔ محکمہ تعلیم نے ان خالی آسامیوں کو پر کرنے کے لئے راجستھان پبلک سروس کمیشن کو فائل بھیجے لیکن کمیشن سے محکمہ تعلیم کو دو بار فائل واپس کئے گئے ۔خدا خدا کرکے امتحان کا انعقاد کیا گیا لیکن اردو ٹیچر کی تقرری میں علاقائی زبانوں کے مضمون میں لازمی طور پر کامیاب ہونے کی شرط کی وجہ سے چند درجن ہی امیدوار کامیاب ہو سکے۔ جب کہ راجستھان کے کئی ایم ایلیز نے اردو زبان،
اردو اسکول اور اردو اساتذہ کے تئیں غیرسنجیدہ رویہ پر شدید برہمی کا اظہار کیا ہے۔اور حکومت کو مکتوب ارسال کرکے اس طرف توجہ دلانے کی کوشش کی ہےستم ظریفی تو یہ ہے کہ سال 2008 میں اردو زبان کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ دینے کے تعلق سے نوٹیفیکیشن جاری کیا گیا لیکن اب تک اس کا عملی نفاذ نہیں ہوا ہے۔کی عدم موجودگی کی وجہ سے شعراء، ادباء اور فنکاروں کی حوصلہ افزائی بھی نہیں ہو پا رہی ہے جس کے سبب ان کی تخلیقات بھی منظر عام پر نہیں آپا رہی ہیں۔اردو کی بقاو تحفظ کےلئےمختلف ملی تنظیموں کے ذمہ داران و سیاسی جماعتوں کے عہدیداران نےکانگریس حکومت کو مکتوب ارسال کرکے اس طرف توجہ مبذول کرانے کی کوشش کی ہے
جس میں انھوں نے کہا کہ اردو کے خلاف حکومت راجستھان کی سازش اور متعصبانہ رویہ آئین ہند کے خلاف ہے؛ لہذا حکومت سے مطالبہ ہے کہ وہ اردو کو دسویں جماعت میں پہلے کی طرح لازمی مضمون کے طور پر رکھے اور اردو کی ترقی کے لیے محبین اردو کے تمام تر مطالبات پورے کیے جائیں۔
جب کہ ماہرین تعلیم نے کہا کہ آئین ہند کے دفعہ 350 اے کے مطابق ریاستی سرکار کی ذمہ داری ہے کہ وہ ہر کسی کو اس کی مادری زبان میں بنیادی تعلیم حاصل کرنے کی سہولت فراہم کرے؛ لیکن حکومت راجھستان کانگریس اردو کے تعلق سے جس طرح کے منصوبے بنارہی ہے وہ اردو کا گلا گھونٹنے کی ناپاک سازش ہے، کانگریس سرکار اردو کی قاتل ہے اور ملک کی کسی زبان سے غداری ملک سے غداری کے مترادف ہے۔اردو ہماری مادری زبان ہونے کے ساتھ ساتھ آزادی ہند میں اہم کردار ادا کرنے والی مجاہدین آزادی کی تحریک کا حصہ ہے؛ لہذا اردو کے خلاف حکومت کی کوئی بھی پالیسی قابلِ قبول نہیں سمجھی جائے گی۔اردو کی کوکھ سے جنم لے کر ہندی زبان پلی بڑھی ہے؛ لہذا اصولی بات یہ ہے کہ ہندی زبان کی بقا کے لیے اردو کی بقا لازمی اور ضروری ہے۔اسٹافنگ پیٹرن سے پورے راجستھان میں اردو کا سفایا ہوا ہے پچھلی حکومت نے اردو کے ساتھ سوتیلا برتاؤکرکے ایسا حال کیاتھا آج 2سال بعد بھی کانگریس بھی اسی حکومت کے نقش قدم پر چل رہی ہے لہذا اسٹافنگ پیٹرن اردو کا بہت بڑا دشمن ہے،جب کہ قانون کہتاہےکہ مادری زبان کی تعلیم حاصل کرواؤ، سہ لسانی فارمولے کے تحت تعلیم دلواؤ، لیکن راجستھان حکومت میں اردو سندھی پنجابی پر روک کیوں؟ اردو زبان پر ہورہے لگاتار حملے اردو کو ختم کرنے کی بہت بڑی سازش ہے ۔نشانہ اردوہے ٹیچر نہیں ۔راجستھان حکومت اس پر خصوصی توجہ دے ۔اس اسٹافنگ پیٹرن کو ختم کرے،
محترمہ زاہدہ خان ایم ایل اے، کمان بھرت پور راجستھان نے اپنے مکتوب میں کہا کہ جاری فرمان کے مطابق جہاں پر تیسری زبان کی تعلیم کے تحت سنسکرت کے ساتھ اردو سندھی پنجابی پڑھائی جارہی ہے اب وہاں ایک ہی زبان کی تعلیم ہوگی، ایک اسکول میں ایک ہی زبان کی تعلیم ہوسکتی ہے جوکہ تعلیم کے حقوق کے بلکل منافی ہے۔
جن اسکولوں میں کم تعداد میں مسلمان طلباء پڑھتے ہیں وہاں پر اردو سندھی پنجابی کی جگہ پر سنسکرت پڑھنے کو مجبور ہونگے، ایسی حالت میں بہت سارے مسلم بچے اردو پڑھنے سے رہ جائیں گے، ایسی حالت میں جاری کردہ فرمان کو منسوخ کروا کر پہلے کی طرح درجہ 6 تا 8 میں کسی بھی ایک کلاس میں 10 طلباء ہونےپر دوسری زبان سنسکرت کے علاوہ، اردو، پنجابی سندھی، کے ٹیچر کے عہدے کو بحال کیاجائے اور اس کوہی نافذ رہنے دیں، لہذا آپ سے گذارش ہے کہ اسکولوں میں جاری فرمان، ایک اسکول میں صرف ایک ہی زبان پڑھانے کے فرمان کو فوری طور پر منسوخ کروا کر مجھے شکریہ کا موقع دیں،ان کے علاوہ ڈاکٹرعزیزالدین آزاد سکریٹری راجستھان کانگریس کمیٹی وسابق (ایم ایل اے)سوائی مادھوپور، واجب علی (ایم ایل اے) سیکری تہہ نگر ضلع بھرت پور راجستھان، نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اردو اور پنجابی سندھی زبان میں تعلیم کو برقرار رکھا جائے اور نئے اساتذہ کی بھرتی کی جائے۔اور ابھی فی الحال جو اساتذہ پڑھا رہے ہیں ان کو عہدےپر بحال
کیا جائے، اردو کی چاشنی اور مٹھاس سےمتاثر ہوکر آج پوری دنیا اردو کی گرویدہ ہے اور مختلف ملکوں کے زبان دان اردو ادب کا شوق رکھتے ہیں؛ لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ اردو کے وطن مادری میں ہی اس کے ساتھ تعصب کا برتاؤ کیا جارہا ہے۔ ہم اردو کے چاہنے والے لوگ کانگریس سرکار کی اردو مخالف سازشوں کو ناکام بناکر رہیں گے۔اسکولوں سے اردو کو لازمی مضمون سے خارج کرکے اختیاری مضمون کے زمرے میں ڈال دیا گیا ہے جو اردو کے خلاف ایک گہری سازش ہے، ہمارا مطالبہ ہے کہ اردو کو لازمی مضمون کے طور پر ہی رکھا جائے۔ اردو ہماری مادری زبان ہے، اس سے ہماری تہذیب زندہ ہے، اس سے ہماری شناخت قائم ہے؛ لہذا ہم اردو کے خلاف حکومت کی ہر سازش کے خلاف ہیں اور اردو کی بقا و تحفظ کے لیے آخری دم تک لڑتے رہیں گے۔

مضمون نگار ۔روزنامہ شان سدھارتھ سدھارتھ نگر سے وابستہ ہیں