ہرایک صحابی رسول برحق اورمعیارحق ہیں!

30

مسلمانوں کا متفقہ عقیدہ ہے :کہ” الصحابة كلهم عدول” سارے صحابہ برحق ہیں، کسی بھی صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر زبان طعن درازکرنا بہت بڑی جہالت اور جادہ مستقیم سے منحرف ہونے کی بین اورواضح دلیل ہے،یادرہے!کہ تمام صحابہ معیار حق ہیں، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے "اصحابي كالنجوم فبأيهم اقتديتم إهتديتم” میرے صحابہ ستاروں کے مانند ہیں، جسکی بھی اقتداء کروگے راستہ پاجاؤگے۔
ایک حدیث میں کامیاب امت اور نجات پانے والی جماعت کی نشاندہی اور علامت بتلائی گئی ہے "ما انا عليه و أصحابي” جو میرے اور میرے صحابہ کے نقش قدم پر چلے وہی جماعت کامیاب ہے۔
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کوقیامت تک آنے والے انسانوں کے لئے نمونہ و مثال بنایا گیا ہے۔
قرآن میں صحابہ کرام کے بارے "رضی الله عنهم و رضوا عنه” کے ذریعہ جنتی ہونے کی بشارت و خوشخبری سنائی گئی ہے؛مگر افسوس کی بات تویہ ہےکہ آج کل بعض لوگ ان صحابہ کرام کی شان اقدس میں گستاخی ارودریدہ دہنی کرتے دکہائی دے رہے ہیں، جن کے فضائل ومناقب قرآن و حدیث سے ثابت ہیں۔
جملہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے بارے میں عمومااورکاتب وحی حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنه کے بارے میں خصوصا سوشل میڈیا پرمشتے نمونہ ازخروارےبد اقبال اور بدقماش نام نہاد علماء زبان درازی کرتے ہوے نظر آرہے ہیں، یاد رکھنا چاہیئے!کہ ہر صحابی رسول سے محبت ایمان کا اہم حصہ ہے، مسلمان سب کچھ برداشت کرسکتا ہے لیکن شان رسالت میں معمولی گستاخی قطعی برداشت نہیں کرسکتاہے۔
حضرت عمر بن عبد العزیز رحمة الله عليه نے اپنی زندگی میں کبھی کسی پر ہاتھ نہیں اٹھایا؛مگر صرف ایک دفعہ اور وہ بھی ایک ایسے شخص کو کوڑا مارتےوقت ،جس نےحضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو برا بھلا کہا تھا۔