دنیا ایک متبحر اور رجال ساز عالم سے محروم

35

از قلم :مفتی احمد عبید اللہ یاسر قاسمی

ابھی حضرت مولانا عبدالرحیم فلاحی صاحب نور اللہ مرقدہ کی وفات کا غم تازہ ہی تھا کہ آج جامع المعقول و المنقول حضرت الاستاذ مفتی عبداللہ صاحب مظاہری رحمہ اللہ (بانی و سابق شیخ الحدیث جامعہ مظہرِ سعادت ہانسوٹ گجرات) کے حادثہ ارتحال نے دلوں پر بجلی گرادی، کرونا کی اس وبا کے دوران بہت سوں کہ رخصت ہونے کی خبر ملی، دل شدید رنج میں مبتلا بھی ہوا لیکن ایسے لوگ کم ہوتے ہیں جنکی وفات دلوں پر بجلی بن کر گرتی ہے جنکا آفتاب زندگی مشرق میں غروب ہو تو مشرق والے اندھیرا محسوس کرتے ہیں ،جنکی یاد لوگوں کے دلوں ہوک پیدا کردیتی ہے ، جن کے نام کے ساتھ ہمیشہ مدظلہ العالی کے بجائے آج رحمہ اللہ لکھتے ہوئے دل لرزہ ہے ہاتھوں میں کپکپاہٹ ہے،قلم توڑ دینے کو جی چاہ رہا ہے،نہ الفاظ میں اتنی طاقت ہے کہ میرے جذبات کی ترجمانی کرسکے، نہ قلم میں اتنی پختگی کہ چشم نم کی عکاسی کرسکے آہ استاد محترم، محدث بے مثال، وسیع المعرفت ،غزیر العلم اور کثیر الحلم کے خوبصورت اوصاف سے متصف، تفقہ فی الدین ، تعمق اورتبحر علمی کی جیتی جاگتی مثال، استاذ الاساتذہ مولانا مفتی عبد اللہ مظاہری رویدروی رحمہ اللہ نے بھی اس عالم فانی سے عالم جاودانی کی طرف کوچ کرگئے ہیں
انا للہ وانا الیہ راجعون اللهم اغفر لہ وارحمہ و سکنہ فسيح جناتہ
آپ رحمہ اللہ اپنے علم و فضل، زہد و ورع، جہد و عمل خشیت و انابت سے قرونِ اولی کی یاد تازہ کرنے والے تھے، اخلاص و للہیت ،مجاہدانہ عزم و عمل، اور پرخلوص خدمات کی وجہ سے علمی اور دینی حلقوں میں ہر دل عزیز شخصیت کے مالک تھے، علمی دنیا میں آپ کا لوہا مانا جاتا تھا، یقیناً آپ کی وفات ہر اس شخص کے لئے سانحہ ہے جو علم و دین کی کچھ رمق اپنے سینہ میں پنہاں رکھتا ہے.
حضرت مولانا قاضی مجاہدالاسلام قاسمی علیہ الرحمہ نے فرمایا تھا اور بجا فرمایا تھا کہ گجرات میں دو عالم ہیں جن کا مطالعہ گہرا ہے اور دونوں کا نام عبد اللہ ہے ایک مفکر ملت حضرت مولانا عبداللہ کاپودروی نوراللہ مرقدہ اور دوسرے مفتی عبداللہ صاحب مظاہری نور اللہ مرقدہ افسوس کہ آج وہ دنوں شخصیات عالم محروم ہوچکا ہے
افسوس کہ جن اہل علم و اخلاص نے بر صغیر میں ایمان و ایقان کی شمع روشن کی، دین کے علم صحیح سے لوگوں کو روشناس کیا وہ امسال ایک ایک کرکے اپنے مالک حقیقی کی بارگاہ میں پہونچ رہے ہیں، ایک ایک کرکے وہ اشخاص رخصت ہورہے ہیں جن کے وجود سے پورا عالم مستفید ہورہا تھا اور اپنے پیچھے ایک ایسا مہیب خلا چھوڑ جارہے ہیں کہ جن کے پر ہونے کی کوئی ظاہری امید نظر نہیں آتی، لگ رہا ہے کہ شاید وہاں کوئی علمی محفل لگی ہوئی ہے
کسی نے کیا خوب کہا:
افق کے اس پار کوئی علمی اکٹھ ہے شاید
بڑی تمکنت سے اہل دل اٹھ کے جا رہے ہیں
جہاں تک علم کے حروف و نقوش، کتابی معلومات اور فنی تحقیقات کا تعلق ہے انکے ماہرین کی آج بھی کمی نہیں لیکن تعلیمات اسلاف کے امین، دین کا ٹھیٹھ مزاج رکھنے والے تواضع اور للہیت کے پیکر اب مسلسل سمٹ رہے ہیں، دیکھتے کئی ایک کبار علماء عالم فانی سے عالم جاودانی کی طرف کوچ کرچکے ہیں
اس المناک سانحہ پر راقم الحروف کیا تعزیت پیش کرے؟ خود راقم مستحق تعزیت ہے ، رہ رہ کر حضرت والا رحمہ اللہ کے راقم آثم پر نوازشات و عنایات یاد آرہے ہیں، دو سالہ دور طالب علمی میں جو محبتیں اور شفقتیں میں نے دیکھیں ہیں وہ اپنی نظیر آپ ہے، مجھے حضرت والا رحمہ اللہ سے باقاعدہ کسب فیض کا موقع نہیں ملا، البتہ امتحانات اور خدمت کے دوران بہت کچھ سیکھنے اور سمجھنے کو ملا ہے، وہ مہمانوں کی ضیافت، وہ طلبہ کی حوصلہ افزائی،وہ جمعہ میں طلبہ کو مسجد میں جمع کرنا، وہ بعد نماز عصر مسجد عائشہ میں جلوہ افروز ہونا، وہ بعد نماز مغرب طلبہ کے مذاکرات کی نگرانی کرنا، وہ بعد نماز عشاء حضرت مولانا قاری سید صدیق احمد صاحب باندوی کی آداب المتعلین پڑھنا، وہ اپنے اکابر کی تعظیم، وہ معانی اور نکات سے بھر پور درس بخاری جس سے بالیقین بخاری کی روایت ابن الہمام کی فقاہت علامہ ذہبی کی درایت جھلکتی تھی، وہ فقہی گہرائیوں سر پُر رسم المفتی کا سبق جس سے علامہ شامی اور ابن نجیم کی یاد تازہ ہوتی تھی آہ!!!!
آزمائش اور ابتلاء کے دور میں راقم جامعہ میں نہیں تھا، قضا و قدر کو پتہ نہیں کیا منظور تھا وہ المناک حادثہ پیش آیا جس میں آپ اور آپ کے اہل خانہ نے وہ مصائب جھلیے کہ خدا رحم کرے
انشاء اللہ یہ آزمائشیں آپ کو حیات جاودانی عطا کریں گی، اور آپ کا حشر سید الانبیاء و المرسلین صلی اللہ علیہ و سلم اور ان کے اہل بیت کے ساتھ ہوگا، رب ذوالجلال آپ کا حشر خادمین حدیث کاندھلوی و باندوی جونپوری اور کاپودروی کے ساتھ فرمائے گا راقم تمام متعلقین و متوسلین سے بالخصوص اور تمام محبین اور شاگردوں سے بالعموم فردا فردا تعزیت پیش کرتا ہے
مفتی صاحب کیا رخصت ہوئے کہ ہم سب کو یتیم کرگئے
جذبات و احساسات درد اور کرب میں کچھ لکھنے سے عاجز ہے
ائے رب العالمین
25 سال تیرے حدیث رسول کی خدمت میں زندگی گذارنے والا تیرے دربار میں پہونچ چکا ہے تو اسکو سرخرو فرمانا
ائے مالک و ومولی
نصف صدی سے زائد عرصہ قرآنی و نبوی علوم سے امت کو مستفید کرنے ولا دنیا کے جھمیلوں سے آزاد ہوکر اپنے مالک کے پاس ابدی سکون کے لیے آ پہونچا ہے تو اسکی لاج رکھنا

ہر آنکھ اشکبار ہے ہر دل سوگوار ہے
یہ کون آج اٹھ کہ جہاں سے چلا گیا