فضیلةالشیخ محمد سعید ندوی حیات و خدمات

32

معمول کے مطابق ہر چیز اپنی اپنی رنگیناں بکھیرتی ہوئی دن گزار رہی تھی کہ اچانک ایک خبر گردش کرنے لگی جس سے یقین کی انتہا نہ رہی کیونکہ اللہ کا فیصلہ ہر کسی کے لیے اٹل ہے اور وہ خبر سیمانچل خصوصا شیر شاہ آبادی قوم کے لئے بجلی بن کر گری پڑی کہ” مولانا محمد سعید ندوی” اپنے مالک حقیقی سے جا ملے۔
” انا للہ وانا الیہ راجعون "۔

یہ وہی مولانا سعید ندوی جو ایک ایسی ستودہ صفت کے مالک، نرم خو،شیریں زبان،بے لوث داعی، نفاست پسند، باوقار، سنجیدہ مزاج روشن خیال باکمال علم دوست اور ماہر علم و ادب، خصوصا شیر شاہ آبادی قوم کے لئے ایک میر کارواں کی حیثیت رکھتے تھے، طالبان علوم نبوت کے ہر دلعزیز تہذیب و ثقافت کا سراپا پیکر تھے، چونکہ آپ ایک اچھے ادارہ سے فارغ التحصیل تھے، آپ نے اپنی صلاحیت و صالحیت کے بل بوتے ہزاروں تشنگان علوم اسلامیہ کو سیراب کیا، اور آپ نے اپنی حیات مستعار میں بہت سارے لوگوں کو علمی و عملی میدان میں ابھارا ،آپ کی تعلیمی لیاقت و صلاحیت کو دیکھتے شیر شاہ آبادی قوم کو اپنے ایسے باکمال عالم دین کے چلے جانے کا غم صدیوں ستائے گا ۔

"ولادت با سعادت ”
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آپ کی ولادت با سعادت ضلع کٹیہار کے مشہور و معروف علاقہ آمدہ باد میں سندی اعتبار سے سنہ 1941ء میں ہوئی ۔

"تعلیم وتربیت”
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آپ کی ابتدائی تعلیم ہر نرائن پور ایل پی اسکول سے شروع ہوئی جب آپ اپنے شعور و آگہی کو عبور کرنے لگے تو آپ کا جذبہ علمی اور پروان چڑھنے لگا ،اس کے بعد آپ نے مدرسہ اصلاحیہ سیماپور میں سنہ 1948ء سے درجہ وسطانیہ سوم تک کی تعلیم سے روشناس ہوئے، اسکے بعد آپ نے دارالعلوم دیوبند کی جانب رخت سفر باندھا وہاں آپ نے *”ازہار العرب اور کنز الدقائق* ” جیسی کتابوں سے اپنی علمی تشنگی بجھائی کچھ ناگواری کی بنا پر دیوبند چھوڑ کر *”جامعہ اسلامیہ فیض عام مئو ناتھ بھجن یوپی* ” کی جانب اپنی علمی سفر باندھنے کا قصد کیا، وہاں جاکر آپ نے چوتھی جماعت میں داخلہ لیا ،یہاں ایک ہی سال علمی تشنگ بجھائی، اس کے بعد آپ نے دارالعلوم ندوہ العلماء کا قصد کیا کیوں کہ بچپن ہی سے آپ کی دلی خواہش تھی کہ ندوةالعلماء سے کسب فیض کیا جائے اور اپنے کشت ویراں کو سیراب کیا جائے جس کے لئے آپ نے *دارالعلوم ندوہ العلماء* میں تخصص میں داخلہ لیا اور تین سال تک اپنی علمی صلاحیت کو پروان چڑھاتے رہے ،اور یہی سے آپ نے تعلیمی سلسلے کو منقطع کرتے ہوئے درس و تدریس سے وابستہ ہوگئے ۔

*” آپ کے اساتذہ "*
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آپ نے جن علمائے باصفا سے علمی صلاحیت کو بلندی تک پہنچایا ہے ان کی فہرست مندرجہ ذیل ہیں ۔
مولانا ابوبکر ہارونی، مولانا مصلح الدین اعظم گڑھی، مولانا عبد الحفیظ بلیاوی صاحب مصباح اللغات، مولانا محمد رابع الحسنی الندوی اور مولانا عبد الماجد پٹنوی وغیرہ شامل ہیں ۔

” *تدریسی خدمات* ”
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فراغت کے بعد آپ درس و تدریس سے وابستہ ہوگئے، سنہ 1963ء مدرسہ مظہر العلوم پٹنہ مالدہ بنگال سے جڑ گئے ،یہاں تقریبا آپ نے 10سال فرئضہ درس و تدریس انجام دیا، آپ کا زیادہ تر گھنٹہ عربی ادب ہی میں رہا، اسی طرح آپ کو تفسیر اور مشکوة المصابيح بھی پڑھانے کا موقع ملا ۔
سنہ 1971ء میں بٹنہ مدرسہ چھوڑ کر مدرسہ اصلاح المسلمین آگئے اور 1971ء سے 1975ء تک مسند تدریس رہے پھر کسی مجبور کے تحت سنہ 1975ء میں نقل مکانی کرکے کھورا گاچھ ارریہ بہار کی طرف رہائشی سفر باندھا اور یہاں آ کر اپنا نشیمن تعمیر کیا، یہاں آپ نے علم اور علماء کی کمی کا ادراک کرتے ہوئے علم کا سر چشمہ سنہ 1976 بنام” *مدرسہ دار الھدی* "کی داغ بیل ڈالی، پھر آپ نے لوگوں کی مدد اور اپنی کوششوں اور کاوشوں سے اس مدرسہ کو بہار بورڈ سے ملحق کرایا ،لیکن یہاں کچھ دنوں تعلیم و تدریس سے وابستہ رہے پھر سنہ 1978ء میں آپ نے *مدرسہ اصلاحیہ سیماپور* میں اپریل 2003 میں صدر مدرس کی حیثیت سے مسند تدریس میں لگ گئے، مدرسہ اصلاحیہ سیماپور سے ریٹائرمنٹ ہونے کے بعد ” *جامعہ عائشہ للبنات* "کشن گنج میں پرسنل کے عہدے پر فائز رہے لیکن بعد میں آپ کو ” *جامعہ امام بخاری "* میں مسند تدریس کے لئے بولا لئے گئے، آپ نے وہاں 2016ء تک طالبان علوم نبوت کے مشام جام کو معطر کرتے رہے اور انہیں کندن بناتے رہے، پھر اس کے بعد آپ اپنے گھر کی جانب روانہ ہوگئے اب جبکہ آپ کی عمر دراز ہونے لگی تھی، جس کی وجہ سے آپ اپنے گھروں ہی میں رہنا پسند کرنے لگے ، اور 2016ء ہی سے آپ نے درس و تدریس کا کام چھوڑ کر *”جمعیت اہل حدیث ہند* ” کے مجلس شوری کے رکن رکین بن گئے پھر آپ ” *جماعت اہل حدیث کٹیہار "* کے کام کاج میں مصروف ہوگئے ،آپ کی علمی و عملی لیاقت کو دیکھتے ہوئے "ضلعی جمعیت اہل حدیث کٹیہار کے ناظم چنے گئے، پھر دوسری مرتبہ جمعیت کی میٹنگ ہوئی تو آپ امیر منتخب ہوئے، آپ ہی کی امیری میں سیماپور کٹیہار میں "توحید و سنت کانفرنس بڑے تزک و احتشام کے ساتھ نہایت ہی کامیاب رہی تھی، جس کو شیر شاہ آبادی قوم کبھی فراموش نہیں کرسکتی ہے۔

” *تصنیفی خدمات* ”
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ان تمام تر گوں نہ گوں مصروفیات کے باوجود آپ کی ایک بہت بڑی کامیاب خوبی تصنیف و تالیف کی بھی تھی ،آپ نے کئی کتابوں کو عربی سے اردو زبان میں ترجمہ بھی کیا ہے ،جن میں سب سے پہلی کتاب "بائع دینہ” نامی کتاب کا ترجمہ کیا، اسی طرح "دھشت گردی اور تاریخ مذاہب (الارھاب وصورہ فی تاریخ آبادیاں والحضارات)نامی کتاب لکھی، دانش مندی بمقام شرانگیزی(فقہ الفتن) دھریت الاحاد یہ تمام کتابیں ان کی تصانیف میں شامل ہیں۔

*”آپ کی وفات”*
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ان تمام تر کار ہائے عظیم کے باوجود اللہ رب العالمین کو کچھ اور ہی منظور تھا، آخر کار اللہ جل شانہ کا حکم پر آپ مالک حقیقی کو لبیک کہتے ہوئے 3 ستمبر 2020ء بعمر تقریبا 85 سال بقام گھورا گاچھ ارریہ بہار کی سرزمین پر انتقال کرگئے "انا للہ وانا الیہ راجعون "۔
اخیر میں اللہ تعالی سے دعا گوں ہوں کہ اے بار الہ تو شیخ رحمہ اللہ کو جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے آمین یا رب العالمین ۔

*مصادر و مراجع* ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جناب مولانا مشتاق احمد ندوی کے وال سے مدد لی گئی۔
باقی ان کے شاگردوں کی رہنمائی بھی لی گئی ۔