آ ج کے اس پر فتن دور میں جہاں انسانیت دم توڑ چکی ھے

35

نوائے ملت نیوز میوات
مبارک میواتی آلی میو

3مارچ1924 کو جیسے ھئ کمال اتاترک نے صیہونیوں اور صلیبیوں کا آلہ کار بنکر خلافت عثمانیہ کے ٹمٹماتے ستارے کو بجھایا اسکے بعد ایسا لگتا ھے مسلمانوں کو نا ختم ہونے والی پریشانیوں نے گھیر لیا قتل و غارت گری ذلت اور رسوائی مسلمانوں کا مقدر بن گئ لیکن افسوس مسلمانوں نے کبھی اس ذلت اور رسوائی کی اصل وجہ کیا ھے جاننے کی کوشش نہیں کی بلکہ دشمنوں کے بنائے ہوئے جمہوری نظام کے فریب دام میں پھنستے گئے جسکی بڑے خوبصورت انداز میں تعریفیں (Definitions ) گڑھی گئی جوکہ درحقیقت اکثریت کی آمریت ھے 11نومبر 1918 کو پہلی جنگ عظیم کے خاتمے کے بعد جب مسلم دنیا کو قومیت کے نام پر،رنگ و نسل کے نام پر، زبان کی بنیاد پر (Nation state )میں بانٹ دیا جسکے ذریعے تخزیب کاروں نے مسلمانوں سے اسلامی نظام چھین کر انھیں ذہنی غلام بنا لیا دوسرا امت کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس بنیادی پیغام سے دور کر دیا کہ (مسلمان مسلمان کا بھائی ہے ۔مسلمان ایک جسم واحد کی طرح ھیں ) آ ج کے اس پر فتن دور میں جہاں انسانیت دم توڑ چکی ھے جب انسان بےساختہ چینج اٹھتا ھے کہ قرب قیامت ھے تو کیا مسلمانوں کے لئے لازم نہیں ہے وہ کہ قرآن اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث کی روشنی میں اپنے لئے راہ حق چنے اور کامیابی اور کامرانی کو اپنا مقدر بنائے آج جبکہ دنیا دو خیموں میں بنٹ چکی ھے جب حق اور باطل اپنی اپنی صفوں میں لامبند ہو چکے ہیں اب وقت آ چکا ہے علماء کرام ان احادیث کو امت مسلمہ کے سامنے بیان کریں جنکو کبھی مصلحت کے نام پرتو کبھی ضعیف حدیث بتا کر امت سے چھپایا گیا ،لازم ھے کی آ ج کے حالات اور Geopolitics کو احادیث کی روشنی میں Analyse کیا جاۓمسلمانو کو احادیث میں بتاۓ گۓ اس جغرافیہ کو یاد کرایا جائے جسکو ایک شازش کے تحت مسلمانوں کے دلوں اور دماغوں سے موقوف کیا گیا میں یہاں ان چند بڑی نشانیوں کو واضح کرنا چاہونگا جنکو دیکھ کر اور احادیث سے Anaylyse کر کر باآسانی سے حالات حاضرہ کی سنگینی کا اندازہ لگایا جا سکتا ھے
(1آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بیت المقدس کی آبادی کا بڑھنا مدینہ کی بربادی کا سبب ھوگا ) یروشلم کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنے کے بعد ظاہر ہے وہاں رونق بڑھے گی
2آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عربوں کے لئے تباہی ہو آپ نے تین مرتبہ کہا اور فرمایا وہ وقت قریب آ چکا ہے آ ج عرب ممالک کی تباہی اسی process کا حصہ ہے خاص طور سے بلادشام کا علاقہ(جو آج کے شام،اردن،فلسطین، لبنان اور اسرائیل پر مشتمل ہے)
3آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسلمانوں اہل روم 80 جھنڈوں کے لشکر کے ساتھ تم پر حملہ آور ہونگے ہر جھنڈے کے نیچے 12000 کا لشکر ہوگا NATO کا قیام اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے
جسے یہودیوں Greater isreal کا )Greater Grave yard )بننا ہے آج پوری دنیا کے یہودیوں کا اپنی Luxury Lifes چھوڑ کر اسرائیل میں قیام کرنا بھی اسی سلسلے کے ایک کڑی ہے
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے دور فتن میں فتنوں سے صرف وہ شخص بچ پائے گا جسے ان فتنوں کا علم ہوگا اس وجہ سے ہر مسلمان کے لئے ضروری ہے وہ دور فتن کے بارے میں علم حاصل کرے تاکہ ان فتنوں سے بچا جا سکے اللہ تمام مسلمانوں کو دجال کے فتنوں سے محفوظ رکھے آمین
مضمون نگار محمد زاھد ھارون
تاریخ میں جامعہ ملیہ اسلامیہ سے گریجویٹ ھیں