پروفیسر مختار فرید بھیونڈی
پروفیسر مختار فرید بھیونڈی

پڑوسی کا احترام قرآن اور حدیث کے روشنی  میں ۔ 

سورۃ النساء کی آیت نمبر ۳۶ میں جہاں ماں باپ کے احترام کے بابت حکم آیا ہے ، وہیں پڑوسی کے بارے میں ہدایت دی گئی ہے۔ 

"اور تم سب اللہ کی بندگی کرو، اُس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بناؤ، ماں باپ کے ساتھ نیک برتاؤ کرو، قرابت داروں اور یتیموں اور مسکینوں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آؤ، اور پڑوسی رشتہ دار سے، اجنبی ہمسایہ سے، پہلو کے ساتھی اور مسافر سے، اور اُن لونڈی غلاموں سے جو تمہارے قبضہ میں ہوں، احسان کا معاملہ رکھو، یقین جانو اللہ کسی ایسے شخص کو پسند نہیں کرتا جو اپنے پندار میں مغرور ہو اور اپنی بڑائی پر فخر کر ے”

اپنے والدین کے ساتھ اور رشتہ داروں ، یتیموں ، مسکینوں کے ساتھ احسان کرنے کا حکم دینے کے ، فوراً بعد   ہی قریب ترین  رشتہ دار پڑوسی  ، پہلو کے سا تھی اور بڑے پیمانے پر ہر اُس انسان  کے ساتھ حسن  سلوک کرنے کا حکم آیا ہے جس کا تعلق عام طور پر انسانی زندگی کا حصہ ہے۔ 

ہر قسم کے ، خدا کے فضل و کرم کو بھول کر  ، فخر ،  اور گھمنڈ کا شیوا اختیار کرنے  کی پُر زور  مذمت کی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی شیطان کی پیروی کے خلاف ایک انتباہ اور اس کے ساتھ ہی آخرت میں سزا کے امکانات اور اسکے  بعد  جو بھی  معاشرے میں  فخر غرور کی وجہ سے  تذلیل ہوگا ، ور  اس میں  آخر میں وارنگ دی گئی ہے۔

اپنے پڑوسی کے ساتھ حسن سلوک کرو۔ علی بن ابی طلحہ نے کہا کہ ابن عباس نے کہا ، (وہ ہمسایہ جو رشتہ دار ہے) کا مطلب ہے ، "وہ پڑوسی جو رشتہ دار بھی ہے”۔ جبکہ ، (پڑوسی جو اجنبی ہے) کا مطلب ہے ، ” وہ پڑوسی جو رشتہ دار نہیں ہے۔”

سفر کے ساتھی ہر وہ انسان ہیں ، جو آپ کے ساتھ رواں دواں ہیں ، اس میں سڑک پر ہر وہ انسان ہے جو پیدل چل رہا ہو یا آپ کے آگے پیچھے ، دائیں  بائیں چاہے  آپ کے سواری چاہے اس کے خود کے سواری میں ہو ، وہ سب آپ کے سفر کے ساتھی میں شمار ہونگے۔ ان سب کے ساتھ حسن سلوک کا حکم ہے۔ ہم لوگوں میں اکثر  ایسے لوگ ہیں جو ڈرائیونگ کے اصولوں کو  اور ضابطہ کو پس پردہ رکھتے ہیں ، ہر ایک دوسروں سے آگے نکل  جانا چاہتا ہے ،    پڑوسی کے حق کے احترام  کئے بغیر ، واقعی قابل مذمت ہے،  اُوپر مذکورہ آیت میں اللہ آخر میں وارنگ  دیتا ہے،”، یقین جانو اللہ کسی ایسے شخص کو پسند نہیں کرتا جو اپنے پندار میں مغرور ہو اور اپنے بڑائی پر فخر کر ے”

اگر ہم صرف "پڑوسی” ڈرائیوروں کے حقوق اور قوانین کے احترام میں ڈرائیونگ کرنے میں نرمی ، غور و فکر اور صبر سے کام لیں، تو ٹریفک کی بہت سی پیچیدگیوں سے بچا جاسکتا ہے ، اگر صرف ہر شخص ایک دوسرے کے کو ہمسایہ سمجھ کر اس کے حقوق کی پابندی کرے ۔

اس آیت  میں رشتے داروں،  یتیموں اور مسکینوں سے   پہلے کہ حکم میں ، ہدایت کا آغاز والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کیا گیا  ہے ،  اس کے بعد کے مرحلے پر ، اس کو یتیموں اور مسکینوں تک پہنچادینے کا حکم ہے۔ والدین اور رشتے داروں کو  پڑوسی پر فوقیت دی گئی ہے کیونکہ انہیں فوری طور پر زیادہ دیکھ بھال کرنا ضروری ہے۔ احسان  کا رُخ اس کے بعد پڑوسی کی طرف موڑ دیا گیا  ہے جو رشتہ  دار بھی ہوسکتا ہے ، اور اسی طرح اس کے بعد  دوسرے پڑوسیوں سے احسان کا معاملہ کرنے کا حکم ہوتاہے۔پڑوسیوں کو دوستوں پر فوقیت دئ گئی ہے ، کیوں کہ ہمسایہ ہمیشہ ہمارےقریب رہتا ہے اور  دوستوں کے ساتھ ملاقاتیں عام طور پر وقتا فوقتا ہوتی ہیں ۔ قرآن کے بارے میں مفسرین نے دوست کی اس طرح تعریف کی ہے جس کے ساتھ ہم معاشرتی طور پر ملتے ہیں اور جسے ہم سفر کے ساتھی کے طور پر منتخب کرسکتے ہیں۔ اگلی قسم کا شخص جسے بیان کیا گیا ہے،  جو ہماری مہربانی کا مستحق ہے وہ پھنسے ہوئے راستے کا مسافر ہے۔ اس کے بعد غلام آتے ہیں جو غلامی کی سختیاں برداشت کرتے ہیں ، لیکن جن کے ساتھ ہمارے انسانی تعلقات تمام انسانیت کے ساتھ مشترک ہیں۔

ان تمام گروہوں کے ساتھ ا حسان کرنے کے حکم کے بعد اس پر ایک تبصرہ کیا گیا ہے جس میں گھمنڈ اور تکبر ، بداخلاقی ، خدا کے احسانات کو بھلا کر ، گھمنڈ اور دکھاوے کی مذمت کی گئی ہے۔

قرآن ہم سے ہر ایک انسان  کے حقوق کا احترام کرنے اور ہر ہمسایہ کے ساتھ حسن سلوک کرنے کا حکم دیتا ہے جیسا کہ نبی  ﷺنے مختلف احادیث میں بیان کیا ہے۔ بہت سی احادیث ہیں جو ہمسایوں کے ساتھ حسن سلوک کا حکم دیتے ہیں ، اور ہم یہاں اللہ کی مدد سے ان میں سے کچھ کا ذکر کریں گے۔

 حضور نے فرمایا کہ ” جبریل علیہ السلام مجھے پڑوسی کے حقوق کے بارے میں اتنا تلقین کرتے رہے کہ میں سمجھا کہ  شاید  پڑوسی کو بھی ورثا میں شامل کیا جاسکتا ہے۔[بخاری و مسلم]

دوسری حدیث میں  امام احمد نے یہ نقل کیا ہے کہ `عبد اللہ بن عمرو نے بیان کیا کہ رسول اللہ  ﷺنے فرمایا ، "جبریل مجھے پڑوسی کے حق کی یاد دلاتے  رہے، یہاں تک کہ میں  نےیہ سوچا کہ وہ اس کے لئے میراث کا حصہ مقرر کیا جائے گا۔[ ابوداؤد اور الترمذی نے اس حدیث کو قلمبند کیاہے] اس سے پڑوسیوں کے ساتھ احترام ، خیال رکھنے اور  ان پر مہربان ہونے کی اہمیت ظاہر ہوتی ہے۔

تیسری حدیث امام احمد نے نقل کی ہے کہ "عبد اللہ بن عمرو بن العاص کہتے ہیں کہ نبی  ﷺنے فرمایا ، اللہ کےنزدیک بہترین لوگ  وہ ہیں جو اپنے دوستوں کے ساتھ بہترین ہوتے ہیں اور بہترین پڑوسی اپنے پڑوسیوں کے ساتھ بہترین ہوتے ہیں”۔[ ترمذی نے اس حدیث کو قلمبند کیا۔]

پڑوسیوں کے ساتھ زنا کرنا زیادہ قابل مذمت کہا  گیا ہے ، اور اس پر  لعنت بیان کی گئی ہے کیونکہ پڑوسیوں کے ساتھ ان کے اہل خانہ کے ساتھ ملنے جانے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں یا آپ پڑوسیوں کو اپنے کنبہ کے ساتھ ملتے ہیں۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، ”خدا کی قسم ، وہ مومن نہیں ہے! خدا کی قسم ، وہ مومن نہیں ہے! خدا کی قسم ، وہ مومن نہیں ہے۔ پوچھا گیا ، "اللہ کے رسول وہ کون ہے؟” انھو ں نے کہا ، "جس کا پڑوسی اس کےشر سے  اپنے آپ کو محفوظ نہیں محسوس کرتا ہے”۔[ بخاری و مسلم]