صحابہ کرام سےالفت اور ان کی عظمت کمال ایمان کی علامت ہے!

26

خداوند قدوس کے سب سے محبوب ومقبول ،سب سے بڑے ،آخری نمائندے، جن پر ہر اعلی وادنی شيئ کو ناز اور فخر ہے ،وہ حضرت محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ و سلم کی ذات اقدس ہے ،جن کی خاطر اس جہاں کو بسایا گیاہے –
باری تعالی نے سرور کونین محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ و سلم کو جہاں دیگر بہت سی عظیم اور نمایاں خصوصیات سے سرفراز فرمایا ہے ،وہیں ایک عظیم اور بڑی خصوصیت یہ دیکر بہت بڑا انعام فرمایا ہے کہ”” خالق کائنات نے جنتے نمائندے اپنے لیے منتخب فرمائےہیں ،اتنے ہی تعداد میں اپنےمحبوب اور آخری پیغمبر آقائے نامدار تاجدار مدینہ احمد مجتبی محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و سلم کے واسطے نمائندے منتخب فرمائےہیں ،جنہیں لوگ صحابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے نام سے جانتے ہیں –
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے شعائر اسلام کی بقا وتحفظ ،دین متین کی پاسبانی ،اشاعت اسلام اور تبلیغ دین کے لیے جانی ومالی ،الغرض ہر نوعیت کی ان گنت ،بے شمار اور لا تعد ولا تحصي قربانیاں، محض رضائے الٰہی اور خوشنودی رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے لیے پیش کی ہیں، جنہیں فراموش کرنا ،در اصل اپنے دین وایمان سے ہاتھ دھو لینا ہے –
ان ہی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی جہد مسلسل اور سعی پیہم کے نتیجہ میں، آج ہم تک یہ دین اسلام پہنچا ہے، اور ہم مومن ومسلم ہیں؛ ورنہ کہاں ہم اور کہاں یہ دین اسلام –
ان ہی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی لازوال محنتوں کے صدقہ طفیل،آج دنیا کے کونے کونے سے بلا ناغہ صبح وشام، دن بھر میں پانچ دفعہ اربوں کھربوں؛ بل کہ لاتعداد مسجدوں کی میناروں سے "” حي على الصلاة. حي على الفلاح "” کی صدائیں بلند ہوتی ہیں، پھر تمام مسلمان حکم الٰہی "”نماز”” کی تعمیل وتمثیل کے لیے مسجد کا رخ کرتے ہیں، اور پھر باجماعت "”نماز "” ادا کرتے ہیں ، اسی طرح ہرسال ماہ رمضان المبارک میں روزہ رکھنے کا باضابطہ اہتمام کرتے ہیں، اور روزہ نہ رکھنے والوں سے ہرشخص نفرت کرتاہے، اور معاشرے میں ان کو حقیر نظروں سے دیکھا جاتا ہے، ایام حج میں فریضہ حج کی ادائیگی کے لیے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کارخ کرتے ہیں ،اور اپنے اموال میں سے بطیب خاطر صدقات واجبہ ،نافلہ ان کے مستحین کو دیتے ہیں، جن کے ذریعہ غریبوں، یتیموں اور مسکینوں کی کفالت ہوتی ہیں، نیز ان ہی اموال زکوة کے ذریعہ لاکھوں مدارس اسلامیہ (جو در اصل دین اسلام کے قلعے ہیں ،جہاں سے ہر سال حفاظ ،مفسرین، محدثین، ائمہ، فقہاء، واعظین اور مصنفین علوم دینیہ سے بہرور ہوکر ،صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی طرح دنیا کے کونے کونے میں منتشر ہوکر خدمت دین کا فریضہ بحسن خوبی انجام دیتے ہیں ) اپنےمقاصد عظمی حصول کی جانب رواں دواں ہیں ۔
ان محبین ومخلصین صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی خدمات جلیلہ کا احاطہ اور شمار غیر ممکن ہے ،ان کےہم پر بےشماراحسانات کے باوجود،ہم میں کاوہ شخص کتنا ہی بداقبال ہوگا،جویومافیومابڑے ہی کروفر اور پوری طاقت وتوانی کے ساتھ چیخ چیخ کر حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ (جنہیں "” کاتب وحی "” ہونے کاایک نمایاں شرف حاصل ہے )کی عظمت شان کومجروح اور داغ دار کرراہے،اس پر مستزاد یہ کہ کھلےبندوں چند عظیم شخصیات کوندوہ کے میدان میں مباہلہ کی دعوت بھی دے رہاہے۔
کیا اس نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی شان اقدس، ان کی شان میں فرمان خدا اور فرمان رسول صلی اللہ علیہ و سلم کا بغور مطالعہ نہیں کیا ہے؟ کہ اس نے تقدس صحابی رسول صلی اللہ علیہ و سلم کو ہدف و تنقید کا نشانہ بنالیا؟
تو آئیے ذرا دیکھیں: کہ شان صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے متعلق، اللہ اور ان کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کا کیافرمان ہے؟ تاکہ اس گستاخ کے واسطے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی عظمت وتوقیر مزید قلب و دماغ میں مستحضر ہوجائے –
کوئی بھی ایسی جماعت نہیں، جن کےواسطے باری تعالی نے اپنی رضامندی کاپروانہ دوٹوک لفظوں میں دنیا ہی میں عطاکیا ہو ؛ مگر واحد ایک صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ہی کی خوش نصیب وباتوفیق جماعت ہے ،جن کے اخلاص بھرے عظیم کارناموں سے خداوند قدوس خوش ہوکر ،دنیا ہی میں ،اپنی رضامندی کی بشارت مزدہ وخوش خبری ایک ایسی کتاب میں دیا ،جو رہتی دنیا تک کے لیے برقرار رہے گی، یعنی اپنی معجز کتاب قرآن کریم میں دیا ہے؛ چناں چہ فرماتے ہیں :رضي الله عنهم و رضواعنه، جس سے ،جن جماعت سے اللہ خوش، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم بھی خوش ،ہر مسلمان خوش ؛حتی کہ چرند وپرند سب خوش،اور یہ ایک طےشدہ اور امرمسلم ہےکہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی شان میں گستاخی وہی شخص کرتا ہے، جس سے اللہ اور ان کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم سراسیمہ اور ناراض ہوتے ہیں –
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی عظمت شان میں، آقائے دو جہاں محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا :لاتسبوا اصحابی ،میرے صحابہ کی شان میں نازیبا جملہ کبھی نہ کہنا،اللہ کے نبی نے یہ نہیں فرمایا :میرے صحابہ کو گالیاں نہ دینا ،گالی کے لیے عربی زبان میں لفظ "”شتم "” ہے ، نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے "” سب”” بولا ہے ،سب گالی کو بھی کہتے ہیں اور نازیبا کلمہ کو بھی کہتے ہیں، فرمایا :میرے صحابہ کرام کی شان میں نازیبا کلمہ کبھی نہ کہنا ؛اس کی دلیل یہ دی ہے "”فان أنفق مثل أحد ذهب مابلغ مده أو نصيفه "” اگر تم احد پہاڑ کے برابر سونا صدقہ بھی کر ڈالو ،تو تیرا احد پہاڑ کے برابر صدقہ کرنا،میرے صحابی کے ایک کیلو "جو "کے صدقہ کرنے کے برابربھی نہیں ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم جبل احد پہاڑ کے برابر سونا خرچ کرڈالیں،ہمیں اجر ملے ،ہم اسے” اکثر عملا”کہیں گے،صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین مٹھی بھر جو خرچ کرے ،اسے اجر ملے” احسن عملا "کہیں گے، یہ ہے صحابہ کرام کی عظمت شان –
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی عظمت وتوقیر، بلندی مقام کے سلسلے میں، کثرت سے آیات کریمہ اور احادیث شریفہ نازل اور وارد ہوئی ہیں ،جن کا احاطہ اس مختصر مضمون میں انتہائی مشکل ہے –
صحابہ کرام سے محبت اوران کاحترام کمال ایمان کی علامت اور شناخت ہے ،صحابہ کرام کی عظمت کی پامالی ایمان کے مسلوب ہونے کی پہچان ہے –
اللہ تبارک و تعالٰی تمام امت مسلمہ کے قاشئہ قلب اورجگر پاروں میں صحابہ کرام کی عظمت وتوقیر مستحکم فرمادیں –