قاضی صاحب کے انتقال سے ملک بڑی باوزن علمی و دینی شخصیت سے محروم ہو گیا

39

بیرول 4 / ستمبر ( شمیم احمد رحمانی) ملک کے أفق پر اپنے کمال علم و جمال عمل کی وجہ سے مختلف علمی و عملی گوشوں میں اپنا خود ہی باوزن تعارف رکھنے والی عظیم شخصیت استاذ مکرم قاضی شریعت و شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد قاسم صاحب مظفر پوری کے انتقال سے جہاں علمی دنیا کو ناقابل تلافی نقصان پہونچا ہے وہیں لاک ڈاؤن کی وجہ سے أداس مدرسہ رحمانیہ افضلہ سوپول کی درودیواریں سونی پڑ گئیں ہیں اوراورعلاقہ سوپول بیرول میں سناٹا پسرا ہوا ہے ان خیالات کا اظہار مسجد عائشہ بیرول ریلوے اسٹیشن میں منعقد تعزیتی نشست سے خطاب کرتے ہوئے مرکزی جمیعت علماء سیمانچل کے صدر جید عالم دین حضرت مولانا مفتی محمد رضوان عالم قاسمی استاذ مدرسہ رحمانیہ افضلہ سوپول دربھنگہ نے کہی انہوں نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا کہ حضرت قاضی صاحب ہمارے مخلص استاذ تھے پھر فراغت کے بعد یہاں تقریباً بیس برسوں تک ان کے زیر سایہ تدریسی ،

دعوتی و تبلیغی اور تحریکی کاموں کو انجام دینے کی سعادت ملی افسوس کہ اب جبال العلم جیسی وہ ہستی ہمارے درمیان سے ہمیشہ کیلئے رخصت ہو گئی اللہ تعالیٰ محض اپنے فضل سے بال بال مغفرت فرمائے اور جنت الفردوس میں مقام کریم عطا کرے آمین ثم آمین انگلی کٹا کر شہیدوں میں داخل ہونے والے تو اس وقت بہت ہیں مگر ان کی ہمہ گیر شخصیت کا حقیقی خدوخال تو انہی پر نمایاں ہوگا جنہوں نے طویل وقت قرب و قربت کا حضرت قاضی صاحب کے ساتھ گزارا ہے جید عالم دین حضرت مولانا مفتی محمد رضوان عالم قاسمی نے جاری اپنے تعزیتی پیغام میں مزید کہا کہ مظفر پور ضلع کے موضع مادھوپور تھانہ کٹرہ کے رہنے والے عالم ربانی حضرت مولانا محمد قاسم صاحب مظفر پوری ابن جناب محمد معین الحق کی ابتدائی تعلیم اپنے گھر پر جبکہ درمیانی مدرسہ حمیدیہ قلعہ گھاٹ و مدرسہ امدادیہ دربھنگہ میں اور اعلیٰ تعلیم دارالعلوم دیوبند میں ہوئی 1957ء میں فراغت کے بعد ایک سال مدرسہ امدادیہ لہیریا سرائے دربھنگہ میں تدریسی خدمات انجام دے کر1959ء باضابطہ بحیثیت مدرس مدرسہ رحمانیہ سوپول تشریف لائے اور یہاں فقہ و فتاویٰ ، افتاء و قضاء کے ساتھ ساتھ آپ نے عربی زبان و ادب اور تفسیر قرآن کی بیش بہا خدمت کی اور عرصہ دراز تک شیخ الحدیث کے مسند کو زینت بخشی مدرسہ رحمانیہ کے مہتمم و شیخ الحدیث عالم ربانی حضرت مولانا محمد عثمان صاحب گرولوی کے انتقال کے بعد صدر مدرسہ امیر شریعت رابع حضرت مولانا سید محمد منت اللہ صاحب رحمانی رحمہ اللہ کے حکم پر عرصہ تک آپ مدرسہ رحمانیہ کے قائم مقام مہتمم بھی رہے اس کے علاوہ آپ نے ملحقہ مدارس کے اساتذۃ کی تنظیم ” آل بہار مدرسہ ٹیچرس ایسوسی ایشن ” کی صدرات اور ملحقہ مدارس کے نصاب تعلیم پر ظر ثانی کی ذمہ داریاں بھی نبھائی درجنوں چھوٹے بڑے دینی مدارس کی سرپرستی و صدارت بھی فرمائی اس کے ساتھ ہی آپ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ ، اسلامک فقہ اکیڈمی اور آل انڈیا ملی کونسل کے بانی ارکان میں تھے پوری زندگی امارت شرعیہ سے والہانہ وابستگی اور خانقاہ رحمانی مونگیر سے عقیدت رہی نصف صدی سے زیادہ عرصہ تک آپ کے علوم و معارف سے مدرسہ رحمانیہ افضلہ سوپول کا چمن معمور رہا اور بحیثیت پرنسپل یہاں سے سبکدوشی کے بعد بھی یہاں قائم دارالقضاء کے آپ ہی چیف قاضی شریعت رہے مستقل آنا جانا رہا سینکڑوں نہیں ہزاروں کی تعداد میں آپ سے کسب فیض حاصل کرنے والے آپ کے تلامذہ علاقہ و ملک اور دنیا بھر میں پھیلے ہوئے ہیں ان کی وفات یقیناً ملت اسلامیہ کیلئے ایک بڑا ناقابل تلافی سانحہ ہے حضرت قاضی صاحب کے انتقال کے بعد ان کے اخلاص و محبت اور خدمات کے باعث بہت بڑی تعداد میں علاقہ سوپول بیرول ، سیمانچل و متھانچل کے متعلقین ، فیض یافتگان ، قدرداں ، رفقاء واکابر أمت کی اتنی بڑی تعداد میں نماز جنازہ میں شرکت انشاء اللہ آئندہ نسلوں ، مدارس دینیہ کے پروردہ نوجوانوں اور علاقہ کے مسلمانوں میں عزم و حوصلہ ، ایثآر واخلاص اور بلند کارناموں کی تحریک کا باعث بنے گا موقع کی مناسبت سے حافظ محمد داؤد صاحب رحمانی امام جامع مسجد بس اسٹینڈ سوپول بازار نے فرمایا کہ قاضی القضاۃ حضرت مولانا محمد قاسم صاحب مظفر پوری علم کے پہاڑ اور ان کی زندگی تقویٰ سادگی اور اخلاص کا مظہر ہے حضرت ہمارے اسلاف کے نمونہ تھے الله پاک ان کا نعم البدل ملت کو عطا فرمائے اس موقع پر جید عالم دین حضرت مولانا مفتی محمد رضوان عالم قاسمی کی رقت آمیز دعا پر تعزیتی مجلس ختم ہوئی حضرت قاضی صاحب کے انتقال پر علاقہ بیرول کی جملہ سیاسی و سماجی سرکردہ شخصیات نے بھی افسوس کا اظہار کرتے ہوئے پسماندگان و اہل خانہ سے تعزیت کیا ہے