مسلمانوں کو سیکولر نے مارا بندہ اسحاق حقی

27
آج مسلم دانشوروں کا حال یہ ہےکہ دشمنان اسلام کی پالیسی کو نافذ کرتے ہیں، اور اسلام کو اپنی ذات تک محدود رکھتےہیں اور اسلام کی صحیح صورت کو مسخ کرنے کےلٸے مختلف ماڈل بناڈالتےہیں، یا مختلف عنوانات دیدٸیےجاتےہیں ،مثلا سیاسی اسلام ،اقتصادی اسلام ،روشن خیال اسلام ،رجعت پسنداسلام ،عربی طرز کا اسلام ،ترکی طرز کا اسلام ،ہندوستانی طرز کا اسلام ،بنگلہ دیشی طرز کا اسلام وغیرہ ،نہ جانے اسلام کےکون کون نام منتخب کر رکھےہیں ،حالانکہ اسلام ایک ہی ہے اور یہ وہ ہےجو قران وسنت میں موجود ہے ،جسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضوان علیھم اجمعین اور سلف صالحین نے عملی نمونہ سے پیش کیا ہے ،
مسلمانو۔۔۔جب آپ قران وسنت اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم و صحابہ کرام رضوان علیھم اجمعین کے عملی نمونوں پر غور کریں گے تو یہ بات پورےوثوق کےساتھ سمجھ میں آجاےگی کہ، اسلام سےسیاست کو نہیں نکالا جاسکتا ہے، ورنہ اسلام اسلام نہیں رہ جاےگا بلکہ دوسرا دین بن جاےگا ،کیونکہ اسلام کےبہت سےاحکام عین سیاست ہے ،اسلام صرف روحانی عقاٸد اور دینی رسومات کا نام نہیں ہے، بلکہ اسلام عقیدہ بھی ہےاورعبادت بھی اور تمام دنیوی معاملات کو بحسن وخوبی انجام دینے کا سب سےاعلی اور بہترین نظام بھی ہے ،خواہ شعبہ سیاسیات ہوں یا شعبہ اقتصادیات ،معاشراتی ہوں یا دیگر معاملات ،ان تمام امور کے قواعدواصول اسلام میں موجود ہیں ،اب اسلام کےنظام کو چھوڑکر غیروں کی پیروی کرنا اللہ تعالی سے بغاوت ہے ،
اپنےآپ کو سیاست سےالگ تھلگ کرکے کامل مسلمان نہیں ہوسکتاہے ،کیونکہ قران وحدیث کےمتعدد مقامات پر اللہ اور اسکےرسول نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں پر یہ ذمہ داری عاٸد کی ہے کہ وہ امربالمعروف اورنھی عن المنکر کرے اور معاشرے میں پھیلی تمام براٸیوں کو ختم کرنے کی کوشش کرے،،
جب تک آپ سیاست میں نہیں آٸینگے ،سیاسی شعور پیدا نہیں کرینگے تو اسوقت تک آپ پر ظلم ہوتارہےگا اور ظالم حکمراں آتےرہیں گے اور ان کا ذمہ دار ہم خود ہونگے ،
میرےبھاٸیو: آپ نے اپنےابإواجداد کی میراث خود ہی ظالم کو سونپ دیاہے، اور ظالم نےآپ کو کیا دیا؟
کبھی آپ نےسوچا کہ آپ کےاندر سےسیاسی شعور کس طرح ختم کیا گیا ؟ آج آپ ہی ہرجگہ کیوں ظلم کا شکار ہورہےہیں ؟ کیاآپ نےبھارت پر دس سوسال حکومت نہیں کی ہے؟ کیا انگریزوں کو آپ نے نہیں بھگایا ہے؟ آزادی کےبعد ہی سے ہمارا سیاسی زوال کیوں ؟
دراصل بات یہ ہے کہ آزادی کےبعد آپ نےحکومت غیروں کوسونپ دیا اور خود کو الگ رکھا ،اور سیکولر پر بھروسہ کیا ، جس کی وجہ سے آپ کو سیکولر کےنام پر استعمال کرتےرہے اور ابھی بھی استعمال کررہے ہیں ،
جب کہ سیکولر کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ سیاسی باگ ڈور غیروں کو سپرد کردیں ،بلکہ اسکا مطلب یہ ہے کہ آپ میدان سیاست میں آکر ظالم کا منہ توڑ جواب دیں کیونکہ یہ آپ کا جمہوری حق ہے
لیکن افسوس ،آپ نے خود نام نہاد سیکولر لیڈر پر بھروسہ کیا اور آپ کو اپنےآپ پر بھروسہ نہیں رہا اور یہی سیکولر نے آپ کو مار ڈالا ۔
مسلمانوں: ابھی بھی وقت ہے اور آپ کا یہ جمہوری حق ہے اس لٸے آپ خود سیاسی باگ ڈور سنبھالو ، اور اپنےاندر خوداعتمادی پیدا کرو اور سیکولر بولنےوالوں پر بھروسہ مت کرو ،ورنہ دنیا یہ گنگناتی رہےگی کہ ،کسی کو محبت نےمارا ،کسی کو عداوت نےمارا،
شرافت علی کو سیکولر نےمارا
اللہ تعالی ہم سبھی کوصحیح سمجھ دے آمین بصدقہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم
مفتی محمداسحاق حقی قاسمی
بانی ومہتمم مدرسہ اسلامیہ دارالعلوم کریمیہ نبی کریم نٸی دہلی
صدرمفتی دارالافتإکریمیہ نبی کریم
امام مسجدخرد تیل مل گلی نبی کریم نٸی دہلی