سم اللہ الرحمن الرحیم
مسلمانو: لفاظی چھوڑو اور میدان عمل میں آٶ ،ہمارے اسلاف رحمھم اللہ نے عملی نمونہ پیش کرکے رہنماٸی کی ہے،
صرف کہنے اور بولنے سےکچھ نہیں ہوتاہے بلکہ عملی جامہ پہنانا کمال ہے اور کام کرنے کی تو ہمت چاہیے،
ہر طرف دعوے کی بارشیں ہورہی ہیں ۔ لفاظیاں عام ہوتی جارہی ہیں، حالانکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا احفظ لسانک ،اپنی زبان کی حفاظت کرو، کفار مکہ کا فر ہونے کے باوجود اپنے قول میں جھوٹے نہیں ہوتے تھے ،آقاۓمدنی محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے متعلق فرمایا انا ابن الذبیحین ،میں دو ذبیحوں کا بیٹا ہوں ،ایک جبکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اللہ کے حکم پر حضرت اسماعیل علیہ السلام کو قربان کر دیا اور اللہ نے ان کی قربانی کو قبول فرمایا اور دوسری مثال جب ابرہہ بیت اللہ شریف کو ڈھانے کا ارادہ کیا تو اس وقت عبدالمطلب نے منت مانی کہ اگر بیت اللہ بچ گیاتو عبداللہ کی قربانی دوں گا، عبداللہ کون تھے حضور سرورکائنات صلی وسلم کے ابو محترم والد بزرگوار اور عبدالمطلب کے لڑکے تھے اللہ نے بیت اللہ کو بچالیا اور عبدالمطلب نے مشورے سے عبداللہ کے عوض سو اونٹ کی دیت دی اسی لٸےآقاء تاجدار محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انا ابن ذبیحین میں دوذبیحوں کابیٹا ہوں ان سب سے پتہ چلتا ہے کہ آدمی کو اپنے اندر عجزو انکساری لانا چاہیے اور تکبر سے خالی ہونا چاہیے دیکھیں اگر غرورہوگا تو کچھ کر نہیں پائیں گے اور ذلیل بھی ہوں گے وہیں پر اگر عجزوانکساری ہوگا تو ہر دین کے شعبے اس کے سھل ہوں گے یہاں کسی نے کیا خوب کہا ہے سر تسلیم خم ہے جو مزاج یار میں اگر انسان کے اندر صرف ماننے والی صفت آ جائے بڑا اپنے چھوٹوں پر شفقت چھوٹا اپنے بڑوں کا ادب کرنے لگے ہر شعبہ سہل ہوجائے گا مگر مسئلہ خراب وہاں سے ہوتاہے کہ اکثر بڑے اپنے مفاد کی باتیں کرتے ہیں چھوٹے کو تو قوت و دھونس دکھا کر قہرا جبرا اپنی بات منوا لیتے ہیں چھوٹا مارے محبت کےکر تو دیتا ہے مگر یاد رکھیں اس کے دل میں آپ کی عقیدت نہیں بلکہ آپ کے خلاف نفرت کا شعلہ بھڑکنے لگتا ہے پڑھا لکھا ہوتاہے تو قرآن و حدیث کا علم ہونے پر وہ اپنے آپ کو آمادہ کرلیتا ہے اور قرآن کی اس آیت کی بنإپر معاف بھی کردیتاہے والکاظمین الغیظ والعافین عن الناس واللہ یحب المحسنین اور آپ کو معاف بھی کر دیتا ہے اور وہ اس حدیث کا مصداق بن جاتا ہے کہ ارحموا من فی الارض یرحمکم من فی السماءزمین والوں پر رحم کرو اللہ تمہارے اوپر رحم کرے گا بہرحال: قربانی آپ سے عجزی و انکساری چاہتا ہے ہم یہاں پر قربانی میں شرکت کے مسائل تحریر کرتے ہیں ،شرکت کے مسائل،،
مسئلہ نابالغ پاگل غریب اور مسافر شرعی پر قربانی واجب نہیں ہے لیکن اگر غریب یا مسافر اپنی طرف سے قربانی کر دے تو جائز ہے اور بڑا ثواب ہے
مسئلہ غریب نے قربانی کی نیت سے جانور خرید لیا تو اس پر اس جانور کی قربانی واجب ہوگی
مسئلہ اگر کسی نے نذر( منت) مانی تو نظر کی وجہ سے اس پر قربانی واجب ہوگی خواہ امیر نے نذر مانی ہو یا غریب نےنیز اگر امیر (صاحب نصاب) نے نذر مانی ہو تو اب اس کو دو قربانیاں کرنی ہوں گی ایک تو منت کی وجہ سے اور دوسری جو اس پر صاحب نصاب ہونے کی وجہ سے شریعت نے واجب کی ہے
مسئلہ اگر کسی جگہ یہ رواج ہو کہ شوہر اپنی بیوی یا باپ اپنی بالغ اولاد کی طرف سے قربانی کر دیا کرتا ہے اور بیوی اور اولاد کو بھی یہ بات معلوم ہو تو عرف اور رواج کی وجہ سے ان کی طرف سے قربانی درست ہو جائے گی صریح اجازت لینا ضروری نہیں بلکہ رواج عرفی کافی ہوگا
جہاں پر یہ نہ ہو تو واجب قربانی کے لئے صرف اجازت لینا ضروری ہے ورنہ قربانی واجب ادا نہ ہوگی نفل قربانی کرنے کے لئے اجازت ضروری نہیں ہے
مسئلہ کسی غریب نے جس پر قربانی واجب نہیں تھی محض اپنی خوشی سے قربانی کر دی اور اس کے بعد قربانی کے ایام میں ہی وہ امیر( صاحب نصاب) ہو گیا تو اب اس پر دوسری قربانی کرنا واجب ہے
مسئلہ کسی پر قربانی واجب تھی مگر اس نے ابھی قربانی نہیں کی تھی کہ قربانی کا وقت ختم ہونے سے پہلے ہی وہ اس لائق( یعنی صاحب نصاب)نہ رہاکہ اس پر قربانی واجب ہو یا مر جائے تو اس سے قربانی ساقط ہوگی
مسئلہ سود خور کے ساتھ قربانی میں شرکت نہیں کرنی چاہیے
(مسائل عیدین)
محمد مامون الرشید کنہواں استاد شعبۂ تجوید و قرأت مدرسہ طیب المدارس پریہار بن حضرت مولانا حافظ محمد ھارون الرشید صاحب المظاہری رحمۃ اللہ علیہ سابق استاد مدرسہ بیت العلوم سراۓ میر اعظم گڑھ یوپی