مسلمانو خدارا "اویسی” کو پہچانو

آپ ہماری مسلم قوم سے یہ سوال مت کیجیئے کہ کیوں کنہیا کو آسمان پر پہونچا دیا اور کنہیا ہی کے جگری دوست عمر خالد کو زمین میں دفنا دیا جس کی فصاحت اور سیاسی بصیرت کا خود کنہیا قائل ہے

اس سے انکار نہیں کہ ہمارے ملک کو ھندوتوا کے بالمقابل کنہیا کمار جیسے سیکولر ہندووں کی سخت ضرورت ہے

لیکن اس کی کیا گارنٹی ہے کہ مسلمانوں کی تائید میں کنہیا کی یہ آواز ہمیشہ برقرار رہے گی یا اقتدار ملنے کے بعد قانغڑیش لالو مایاوتی ملائم کی طرح بدل جائے گی یہ تو مستقبل کی بات ہے

جو قوم اسدالدین اویسی جیسے قوم کے سچے قائد اور ملت کے مخلص خادم کو فراموش کررہی ہے اس قوم سے مستقبل میں قومی قیادت کی کیا امید لگائی جاسکتی ہے ؟

جب قانغڑیش لالو مایاوتی ملائم جیسے مسلمانوں کے پیدائشی سچے مسیحا موذی لہر میں ہندو بحر میں ڈوب گئے تھے یا ہندو راشٹر کے کسی شہر میں ٹھہر گئے تھے اس طوفان میں بھی اویسی ٹیپو سلطان کی طرح ایک ایمانی چٹان بن کر کھڑاتھا اور موذی کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر نہیں بلکہ آنکھیں پھاڑ کر باتیں کر رہا تھا جبکہ روش ابھیشار اور پرسون جیسے مخلص صحافیوں کے علاوہ بھارت کا سارا موڈیا موذی شاہ کے آگے گھٹنے ٹیک چکا تھا

لیکن ہماری قوم اسے ہی بی جے پی کا ایجینٹ کہ رہی ہے

ٹیوی چینلوں سے لیکر حکومت کے ایوانوں تک جب ہماری داڑھی ٹوپی اذان نماز مسجد اور طلاق جیسے اسلامی تشخصات اصول وقوانین اور قرآن وحدیث کے مسلمات کا مذاق اڑایا جارہاتھا تو اسلام کے سبھی ٹھیکیداروں کے منہ کو لقوہ مار گیاتھا

غریب مسلمانوں کے نظرانوں سے اپنی جنت سجانے والے جنتی قائدین کے جنتی سینوں میں خوف خدا کی جگہ خوف بی جے پی یا خوف روزی روٹی سماگیا تھا

اورنظرانہ والا جوش ایمانی سرد پڑگیا تھا ایسے بھیانک ماحول میں صرف اور صرف اویسی ہی کا ایمانی خون جوش ماررہاتھا

پھر بھی یہ نظرنہ آنے والے مولوی اور ان کی عوام کاالانعام کو اویسی وو ٹ کٹوا نظر آتاہے

(واضح رہے کہ ہماری مراد علمائے سو ہیں ورنہ ہماری قوم کے مخلص علمائے ربانیین مدرس مصنف مقرر مبلغ حافظ قاری مولوی مولانا مفتی قاضی کی صورت میں قلیل آمدنی میں اپنے اور اپنے اہل وعیال کے ایمان کی حفاظت کرتے ہوئے اس پر فتن دور میں جو اسلام و مسلمین کی خدمت انجام دے رہے ہیں جن کے لئے آسمان میں فرشتے اور سمندرمیں مچھلیاں دعائیں کر رہی ہیں جن کے وجود مسعود سے ہی ہم جیسے گنہگاروں کا ایمان سلامت ہے انکی شان میں ادنی گستاخی بھی ہمارا ایمان برباد کر سکتی ہے مولی تعالی ہمیں اپنےایسے نیک بندوں کا ادب واحترام کرنے کی توفیق بخشے )

 

جب پارلیمنٹ میں بر سر اقتداراسلام دشمن بھارتی جنتا پارٹی تین طلاق بل پاس کررہی تھی تو مسلمانوں کے پیدائشی اور سچے مسیحا جو ۷۰سال سے مسلمانوں کو غلام بناکر مسلمانوں کا ووٹ لیکر ہندوستان پر راج کرنے والی قانغڑیش لالو مایاوتی ملائم اور اپنی اپنی پارٹی کے غلام مسلم ایم پی اور نام نہاد دیگر سیکولر پارٹیاں اپنی خاموشی کے ذریعہ بی جے پی کی تائید کر رہی تھیں

 

لیکن تن تنہا اکیلے اویسی نے اپنی ایمانی جرأت کا ثبوت پیش کیا دلائل و براہین کے ذریعہ تین طلاق بل کو رد کرادیا

 

پھر بھی ہماری قوم کے ٹھیکیداروں کو اویسی صرف بھڑکاؤ بھاشن دینے والا نظرآتا ہے

آپ ہی بتائیں کیا اپنے مذہبی حقوق کے لئے پارلیمنٹ میں بحث کرنا بھڑکاؤ بھاشن دینا ہے؟

 

آج ہندوستان میں کسی بھی مسلمان کو پاکستانی کہکر مار دیا جارہا ہے بغیر کسی ثبوت کے ہندوستانی پولس ہندوستانی مسلمانوں کو پاکستانی بتاکر جیل میں ڈال کر زندگی برباد کردے رہی ہے

 

وہ اکیلا اویسی تھا جو اپنی قوم کا درد سمجھتے ہوئے

پارلیمنٹ میں مطالبہ کیا جو کوئی ہندوستانی مسلمانوں کو پاکستانی کہے اسے پانچ سال کی جیل کی سزا ہونی چاہیے سب نے مذاق اڑایا اور مسلمانوں کے سچے مسیحا قانغڑیش لالو مایاوتی ملائم جیسے مسلمانوں کے ہمدرد خاموش رہ کر مذاق اڑانے والوں کا ساتھ دے رہے تھے

 

پھر بھی ہماری قوم کو اویسی کے کام اور قربانیاں صرف فیس بک تک ہی محدود نظر آتے ہیں

 

ماب لنچنگ میں سینکڑوں مسلمان شہید ہوگئے ہر بار اویسی نے آوز بلند کی

پھر بھی ہماری قوم کو اویسی قوم کا غدار نظر آتا ہے

 

اسلام اور مسلمانوں کے تعلق سے بی جے پی اور آرایس ایس کے کتنے ناپاک عزائم اور منصوبے ہیں یہ کسی سے پوشیدہ نہیں

 

اور اسلام دشمن سیاست کا مقابلہ کرنے کے لئے مسلمانوں میں اویسی سے بڑا بےباک تعلیم یافتہ بھرپور سیاسی بصیرت رکھنے والا کوئی سیاسی لیڈر موجود بھی نہیں ہے

 

اپنی ذاتی اور وقتی مفاد کے لئے آج اویسی کو قبول نہ کرنا ہماری قوم کی سب سے بڑی نادانی ہوگی جس کی تلافی صدیوں تک نہیں ہو سکتی

 

در حقیقت اویسی سے بی جے پی اور قانغڑیش دونوں کو برابر کا خطرہ لاحق ہے

 

جہاں بی جے پی کے باطل عزائم کے سامنے اویسی کا ایمانی چٹان حا ئل ہے

وہیں قانگڑیش کا مسلم ووٹ اویسی کی طرف جاتا ہوا نظر آرہاہے

یہی وجہ ہے کہ قانغڑیش اویسی کو بی جے پی کا ایجنٹ کہ کر مسلمانوں کو گمراہ کررہی ہے اور بی جے پی اویسی کو پاکستانی کہ کر ہندوؤ ں کو گمراہ کر رہی ہے

اور جس مسلم ووٹ کے لئے قانغڑیش اویسی کو بی جے پی کا ایجنٹ کہتی ہے وہی مجبوری ہر نام نہاد سیکولر پارٹیوں کے سامنے بھی ہے جو مسلم ووٹ کے ذریعہ ستا کی ملائی کھاتی رہی ہیں چاہے لالو ہوں یا مایاوتی ہوں یا ملائم ہوں اسی ڈر سے یوپی میں گٹھبندھن میں اویسی کو شامل نہیں کیا گیا

 

اسلئے ہر پارٹی والے اویسی کے خلاف ہیں کیوں؟

کیونکہ وہ نہیں چاہتے کہ مسلمانوں کا کوئی قائد پیدا ہو مسلم قیادت مضبوط ہو

 

عام مسلمان تو آج ۷۰ سال بعد بھی اپنی قوم کے کسی سچے قائد کا منتظر ہے یہی وجہ ہے کہ ہر اس لیڈر کو اپنا مسیحا مان لیتا ہے جو اس کے حقوق اور مذہب کی تھو ڑی سی بھی بات کریتا ہے اگر عام مسلمان اویسی کو پہچان جائے تووہ ضرور اویسی کو اپنا قائد تسلیم کرلیگا لیکن عام مسلمانوں کو خاص مسلمان گمراہ کررہے ہیں اور اویسی سے انھیں بد ظن کر دے رہے ہیں

 

یہ خاص مسلمان وہ ہیں جو پڑھے لکھے ہیں کسی عہدے اور منصب پر فائز ہیں یا سیکولر پارٹیوں کی ریلیوں میں جھنڈا اٹھاکر دری بچھاکر جوتا اٹھاکر اپنے سماج میں کچھ حیثیت بنا لئے ہیں

 

یہ قوم کے ملت فروش پھر بھی قوم کی نگاہ میں معزز افراد قوم کو بی جے پی کاڈر دکھا کر اپنے مطلب کے امیدوار کو عام مسلمانوں کا ووٹ دلاکر اس پارٹی یا اس امیدوار سے اپنا ذاتی اور وقتی قلیل فائدہ نکال لیتے ہیں اور اپنی قوم کو پانچ سال کے لئے اور پیچھے ڈھکیل دیتے ہیں

 

ظاہر سی بات ہے ایسے ملت فروشوں کے لئے اویسی کے دل میں کوئی جگہ تو ہے نہیں

تو بھلا قوم کے ایسے غدار اویسی کو بھی غدار نہیں بولیں گے تو کیا اویسی کو قوم کا مسیحا بول کر اپنی کمائی کے پیر میں کلہاڑی ماریں گے

 

لیکن آج ہماری قوم کی تعلیم یافتہ نسل نو قانغڑیش کے ساتھ ساتھ ۷۰ سال سے مسلمانوں کا استحصال کرنے والے سبھی نام نہاد سیکولر پارٹیوں کی غلامی سے آزاد ہونا چاہتی ہے اور خود کی اپنی قیادت چاہتی ہے اور یہ ہندوستان میں ناممکن نہیں ہے کل تک اویسی پارلیمنٹ میں اکیلے اپنی قوم کے لئے آوز بلند کرتے تھے آج اگر ہماری قوم نے امتیاز جلیل اور اختر الایمان کو جتادیاتو کل تین ہو جائیں گے پھر مستقبل میں تیرہ بھی ہوسکتے ہیں

 

اور انشاءاللہ بہت جلدقومی قیادت کاوہ سورج طلوع ہونے کو ہے جس کی روشنی میں ہندوستانی مسلمان اپنے سچے اور مخلص قائد کی ماتحتی میں جمہوریت کی جنگ لڑینگے اور اپنے حقوق مانگ کر نہیں چھین کر حا صل کر لیں گے

اورہندوستانی مسلمانوں کے سچے قائد کا نام ہوگا

نقیب ملت قائد اعظم جناب بیرسٹر اسدالدین اویسی صاحب

فیاض احمد برکاتی مصباحی کشی نگر یوپی انڈیا