ایک المیہ ایک فکر

14

الله رب العالمین نے مسلمانوں کو دنیا میں جوبھی عزت و رفعت اور شان وشوکت عطا فرمائی وہ دین اسلام پر ثابت قدم رہنے اور اپنے رسول صلی الله علیہ وسلم کی سنت پرعمل کرنے سے حاصل ہوئی تھی اور جب بھی تاریخ اسلام کے کسی دور میں مسلمانوں نے اسلامی نظام حیات کو ترک کیا اور راہ سنت سے منحرف ہوئے تو پھر دیر سویران کا انجام انتہائی بھیانک ہوا ، خلافت عباسیہ کا انحطاط و زوال اور تاتاریوں کی یلغاراورقتل و غارتگری کی داستان پڑھئے یا پھر اندلس میں بنوامیہ کے چھ سو سالہ اقتدار کی کہانی اور ان کے سقوط کی داستان پر نظر ڈالئے اور چھٹی صدی ہجری میں صلیبی عیسائیوں کی یورش اور چھوٹی چھوٹی مسلم ریاستوں کے باہمی اختلافات ، منافقانہ کردار کا مطالعہ کیجئے اس دور کے حکمرانوں نے اپنی عزت عظمت کا سامان دوسرے مذاہب کے اصولوں یا پھر اپنی نفسانی خواہشات کے تابع ہوکر دین اسلام سے عملی انحراف میں تلاش کرنا شروع کر دیا تھا ، عیش وعشرت لہوولعب، رقص و سرور میں گم ہو گئے تھے اور مسلکی و فرعی اختلافات و مناظرات میں پڑ کر اپنی وحدت و اجتماعیت کی چادر کو چاک کر بیٹھے تھے ۔ اور یہ بھی ایک مسلمہ تاریخی حقیقت ہے جس کا جھٹلانا ممکن نہیں ہے کہ مسلمانوں اور کافروں کی طاقتیں یکجا نہیں ہوسکتیں ، جب جب مسلمانوں کو غلبہ حاصل ہوا تب تب دشمنوں کو شکست فاش ہوئی اور غیروں نے جب عیاری و مکاری ، دغا بازی فریب کے ذریہ طاقت اور غلبہ حاصل کیا تو مسلمان تاش کے پتوں کی طرح بکھر گئے اور ان کی شان و شوکت اور عزت و جلال کا جنازہ نکل گیا ، اور جب آہستہ آہستہ علم کے اسلحہ میں زنگ لگنے لگا اور دینی علوم کی طرف سے مسلمانوں کی بے رغبتی بڑھتی گئی، باہمی تعلقات کافی خراب اور تشویشناک ہو گئے تو آخر 1921 میں وہ نا مبارک ساعت آپہونچی جب مصطفی کمال اتاترک نے خلافت عثمانیہ کے تابوت میں آخری کیل ٹونک دی ، اور اس کے خاتمہ پر مہر لگ گئی ، جبکہ مسلمانوں کی روشن تاریخ گواہ ہے کہ خالی اتحاد اور استقامت على الله واخلاص وللہیت کی بدولت ، امت محمدیہ نے دنیائے انسانیت میں تاریخ ساز ، حیرت انگیز انقلاب برپا کیا ، سب سے پہلے جزیرہ نمائے عرب سے لاقانونیت ، بدامنی ، غارت گری ، انارکی ، درندگی کو ختم کرکے صحرائے عرب کو اسلامی وحدت کا مرکز بنادیا ، اسلام نے اپنے آفاقی تعلیمات کے ذریعہ منتشر ومتحارب گروپوں اور جنگ و جدال میں برباد ہوتے قبائل کوکلمہ توحید کی بنیاد پر ایسا مربوط و ثابت قدم کردیا کہ وہ ایک جسم و جان بن کر ابھرے اور ساری دنیا پر چھاگئے ، ایک ایمانی فضا قائم کی ، الله کی الوہیت و روبوبیت، رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی رسالت و قیادت اور اسلام کی حقانیت و صداقت پر کامل یقین ، امت محمدیہ کا تشخص و امتیاز بن گیا تھا اور یہی جذبہ ان کو دنیائے فانی کی حرص ، اقتدار کی ہوس اور منصب و مرتبہ کالالچ سے بے نیاز بنائے ہوئے تھا کہ کبھی بھی جاہ ومنصب کے لیے محاذ آرائی اور اپنے کونمایاں کرنے کی خواہش ان میں پیدا نہ ہو سکی ، عہداول وقرون ماضیہ کے مسلمانوں کی یہی صفت دشمنوں کے لیے سب سے خطرناک چیز تھی وہ اپنی تمام تر سازشوں اور کوششوں سے بھی اسلامی وحدت کو نہیں توڑ کے ، نتیجہ ظاہر تھا کہ مسلمانوں کو ہر میدان میں فضیلت و برتری، فتح و غلبہ حاصل تھا ، اس وحدت کی روح کلمہ توحید اور اسلامی نظام حیات تھا ۔ جس ماحول اور معاشرہ میں اسلام کی تعلیمات اور خدائی اصولوں کی مکمل پاسداری کی گئی اور رسول اکرم صلی الله علیہ وسلم کے متعین کردہ خطوط وحدود کے اندر ہی رہ کر زندگی گذارنے کی کوشش کی گئی وہ ماحول اور معاشرہ امن و سکون کا گہوارہ بنارہا ، اس معاشرہ کے ہر ہر فرد کو اطمینان قلب اور ذہنی سکون میسر رہا ہے ۔ معاشرتی بگاڑ اور ماحولیاتی پراگندگی میں سب سے اہم چیز جو موثر ہوتی ہے وہ تعلیم اور اس کا صحیح رخ متعین نہ کرنا ہے ، اور آج اسی عنوان سے اسلام دشمن طاقتیں دین و ایمان پر حملہ کر رہی ہیں، صورت حال یہ ہے کہ دشمنوں نے تعلیم کارشتہ دین الٰہی اور دین سماوی سے توڑ دیا ہے اور کفر و الحاد، دہریت و بدینی سے جوڑ دیا ہے ، وہ ہر روز مسلمانوں کا رشد قرآن وسنت سے قطع اور جدا کرنے کی نئی نئی ترکیبیں سوچتے رہتے ہیں یہودی اور عیسائی ہمارے تعلیمی نظام کو تہہ وبالا کرنے کیلئے کمربستہ ہو چکے ہیں ، یہودیوں کے پروٹولوکز میں ہے : "غیر یہود کے نظام تعلیم میں ایسے اصولوں کو شامل رکھنا چاہئے جو اس نظام کے نظم ونسق کو تہہ وبالا کرنے کے موجب ہوں” جامع ازہر کے بہت سے دینی مکاتب بند کر دئے گئے اور قرآن پاک کی بہت ساری آیتوں کی تعلیم روک دی گئی، نئی مسجدوں کے تعمیر پراتنی ساری پابندیاں عائد کردی گئیں کہ لوگ آسانی سے نئی مسجدیں نہ بنا سکیں ۔ انہیں سازشوں کا نتیجہ ہے کہ اب علم کی دنیا میں بددنی ، بد تہذیبی و بد اخلاقی ، مادیت پرستی حرص وطمع نے چڑیں پکڑلی ہیں ۔ اور آج دین اسلام خود مسلمانوں کے درمیان اجنبی ہوتا چلا جارہا ہے ، بڑے افسوس کی بات ہے کہ آج مسلمانوں کے بچے بچیوں کا قرآن صحیح نہیں ہے ، اسلام کی بنیادی معلومات وضو ، نماز ، روزہ وغیرہ سے وہ غامل ہیں ، وجہ کیا ہے ؟ اس تنزل وانحطاط کا سبب کیا ہے ؟ اصل اور بنیادی وجہ یہ ہے کہ جس چیز کی اہمیت آدمی کے دل میں بیٹھے جاتی ہے وہ چیز اس کے لئے اصل بن جاتی ہے اور اس کا مطمح نظر بن جاتی ہے ، اگرچہ وہ چیز حقیقت میں نقصان دہ اور ضرر رساں ہو ، چنانچہ آج لوگوں کے قلوب مادیت پرست ہو گئے ہیں اور دنیا کی محبت ان کے دلوں میں گھر کرگئی ہے ، اس لئے حلال و حرام اور جائز و ناجائز کی تفریق کئے بغیر دولت سمیٹے کی تگ و دٙو میں لگے ہوئے ہیں ۔ دشمنان اسلام نے ہمارے دلوں میں دنیاوی تعلیم کی اہمیت راسخ کردی ہے، تو اب ہمہ تن اسی کی طرف متوجہ ہو گئے ہیں ، اس سے قطع نظر کرتے ہوئے کہ ہم بددین ہو جائیں یا ہمارے اخلاق داغدار ہو جائیں ، یا ہم پریشانیوں کے اس جزیرہ میں پھنس جائیں جس کے ہر طرف پانی ہی پانی ہونکلنے کا کوئی راستہ نہ ہو ۔ ایسا نہیں ہے کہ ہمیں انگریزی تعلیم اور دنیوی فنون کی ضرورت نہیں ، یقینا اس کی ضرورت ہے اور اشد ضرورت ہے ، لیکن کیسی چیز کی ترقی و تنزلی میں گائڈ اور رہنما کا اہم رول اور کردار ہوتا ہے ، اور ہمارے لئے رہنما کتاب وسنت ہے ۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم مکاتب کا مضبوط جال بچھا کیں ، اور اس میں باصلاحیت اساتذہ مقررہ کریں ، حالات وزمانہ کے اعتبار سے ان کی معاشی ضروریات اور تقاضوں کو پورا کیا جائے تاکہ وہ معاش سے بے فکر ہو کر ہمارے نونہالوں کے ذہن ودماغ پر ، اور دل و جگر میں بنیادی نقوش راسخ کر دیں ، اور بدینی کی لہروں اور بد اخلاقی کے طوفانوں میں بھی ہماری یہ نئی نسل ثابت قدم رہ سکے ۔

نہ دین کے ہوئے محسن ہم اور نہ دنیا کے
بتوں سے ہم نہ ملے اور ہمیں خدا نہ ملا