کرامتِ حسین دیکھ کر بھی نہ کھلی آنکھ یزیدیوں کی!

31
جاوید اختر بھارتی

یوم عاشورہ ہے،، محرم الحرام کی دس تاریخ ہے نواسہ رسول، جگر گوشہ بتول امام حسین خطبہ دے رہے ہیں، اپنا تعارف بتارہے ہیں، حق و باطل کی پہچان کرارہے ہیں لیکن دشمنانِ اہلبیت آپ کے خون کے پیاسے ہیں، حق بات سننے کے لئے تیار نہیں ہیں بلکہ لعن و طعن کر رہے ہیں آپ کے حسب نسب پر بھی انگلی اٹھا رہے ہیں دشمنوں کے گروہ میں سے ایک بدبخت اپنے گھوڑے کو کداتا ہوا سامنے آتا ہے جس کا نام مالک بن عروہ بتایا جاتا ہے جب اس نے دیکھا کہ خیمہ امام کے گرد خندق میں آگ جل رہی ہے اور شعلے بلند ہورہے ہیں اور اس تدبیر سے اہل خیمہ کی حفاظت کی جارہی ہے تو اس گستاخ بدباطن نے حضرت امام حسین سے کہا کہ اے حسین! تم نے وہاں کی آگ سے پہلے یہیں آگ لگالی معاذاللہ اس کے کہنے کا مطلب یہ تھا کہ جہنم میں آگ میں جانے سے قبل تم نے دنیا میں آگ جلا لی امام عالی مقام نے کہا کہ کذبت یا عڈوالللہ اے خدا کا دشمن تو جھوٹا ہے تجھے گمان ہے کہ میں دوزخ میں جاؤنگا – حضرت مسلم بن عوسجہ کو اس بدبخت کی بات سن کر بہت غصہ آیا اور انہوں نے اس بدزبان کے منہ میں تیر مار نے کی امام پاک سے اجازت مانگی لیکن امام حسین نے اجازت نہیں دی مگر اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ہاتھ اٹھا کر دعا کی یا الہ العالمین نارِ جہنم سے پہلے اس گستاخ کو دنیا کے اندر آگ کے عذاب میں مبتلا کردے امام کا ہاتھ اٹھانا تھا کہ اس کے گھوڑے کا پاؤں ایک سوراخ میں گیا اور وہ بدبخت گھوڑے سے گرا اور اس کا پاؤں رکاب میں الجھ گیا گھوڑا اسے لے کر بھاگا اور لے جاکر اسی آگ میں ڈال دیا –
حضرت امام نے سجدہ شکر ادا کیا، اپنے پروردگار کی حمد و ثنا کی اور عرض کیا کہ اے پروردگار تیرا شکر ہے کہ تونے اہلبیت رسالت کے بدخواہ کو سزا دی،، حضرت امام کا یہ جملہ سن کر دشمنوں کی صفوں میں سے ایک اور بدبخت سامنے آتا ہے اور کہتا ہے کہ آپ کو رسول اللہ سے کیا نسبت؟ یہ جملہ تو حضرت امام کے لئے انتہائی تکلیف دہ تھا آپ نے بارگاہ رب ذوالجلال میں عرض کیا کہ اے اللہ،، اس بدبخت و بدزبان کو فوراً ذلت میں گرفتار فرما جب امام نے یہ دعا فرمائی تو اسے قضائے حاجت کی ضرورت پیش آئی وہ گھوڑے سے اتر کر ایک طرف بھاگا اور قضائے حاجت کے لیے برہنہ ہوکر بیٹھا تو ایک سیاہ بچھو نے ڈنک مارا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ نجاست آلودہ تڑپتا پھرتا تھا اسی رسوائی کے ساتھ پورے لشکر کے سامنے اس بدبخت کی جان نکلی مگر سخت دلان بے حمیت کو غیرت نہ ہوئی –
ایک اور یعنی تیسرا شخص آتا ہے اور سامنے آکر کہتا ہے کہ اے حسین دیکھو تو یہ دریائے فرات ہے اس کی روانی کو دیکھو کتنی موجیں ماررہا ہے، اس کا پانی چرند پرند سب پی سکتے ہیں مگر میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ تمہیں اس دریائے فرات کا ایک قطرہ بھی نہیں ملے گا اور تم پیاسے ہی مرجاؤگے حضرت امام نے اس کے لیے بھی بددعا کی،، اے اللہ اس کو پیاسا مار،، امام کا یہ فرمانا تھا کہ اس کا گھوڑا بدکا اور وہ گھوڑے سے زمین پر گرا اور گھوڑا بھاگنے لگا اور وہ بھی اپنے گھوڑے کو پکڑ نے کے لیے بھاگ رہا ہے پیاس کی ایسی شدت بڑھی کہ العطش العطش پکارتا تھا اور جب پانی اس کے منہ میں لگاتے تھے تو وہ ایک قطرہ بھی نہیں پی پاتاتھا یہاں تک کہ اسی پیاس کی شدت میں تڑپ تڑپ کر مرگیا –
نواسہ رسول کو یہ بات بھی دکھانی تھی کہ ان کی مقبولیت بارگاہِ حق پر اور ان کے قرب و منزلت پر جیسے کہ نصوص کثیرہ اور احادیث شہیرہ شاہد ہیں ایسے ہی ان کی کرامات بھی گواہ ہیں –
اپنے اس فضل کا عملی اظہار بھی اتمام حجت کے سلسلے کی ایک کڑی تھی کہ اگر تم آنکھ کھلی رکھتے ہوتو دیکھ لو کہ جو ایسا مستجاب الدعوات ہے اس کے مقابلے میں انا اللہ سے جنگ کرنا ہے اس کا انجام سوچ لو اور باز رہو لیکن شرارت کے مجسمے، فسق و فجور میں مست، دنیاوی دولت اور شہرت کی لالچ میں اندھے اس سے بھی سبق نہ لے سکے اور اہلبیت کے خون سے اپنے ہاتھوں کو رنگ لیا،، سر تن سے جدا ہوکر بھی قرآن کی تلاوت کرتا رہا یہودیوں تک نے سنا مگر یزیدیوں کو سنائی نہیں دیا، سر تن سے جدا اور لٹا ہوا قافلہ دیکھ کر کتنے لوگ اسلام قبول کر لئے اور جو پہلے سے اسلام کے ماننے والے تھے ان سبھوں نے اپنے نبی کے نواسے کو قتل کر دیا اس کے باوجود بھی یزید مٹ گیا اور حسینیت آج بھی زندہ اور یہ تو اسی دن ثابت ہوگیا تھا بلکہ اللہ رب العالمین کی جانب سے اعلان ہوگیا تھا جب دس محرم وقت عصر نواسہ رسول امام حسین رضی اللہ تعالٰی عنہ کو شہید کر دیا گیا تو اس کے بعد کالی بدلی چھائی اور کالی آندھی بھی آئی یہ اس بات کا اعلان تھا کہ اے ظالموں تمہاری زندگی تاریک ہوگئی تمہارا مستقبل تاریک ہوگیا تمہارا دل سیاہ ہوگیا اور شہادت کے بعد ایسا بھی لمحہ پیش آیا کہ کربلا کے میدان میں صرف شہدا کی لاشیں اور خیمہ اہلبیت تھا یہ بھی ایک طریقے سے اشارہ تھا کہ اے دشمنانِ آل نبی میدان میں لاشیں ہی سہی لیکن کوئی موجود ہے تو وہ آل نبی کا گھرانہ ہے، اور اب  قیامت تک عزت و احترام کے ساتھ نام باقی رہے گا تو انہیں آل نبی کا نام ہی باقی رہے گا اور ہر قوم پکارے گی کہ ہمارے ہیں حسین اور تمہارے اوپر دنیا لعنت بھیجے گی کیونکہ تم نے جنت کے جوانوں کے سردار کو شہید کیا ہے، خاتونِ جنت کے لخت جگر کو شہید کیا ہے، شیرِ خدا کے نورِ نظر کو شہید کیا ہے اور حد تو یہ ہے کہ تم جس نبی کا کلمہ پڑھ تے ہو، جس نبی پر نازل کئے گئے قرآن کی تلاوت کرتے ہو جس نبی کا نام اذان میں بھی لیتے ہو اسی نبی کے نواسے کو تم نے بھوکا پیاسا رکھ کر شہید کیا ہے امام حسین رضی اللہ تعالٰی عنہ کی وہ شان ہے کہ سر کٹا کر دین اسلام کو سربلندی عطا کردی یعنی ظاہری طور پر بھلے ہی یزید جنگ جیتا ہو لیکن اپنے مقاصد میں ناکام ہوگیا اور قیامت تک اب یہی نعرہ لگے گا حسینیت زندہ باد،، یزیدیت مردہ باد –