امیر جماعت اسلامی ہند سید سعادت اللہ حسینی صاحب کا قیمتی تبصرہ

19
آج صبح فری وقت میں اس بحث پر نطر پڑی تو جی چاہا کہ کچھ باتیں اس سلسلہ میں عرض کروں:
قرآن کتاب ہدایت و تزکیہ ہے، اس کا مطلب یہ بھی نکالا جاسکتا ہے کہ یہ اخلاقی نصائح اور روحانی مواعظ کے مجموعہ کا نام ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ بات صحیح نہیں ہے۔انسان، زندگی کے ہر شعبہ میں ہدایت و رہنمائی کا محتاج ہے اور کتاب ہدایت وہی ہوسکتی ہے جو روحانی و اخلاقی پہلووں سے لے کر قانونی و سیاسی شعبوں تک، ہر محاذ ہر رہنمائی کرے اور ہر میدان میں انسان کا انفرادی اور انسانی سماجوں کا اجتماعی تزکیہ کرے۔دوسری طرف ہر میدان میں رہنما کتاب کا مطلب یہ نہیں ہے کہ کوئی ہر چھوٹے بڑے مسئلے کا حل یعنی بخار کی دوا اور ایروپلین کا ڈیزائن اور بازار کا راستہ قرآن میں تلاش کرتا بیٹھے۔بلکہ ایروپلین کا ڈیزائن انجینرنگ کی بھی ہر کتاب میں نہیں مل سکتا۔۔۔۔ہر علم کی مختلف سطحیں ہوتی ہیں۔۔۔۔اور ہر کتاب کسی بھی مضمون کو اپنی سطح پر ڈیل کرتی ہے۔۔۔میکانکس کی کتاب میں اعلیٰ سطح کے بعض اصول ملیں گے جن کا استعمال ڈیزائننگ میں اپنی عقل کو بروئے کار لاکر کرنا پڑے گا۔۔۔۔
قرآن ورلڈ ویو دیتا ہے۔ فلسفہ کے طلبہ جانتے ہیں کہ اونٹولوجی (وجودیات) ایکسیولوجی (قدریات) ایپسٹیمولجی (فلسفہ علم) میٹا فزکس (علم الغیب) یہ سب درلڈ ویو کی اہم بنیادیں ہوتے ہیں۔ قرآن ان سب کے بارے میں واضح اصولی رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ورلڈ ویو اور اس کے متذکرہ اجزا ، دنیا کے ہر علم کی بنیاد بنتے ہیں۔سائنس و ٹکنالوجی سمیت دنیا کے ہر علم کی فلسفیانہ بنیادیں ہوتی ہیں۔ (بلکہ اب بہت سی یونیورسٹیوں میں ہر شعبہ علم میں حتی کہ انجنرنگ اور ٹکنالوجی میں بھی ، اس کی فلسفیانہ بنیادوں سے متعلق مباحث کو کورس کا حصہ بنایا گیا ہے) قرآن یہ بنیادیں نہایت موثر طور پر فراہم کرتا ہے۔ اس لئے ہر علم کے لیے اصولی اور اساسی رہنمائی اور بنیادی سمت، قرآن سے ملتی ہے۔ قرآن سے رجوع کی ضرورت صرف روحانیات اور اخلاقیات ہی میں نہیں بلکہ معاشیات، سماجیات قانون، سائنس ہر جگہ ہے۔
قانون کی کتاب کا مطلب صرف مجموعہ قوانین یا کسی قانون کا دفعہ وار متن ہی نہیں ہوتا ۔ فلسفہ قانون، قانونی تجزیئے، عدالتوں کے فیصلوں پر تبصرے وغیرہ وغیرہ سب قانون ہی کی کتابیں ہوتی ہیں، اسی طرح فلسفہ کی وہ کتابیں جو قانون کا کلاسیکی سرچشمہ بنتی ہین وہ بھی قانون دانوں کی دلچسپی کا باعث ہوتی ہیں اور قانون دانوں کو انہیں پڑھنا اور پڑھانا پڑتا ہے ۔ یہ بات کہ قرآن اسلامی قانون کا اہم ترین اور اولین سرچشمہ ہے، یہ فقہ کا بھی پہلا درس ہے اور ماڈرن لاء کے طلبہ بھی محمڈن لاء کے پہلے سبق ہی میں یہ بات پڑھتے ہیں۔ جدید قانون سازی میں بھی بہت سے کلاسیکی سرچشموں سے استفادہ کیا جاتا ہے۔انہیں قانون کی بھی کتابیں مانا جاتا ہے۔ قرآن کے تعلق سے اے کے بروہی نے جو کچھ کہا ہے وہ دنیا کے تمام قانون دان مانتے ہیں۔ امریکی سپریم کورٹ میں آن حضرت کا ایک خیالی مجسمہ، قرآن کو تھامے ہوئے The Greatest Lawgivers of the World کی فہرست میں موجود ہے۔(واضح رہے کہ یہ اس سیکولر مفروضہ کی بنیاد پر ہے کہ قرآن نعوذ باللہ آن حضرت کی تصنیف ہے)
یہی معاملہ دستور کا بھی ہے۔ دستور کی کتابِ، صرف دستور کی دستاویز کو نہیں کہتے بلکہ قانونِ دستور Constitutional Law کے متعدد ذیلی موضوعات پر کتابیں موجود ہیں۔ اور پھر،دنیا کے تمام دساتیر میں نظام حکومت کی تفصیل، اور انتخاب و معزولی وغیرہ وغیرہ کی تفصیل نہیں ہے۔ہمارے ملک کا دستور دنیا کا طویل ترین دستور ہے۔ امریکہ کے دستور میں صرف سات دفعات ہیں اور اس سے بھی بہت کم باتیں ہیں جو قرآن میں ملتی ہیں۔ دستور ایک مستقل رہنما دستاویز ہوتا ہے اس لئے حالات کے لحاظ سے طئے کیا جاتا ہے کہ اس میں کتنی اور کیا باتیں بیان کی جائیں؟ کن باتوں میں تفصیل اختیار کی جائے اور کن میں اجمال، کہاں مکمل قانون بیان کردیا جائے اور کہاں اصولی رہنمائی پر اکتفا کیا جائے؟
قرآن قیامت تک کے ، اور ہر علاقہ کے انسانوں کے لئے رہنما کتاب ہے۔ اس لئے انسانی زندگی کے جو مستقل اور غیر تغیر پذیر عناصر ہیں، ان سے وہ تعرض کرتا ہے۔ جو رہنمائی ہر زمانہ اور ہر علاقہ کے انسان کے لئے موزوں ہے، اسے وہ تفصیل سے بیان کرتا ہے اور جو باتیں زمان و مکان کے اعتبار سے تغیر پذیر ہیں ان کے سلسلہ میں اصولی رہنمائی دیتا ہے۔ جھوٹ، زنا، چوری ہرزمان و مکان کے انسان کے لئے مضر ہے اس لئے ان کے بارے میں تفصیلی احکام دیئے ہیں۔ یہی معاملہ نکاح و طلاق، وراثت وغیرہ کے احکام کا ہے بعض فوجداری معاملات بھی اسی طرح کے ہین باقی یہ کہ حکمران کا انتخاب کیسے ہو؟ ٹرافک کیسے مینیج کی جائے؟ وغیرہ ان کا تعلق تغیر پذیر معاملات سے ہے۔ان کے تعلق سے اصولی رہنمائی دی گئی ہے اور تفصیلات کو انسانی عقل پر اجتہادی عمل کے لئے چھوڑا گیا ہے۔۔۔۔۔۔
اس لئے قرآن کی رہنمائی کی ضرورت قانون، معاشیات، سیاسیات، سائنس پر میدان میں ہے۔۔۔سماجی علوم سے متعلق ہر شعبہ علم کی واضح بنیادیں قرآن فراہم کرتا ہے۔۔۔یہ ان علوم سے متعلق صرف کچھ ادھر ادھر کی باتوں کا ابن صفی کی ناولوں کی طرح تذکرہ نہیں کرتا بلکہ ان کی ٹھوس فلسفیانہ بنیادیں (Ontological, Axiological, and Epistemological Foundations) فراہم کرتا ہے۔۔۔۔اس طرح یہ ایک مکمل کتاب ہدایت ہے