سہرسہ : ٣/ ستمبر: مشہور علمی شخصیت، امارت شرعیہ کے قاضی شریعت، مدرسہ رحمانیہ سوپول کے سابق شیخ الحدیث مولاناقاسم مظفرپوری کے انتقال پر آج سمری بختیارپور کے رانی باغ جامع مسجد میں تنظیم ائمہ مساجد سہرسہ کے زیراہتمام تعزیتی نشست کاانعقادکیاگیا جس میں علاقہ کے سرکردہ علماء، ائمہ اور اہم شخصیات نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

تعزیتی نشست کی صدارت مفتی سعیدالرحمن قاسمی نائب صدرمفتی امارت شرعیہ پٹنہ اور نظامت وژن انٹرنیشنل اسکول سہرسہ کے ڈائریکٹر و صحافی شاہنوازبدرقاسمی نےکی۔

اس موقع پر مفتی سعیدالرحمن قاسمی نے اپنے صدارتی خطاب میں مولانامرحوم سے اپنے گہرے مراسم کوبیان کرتے ہوئے کہاکہ مولاناکے ساتھ ہمارے کئی اسفارہوئے اورامارت میں بھی بارہاں ملاقاتیں ہوتی رہیں،اس دوران ہم نے ان کے علمی مقام کواس درجہ پرپایاکہ وہ تفسیر،حدیث اورفقہ کے ساتھ عربی ادب میں بھی بڑی مہارت رکھتے تھے،فقہ اکیڈمی کے سیمیناروں میں ان کے مقالات کوکافی اہم دی جاتی تھی۔انہوں نے کہاکہ مولانامرحوم اختلافی باتیں اوردوسروں کی ادنی سی بھی برائی سنناپسند نہیں کرتے،آج ہماراحال یہ ہے کہ ہم اپنی کمی نہیں دیکھتے ،چھوٹی چھوٹی باتوں پرعلماء کولعن طعن کرنے لگتے ہیں،انہوں نے کہاکہ خدارا علماء کی توہین سے بازآجائیے ورنہ علماء کاوہ مقام ہے کہ ان کی توہین سے ایمان بھی سلب ہوسکتاہے۔انہوں نے کہاکہ وہ اللہ کے ولی تھے اوربافیض عالم تھے،کار قضامیں اتنے ماہرتھے کہ مرکزی دارالقضاکے کسی فیصلے پرکسی فریق کواطمینان نہیں ہوتاتووہ معاملہ امیرشریعت کے پاس جاتااورامیرشریعت مولانامرحوم کوہی اس معاملے کی تصفیہ کی ذمہ داری دیتے۔علاقہ کے مشہور عالم دین مولانامظاہرالحق قاسمی نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہاکہ مولاناقاسم صاحب سفرمیں بھی اپنے علمی مشاغل جاری رکھتے۔

وہ نام ونمود سے بے پرواہ ہو کر للہیت کے ساتھ دینی خدمات کے انجام دہی میں منہمک رہتے۔

مفتی نصراللہ قاسمی نے کہا کہ دھیرے دھیرے ہمارے درمیان سے صالح علماء اٹھتے جارہے ہیں ،ایسے وقت میں ہمیں اپنے صالح معاشرہ کے وجود کے لیے یہ دعاء کرنی چاہیے کہ اللہ ہمیں ایک صالح عالم عطافرمادے جس کے زیرسایہ رہ کر آپ کی شریعت پرمکمل کاربندرہ سکوں۔لیکن ہم نے توعلماء کی قدرہی کرناچھوڑدیاتواس طرح کی دعاء کی توفیق ہمیں کہاں میسرہو۔انہوں نے کہاکہ خداکی قسم علماء کی توہین کرکے اوران سے رشتہ منقطع کرکے آپ کامیابی کاتصورکرہی نہیں سکتے۔جامعہ رحمانی کے استاد مولاناسیف الرحمن ندوی نے کہاکہ کوروناوائرس کی زدمیں جب سے ہماراملک آیاہے تب سے مسلسل ہمارے اکابرعلماء ہمارے درمیان سے گزرتے جارہے ہیں۔ایسے دورمیں جوتھوڑے بہت علماء رہ گئے ہیں ان کی سلامتی کے لیے دعاء کریں اوراپنے ہرمعاملے کے حل کے لیے ان سے رجوع کریں اوریہ بھی دعاء کریں کہ ہمارے درمیان ہمیشہ ایسے بافیض اورصالح علماء رہے جن کے زیرسایہ رہ کر ہماری اگلی نسل بھی دین وشریعت پرکاربندرہ سکے۔مولاناضیاء الدین ندوی نے کہاکہ عوام کی گمراہی کاسبب عوام کاعلماء سے رابطہ کامنقطع ہوناہے۔اس لیے علماء سے اپنارشتہ استوارکیجیے اوران کی باتوں پرعمل کرنے کامزاج بنائیے۔وہیں مفتی فیاض عالم قاسمی نے کہاکہ کسی بزرگ شخصیت کے انتقال پرتعزیتی نشست منعقدکرکے صرف ان کے صفات وکمالات کوبیان کرنے پراکتفانہ کیاجائے بلکہ یہ فکراوڑھیں کہ ہمارے اورہمارے معاشرے کاہرفردان صفات وکمالات کاحامل کیسے بنے۔اس موقع پرتنظیم ائمہ مساجدکے صدرحافظ ممتاز رحمانی،مولانا سعید الرحمن قاسمی،مولانا انظرمفتاحی،مولاناافسرامام قاسمی،صحافی وجیہ احمدتصور،عقیل احمدعرف چاندبابو،چاندمنظرامام،ماسٹر سلطان احمد،حافظ فیروز عالم،قاری اخترسیٹن آباد، قاری وثیق الرحمن، حافظ نوشاد،مولانا جعفرامام قاسمی،حاجی منہاج عالم،دہلی اقلیتی کمیشن کے رکن و صحافی افضل ندیم وغیرہ موجود تھے۔