مکہ مسجد اور شاہی مسجد میں 5 ستمبر سے پنج وقتہ نمازوں کا اہتمام

75

وزیر داخلہ کا اعلیٰ سطحی اجلاس میں مختلف اُمور پر غور، 50 مصلیوں کی اجازت

حیدرآباد :۔ ریاستی وزیر داخلہ محمد محمود علی نے آج اپنے دفتر میں مکہ مسجد اور شاہی مسجد باغ عامہ میں پنج وقتہ نمازوں کے لیے اعلیٰ سطحی جائزہ اجلاس طلب کیا جس میں چارمینار رکن اسمبلی ممتاز احمد خاں ، یاقوت پورہ رکن اسمبلی احمد پاشاہ قادری ، قانونی مشیر برائے اقلیتی بہبود اے کے خاں ، پرنسپل سکریٹری ندیم احمد ، ڈائرکٹر برائے محکمہ اقلیتی بہبود شاہ نواز قاسم اور ڈسٹرکٹ میناریٹی ویلفیر آفیسر محمد قاسم نے شرکت کی۔ وزیر داخلہ نے دونوں مساجد کے متعلق معلومات حاصل کیں جس پر اعلیٰ عہدیداروں نے کہا کہ مکہ مسجد میں تعمیراتی کام جاری ہے جس کو جلد ہی مکمل کرلیا جائیگا ۔ مرکزی حکومت کے اَن لاک 4 کے قوانین کے مطابق دونوں مساجد میں 50 نمازیوں کی اجازت دی گئی ہے جس پر 5 ستمبر بروز ہفتہ سے عمل آوری ہوگی کیوں کہ مساجد میں صفائی کے کام کے علاوہ سنیٹائیزیشن کا کام بھی جاری ہے ۔ وزیر داخلہ نے عوام سے درخواست کی ہے کہ نماز کو آنے سے قبل اپنے گھروں سے باوضو آئیں ۔ ساتھ میں جائے نماز بھی لائیں ۔ نمازوں کے دوران ماسک کا استعمال کرتے ہوئے سماجی فاصلہ برقرار رکھیں ۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ مرکزی حکومت کے جاری کردہ اصولوں کے مطابق 10 سال سے کم اور 65 سال سے زیادہ عمر کے لوگ اپنے گھروں میں ہی نمازیں ادا کریں ۔ وزیر داخلہ نے عوام سے گزارش کی ہے کہ کورونا وائرس کے خاتمہ کے لیے احتیاطی تدابیر پرسختی سے عمل کریں کیوں کہ اب تک اس کی ویکسین تیار نہیں ہوئی ہے ۔ ویکسن کی تیاری تک احتیاط ہی کے ذریعہ اس کو پھیلنے سے روکا جاسکتا ہے ۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ موجودہ حالات کے پیش نظر عوام مرکزی حکومت کے جاری کردہ کووڈ 19 اصولوں کی پابندی کریں گے ۔یہاں یہ تذکرہ بیجا نہ ہوگا کہ لاک ڈاؤن کے بعد مساجد میں اجتماعی طور پر نمازوں کی ادائیگی پر پابندی عائد کی گئی تھی اور صرف پانچ افراد کو نماز ادا کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔