آہ! قاضی قاسم صاحب رح

32
آہ! قاضی قاسم صاحب رح

کسی کا اس دارفانی سے انتقال ہوجاتا ہے تو کہتے ہیں کہ” فلاں صاحب اللہ کو پیارے ہوگئےہیں”عام طورپرانہیں الفاظ میں وفات کی خبردی جاتی ہے۔آج  حضرت الاستاد قاضی قاسم صاحب مظفر پوری رحمة الله علیہ کے سانحہ ارتحال پر کسی نے مجھ سےیہی کہاتو اچانک زبان سے یہ بات نکل گئی :حضرت قاضی صاحب تو پہلے ہی سے اللہ کو پیارے تھے۔ایسا اس لئے ہوا کہ فقیہ نفس استاد گرامی قدر جناب حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی مدظلہ العالی کایہ جملہ قاضی صاحب مرحوم کےمتعلق ذہن میں محفوظ تھاکہ :اگر اس دنیا میں چلتے پھرتےکسی جنتی شخص کو تم دیکھنا چاہتے ہوتو  قاضی قاسم صاحب مظفر پوری کو دیکھ لو”معا بعد یہ بھی کہتے کہ اس وقت ملک بھر میں نصوص پر جتنی گہری نگاہ موصوف کی ہے ان کا کوئی ثانی نہیں ہے۔

المعہد العالی الاسلامی حیدر آباد کے طلبہ کو ملک کی مایہ ناز شخصیات سے روبرو ہونے کا قیمتی موقع نصیب ہوتا ہی رہتا ہے یہ کوئی نئی بات وہاں کے لئے نہیں ہے مگر افتاوقضا کے سال دوم کے طلبہ کو حضرت قاضی صاحب کے ورودمسعود کابالخصوص ابتدائے سال سے ہی بڑا اشتیاق رہتا، کچھ سالوں تک باضابطہ قضاء کی عملی تربیت دینےکے لئے اخیر سال میں قاضی صاحب زحمت سفرگوارہ کرتےاورالمہدالعالی الاسلامی حیددرآبادتشریف لایا کرتے، آپ کی آمدپر تعلیم کی تکمیل اور اسناد کی تقسیم کا قیمتی موقع بھی متعلق ہوا کرتا ۔سن ۱۴۲۷ھ میں جب ناچیز مذکورہ کلاس کا طالب علم تھا، حضرت قاضی صاحب تشریف لائےدرس میں شریک ہونے کا موقع ملا تواس کی وجہ سمجھ میں آئی اور آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں جب مرحوم کےہرہرلفظ سےقرآن بولتاہوامیرےکانوں نےسنا،رسول اللہ کافرمان نکلتے ہوئے میری آنکھوں نےدیکھا ،نصوص پردسترس اوربلاکی برجستگی یہ کسی مشین کی طرح معلوم ہوئی ،طالب علمی کی زندگی میں پہلی بارآپ جیسامکمل مستند شخصیت بحیثیت استاد وقاضي شریعت دیکھنے اور سننے کا موقع نصیب ہورہا تھا۔ آپ علوم قرآنی اورنصوص شرعی کےبحربیکراں تھے ،                              بقول شاعر      ع   سفینہ چاہئےبحربیکراں کےلئے ۔                     باوجود اس کے الوداعی نشست میں آپ یہ کہتے ہوئے ہم سے جدا ہوئے کہ :میں اس لئے نہیں آیا تھا کہ کچھ آپ کو دوں بلکہ اس لئے آیا تھا کہ آپ کی تحقیق ومطالعہ سے استفادہ کرسکوں، الحمد للہ اس سے فائدہ ہوا”

یہ قاضی صاحب کی  غایت درجہ کی خاکساری  ہے ،اور آپ کا یہ قول وعمل سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور سنت   صحابہ رضوان اللہ اجمعین کا سچا آئینہ دار ہے ۔ایک موقع پر مرحوم ومغفور نے ہم طلبہ معہد کو نصیحت کرتے ہوئے یہ قیمتی نصیحت دی کہ؛ درسگاہوں کی نسبت صرف شناخت کے ہے اور تعارف کے لئے ہے،آج تحقیر وتذليل کے لئے بھی اس نسبت کا استعمال کچھ لوگ کرنے میں لگے ہیں، یہ بہت گندی بات ہے۔کوئی عمری ہویاسلفی ، قاسمی ہویاندوی ،  مظاہری ہویا اشاعتی،سبھوں نے وہی قرآن پڑھا ہے ،اسی قرآن کی تفسیر پڑھی ہے۔ہمیں محتاط ہونا چاہیے کہ اس سے کسی کو تکلیف نہ پہونچ جائے، اس اہم صفت کوہمیں بحیثیت وارث نبی اپنا چاہئے جو نبی کی صفت ہے،قرآن نےکہاہے:لو كنت فظا غليظا الایہ( قرآن ) اہل اللہ اور اکابرین نے اسی سنت پر عمل کیا ہے اور ہمیں بھی آج کی تاریخ میں اسے اپنانے کی شدید ضرورت ہے ۔

ہمارے درمیان سے قاضی صاحب رحمة الله علیہ کا چلاجانا یہ ہم مستفیدین ہی کے لئے نہیں بلکہ پورے ملک وملت کا بڑا خسارہ ہے۔اس نازک ترین دور میں آپ جیسی علمی شخصیت اور قول وعمل کا جامع بزرگ ترین ہستی کا خلا بہت بڑا نظر آتا ہے ۔ہم آپ کو الوداع کہتے ہوئے محسوس کرتے ہیں اور دیکھ رہے ہیں ۔آپ کی خدمات کو باری تعالٰی صدقہ جاریہ بنادے اورشایان شان اجر جزیل عطا کرے اور اعلی علیین میں جگہ نصیب کرے، ہم پسماندگان کو صبر جمیل کی دولت عطا فرمائے اور بدل نصیب کرے، آمین یا رب العالمین،

خدا رحمت کند ایں عاشقان پاک طینت را

ایں دعا ازمن وجملہ جہاں آمین آباد