معاشرے میں اساتذہ کی عظمت کو یقینی بنائیں

22
معاشرے میں اساتذہ کی عظمت کو یقینی بنائیں
دنیا کی تاریخ پر اگر ہم غور و فکر کرتے ہیں تو ہمیں پتہ چلتا ہے کہ دنیا میں بہت سی قومیں آئیں اور اپنا وقت پورا کرکے ختم ہو گئیں اور اس کی جگہ دوسری قوموں نے لے لی ۔اقوام کے عروج و زوال کے اسباب کیا ہیں اور کیوں کر کوئی قوم  عروج پر پہنچتی ہے اور کسی قوم کے   زوال کے کون کون سے  وجوہات ہیں اسکا جائزہ لینے سے پتہ چلتا ہے کہ روۓ زمین پر وہی قوم ترقی کے منازل طے کرتی ہے جسکا رشتہ علم و ہنر سے گہرا ہوتا ہے ۔علم ہی وہ دولت ہے جسکی بنیاد پر اسے دنیا میں اشرف المخلوقات کا درجہ ملا ہے۔ اگر انسان کے پاس علم کی روشنی نہیں ہے تو اس کے طرز عمل اور ایک جانور کے طرز عمل میں کچھ زیادہ فرق نہیں رہ جاتا ہے۔
قومیں افراد سے بنتی ہیں اور قوموں کا عروج وزوال افراد کی صلاحیت اور نا اہلی سے وابستہ ہے جو قوم ترقی کرنا چاہتی ہے انکے افراد کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنی شخصیت اور صلاحیتوں میں اضافہ کرے جس کے لئے اسے ہر حال میں علم و ہنر کا دامن تھامنا پڑیگا ۔اور علم حاصل کرنے کو اپنا مقصد حیات بنانا پڑے گا ۔بغیر علم حاصل کئے اپنے مقاصد کے تعین اور وجود کو مستحکم کرنا نا ممکن ہے ۔
علم کی خدمت و اشا عت میں یقینا ً ہمارے اساتذہ حضرات کا کردار بہت اہم ہوتا ہے ،کیونکہ بغیر اساتذہ کے علم کا حاصل کرنا ویسے ہی ہے جیسے اندھیرے میں نشانہ لگانا ۔اسلئے اساتذہ اور طالب علم کا رشتہ قدیم رشتہ ہے بلکہ سچ یہی ہے کہ تخلیق ِآدم سے جڑا ہے ۔اور ہمیں یہ کہنے میں کوئی دشواری نہیں کہ سب سے پہلے اللّه پاک نے ہی آدم کا رشتہ علم سے جوڑا ہے ،گویا کہ انسان کا پہلا معلم وہ پاک ذات ہے جو سارے کا ئنات کا خالق ہے۔
اسی سے ہم اساتذہ کی عظمت کا اندازہ لگا سکتے ہیں ۔دوسری طرف اساتذہ کو بھی اپنی عظمت کا اندازہ ہونا چاہئے اور ان کے طرز ِزندگی سےبھی یہ ظاہر ہونا چاہئے کہ واقعی وہ معاشرہ کے لئے ایک مثالی انسان ہیں ان کے صفات و کردار ایسے ہونے چاہئے جس سے سماج کا ہر ذی شعور طبقہ روشنی حاصل کرے اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ ان کے قول و فیل میں تضاد تو بالکل نہیں ہونا چاہئے ۔کیونکہ اساتذہ سماج کا وہ طبقہ ہوتا ہے جس کو معاشرے میں سب سے زیادہ عزت و احترام کی نظروں سے دیکھا جاتا ہے ۔ اس لئے ان کے فرائض اور ذمہ داریا ں بھی اور لوگوں کے مقابلہ میں بہت اہم اور زیادہ ہیں ۔آج کے اس پر فتن دور میں جس طرح سے معاشرے میں نئے نئے فتنے جنم لے رہے ہیں ویسے ویسے  اساتذہ کی ذمہ داریاں  بھی بڑھ رہی ہیں اچھے اور با کردار اساتذہ کی ضرورت شدت اختیار کر رہی ہے ۔
آج جس دور میں ہم جی رہے ہیں وہاں ہر چیز بازار و ہو چکی ہے اور ہماری ذہنیت خرید و فروخت والی ہو چکی ہے عام طور سے لوگ سمجھتے ہیں کہ ہر چیز کو دولت کے ذریعہ حاصل کیا جا سکتا ہے جو کہ سراسر غلط تصور ہے ۔علم کے معاملے میں تو خاص طور سے یہ زہر حلاحل ثابت ہوا ہے ۔ہم جس سماج میں رہتے ہیں وہاں پر اسی غلط تصور کا نتیجہ ہے جسکی وجہ کر علم کا میدان ایک صنعت کی شکل اختیار کر گیا ہے اور علم کے نام پر خوب خوب تجارت ہو رہی ہے ۔آج کے اساتذہ بھی کاروباری ہو چکے ہیں اور اپنی عظمت کو بھول چکے ہیں ،انکا مقصد صرف اور صرف دولت كمانا باقی رہ گیا ہے ۔طلبا کے تعلیم اور کردار سازی سے انہیں کوئی مطلب نہیں ہے ۔میں نے کئی معلم کو یہاں تک کہتے سنا ہے کہ بچہ پڑھے یا نہ پڑھے ہمیں اس سے کیا مطلب مجھے تو صرف اپنی نوکری کرنی ہے گویا کہ بچے کے پڑھنے سے زیادہ اہمیت انہیں اپنی نوکری کی ہے ۔سچ یہی ہے کہ اس میدان میں بہت سارے لوگ صرف نوکری کے غرض سے آ گئے ہیں انہیں پڑھنے پڑھانے سے کوئی مطلب نہیں ہے اور یہیں سے تعلیم کا زوال شرو ع ہوتا ہے ۔ہمارے خیال سے یہ پیشہ دوسرے پیشوں سے الگ ہے اس میں ویسے ہی لوگوں کو اپنا قدم بڑھانا چاہئے جن کے اندر مال و دولت سے زیادہ علم کی اہمیت ہو ۔اور اس کے لئے وہ ہر طرح کی قربانی دینے کیلئے تیار ہو جس میں انسان کی فطرت کا بڑا دخل ہے ۔یہی وجہ ہے کہ آج بھی جنکا شمار اچھے اساتذہ  میں ہوتا ہے انکے اندر یہ صفت موجود ہوتی ہے اور جہاں تک  اساتذہ کا سوال ہے تو ان کے اندر تو چند صفات تو ہونا ہی چاہئے ،جیسے علم سے  رغبت ،گہرا مطالعہ خاص کر اپنے سبجیکٹ کا جسکا وہ درس دیتے ہیں اس میں تو انہیں مہارت حاصل ہونا چاہئے چو نکہ آج کل  علم کا میدان بہت وسیع ہو چکا ہےاس لئے ہر کوئی سارے علوم پر بیک وقت عبور نہیں رکھ سکتا یہ اب ممکن نہیں رہا لیکن اپنے اپنے میدان میں تو ماہر ہونا ہی چاہئے ۔سبجیکٹ کے علاوہ ایک اچھے استاد کو  نفسیات کا بھی علم ہونا ضروری ہے کیوں کہ ہر طالب علم کا  معیار اور مزاج الگ الگ ہوتا ہے جس کے سمجھے بےبغیر کوئی بھی استاد اپنے طالب علم کو بہتر ڈھنگ سے تعلیم نہیں دے سکتا ۔علمی صلاحیت کے ساتھ ساتھ بہتر کردار کا مالک ہونا بھی اشد ضروری ہے جو کہ صرف ظاہری نہیں ہو بلکہ باطنی بھی ہو ۔کیونکہ استاد کے کردار کا اس کے طلبا پر خاصہ اثر ہوتا ہے ۔جب ایک طالب علم، علم سے فراغت کے بعد زندگی کے عملی  میدان میں قد م رکھتا ہے تو علم کے ساتھ اسکا کردار بھی ظاہر ہوتا ہے ۔ایک اچھا انسان بننے کے لئے علم کے ساتھ اچھے کردار کا مالک ہونا بھی بہت ضروری ہے ۔عام طور سے پڑھے لکھے معاشرے میں اسکا مشاہدہ ہوتا ہے کہ جو لوگ پڑھے لکھے کہلاتے ہیں ان کے اندر بھی انسانیت نا پید ہوتی ہے اور ان کا مقصد حیات علم کے ذریعہ دولت کمانا ہی باقی رہ جاتا ہے ۔۔ایسے علم سے  سماج کو  بہت زیادہ فائدہ نہیں ہو پاتا ۔بلکہ کہیں کہیں ایک دوسرے قسم کی برائی جنم لے لیتی ہے ۔اور جسکا خمیا زہ پورے معاشرہ کو بھگتنا پڑتا ہے ۔
اسکے علاوہ ایک اچھے استاد کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ وہ تدریس کے نئے نئے فن اور تکنیک سے بحرور  ہو اور اس فن میں ہو رہے تحقیق کا اسے پورا پورا نالج ہو، استادکو چاہئے کہ اپنے شا گردوں کو پڑھنے کے ساتھ ساتھ ہر طرح کی ضروری نصیحت کرے اس سلسلے میں کسی قسم کی کثر  نہ اٹھا رکھے اور اپنے شاگرد وں سے شفقت سے پیش آئے ۔شا گردوں سے ایسی بات قطعًنا نہ کرےجو ان کے عقل یا سمجھ سے بالا تر ہو اور ان کے عقل تک نہ  پہنچے ۔کم فہم طلباء۔ کے سامنے ان کی سمجھ بجھ   کے مطابق بات کرے جس کو وہ فور ًا سمجھ کر مان لیں ۔
اگر یہ چند صفات کسی استاد کی شخصیت کا حصّہ ہونگے تو یقینی طور پر وہ ایک بہتر استاد ثابت ہو سکتا ہے اور سماج اور تعلیم کے میدان میں وہ بہتر ڈھنگ سے طلبا کی رہنمائی کر سکتا ہے جس کا اچھا نتیجہ قوم و ملّت کو ملے گا جس سے ہمیں ایک بہتر معاشرے کی تعمیر میں مدد ملے گی اور ساتھ ساتھ تعلیمی میدان میں انقلاب بر پا ہو سکتا ہے اس لئے ہمیں اگر ایک مثالی اور کامیاب معاشرے کی تعمیر کرنی ہے تو ہمیں اساتذہ حضرات کی عظمت کا اعتراف ہر حال میں کرنا پڑیگا،اور اساتذہ کو قدر کی نگاہ سے دیکھنا پڑے گا کیونکہ یہی وہ طبقہ ہے جسکی ایمانداری ۔سخت محنت اور لگن کی وجہ کر کامیابی ہمارے قدموں کو چوم سکتی ہے ساتھ ساتھ اساتذہ کو بھی اپنی عظمت کا خیال ہونا چاہئے ۔
نہ رہے اہل بصیر ت تو بے خر د چمکے
فروغِ نفس ہو ا عقل کے زوال کے بعد ۔۔۔۔۔۔۔!!