ڈاکٹر نورالصباح کی کتاب ” اردو افسانوں میں مسائل نسواں کی عکاسی” کا رسم اجراء

28
لڑکیاں مقصد کو حاصل کرنے کے لیے مضبوط ارادے کے ساتھ میدان میں اتریں، مطالعہ اور خانہ داری کے ساتھ موجودہ حالات اور سیاست پر بھی نظر رکھیں :
مئو: "ارادہ اور نیت صاف ہو تو بہت کچھ کیا جاسکتا ہے اور جن کے ارادے مضبوط ہوں وہ کبھی اپنے مقصد سے نہیں بھٹکتے اور اپنی منزل تک پہنچنے کے بعد بھی مزید جہد مسلسل کرتے ہیں” یہ باتیں آج اردو پڑھاؤ تحریک کی طرف سے سر اقبال پبلک اسکول میں منعقد ڈاکٹر نورالصباح کی کتاب *اردو افسانوں میں مسائل نسواں کی عکاسی* کا اجراء کرتے ہوئے نگر پالیکا پریشد مئو کے *چیئرمین طیب پالکی* نے کہیں۔
مزید لڑکیوں کی تعلیم سے متعلق کہا کہ وہی لڑکیاں راستوں سے بھٹکتی ہیں جن کا کوئی مقصد نہیں ہوتا اور وہ تعلیم کے نام پر پورے معاشرے کو بدنام کرتی ہیں۔ آج لڑکیاں تعلیمی میدان میں تیزی کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہیں یہاں تک کہ داخلہ ملنے اور سیٹ فل ہوجانے کے مسائل بھی نظر آتے ہیں۔
سابق چیئرمین *ارشد جمال* نے نورالصباح کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ انھوں نے اس لاک ڈاؤن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی ایک کتاب تیار کردی اور *مئو کی ایسی پہلی خاتون بن گئیں جنھوں نے پڑھائی کے ساتھ ساتھ ایک مصنفہ کا بھی خطاب حاصل کرلیا* ارشد جمال نےوہاں موجود اردو طبقے کے ذمہ داروں کومشورہ دیا کہ اردو ادب کو عام فہم بنانے کی ضرورت ہے تاکہ آسانی سے سب کو سمجھ میں آسکے۔ انھوں نے ماں کی اہمیت کو سمجھاتے ہوئے کہاکہ والد کے نہ رہنے پر بھی ڈاکٹر صاحبہ کی ماں نے اپنی بیٹی کو کیسے اتنی بلندی پر پہنچایا، لوگوں کو اس سے سبق لینے کی ضرورت ہے۔
*سابق چیئر مین سیاسی شخصیت ہونے کے باوجود اردو ادب پر بھی نظر رکھتے ہیں، انھوں نے کتاب کے سرورق پر پرنٹ تصویر کی بہترین انداز میں تشریح کرتے ہوئے کہاکہ عورتیں کئی طرح کے مسائل میں گھرے ہونے کے باوجود بھی ارادے کی مضبوط ہیں۔ محترم جمال نے حیرت سے کہا کہ لاک ڈاؤن ، جنتا کرفیو، کورونا وائرس، کووڈ 19، عالمی وبا سے متعلق اعداد وشمار کے ساتھ جو معلومات دی وہ حیرت انگیز ہے۔ تین طلاق بل اور می ٹو مہم پر بھی جو معلومات ڈاکٹر نورالصباح نے اپنی کتاب میں فراہم کی ہے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ مصنفہ *ڈاکٹر نورالصباح صرف اردو کی معلومات نہیں رکھتی ہیں ، بلکہ موجودہ حالات پر بھی ان کی پوری نظر رہتی ہے۔ ساسی مسائل کو قانون سے جوڑ کر دیکھتی ہیں اور مشورہ بھی دیتی ہیں۔
اردو پڑھاؤ تحریک کے کنوینر *عزیر گرہست* نے کہا کہ یہ کتاب اس بات کی دلیل ہے کہ آج لڑکیاں لڑکوں کی طرح تعلیمی میدان میں تیزی کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہیں اور اردو کے متعلق لڑکیاں لڑکوں سے زیادہ دلچسپی رکھتی ہیں، یہ بات سچ ہے کہ اردو کو روٹی روزی سے دور کیا گیا لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ مئو کے بیشتر لوگ اردو کے ذریعہ ہی معاش سے جڑے ہوئے ہیں۔ اردو کے ساتھ ہم نے خود سوتیلا رویہ اپنایا ہے۔
*ڈاکٹر شکیل احمد* نے کہا کہ جب بچیاں تعلیم کے میدان میں آگے بڑھتی ہیں تب انھیں سب سے زیادہ خوشی ملتی ہے کہ گھروں کے اندر یہ ایک اچھا ماحول پیدا کریں گی۔ اردو کے بارے میں انھوں نے کہا کہ  اردو کا لوگ صرف رونا روتے ہیں اور خود ہی اس سے دوری بناتے ہیں۔ آگے انھوں نے اردو ہندی کو سگی بہن بتاتے ہوئے  کہا کہ اردو کے ساتھ ساتھ ہندی کا بھی استعمال کریں۔
*ڈاکٹر امتیاز ندیم* نے کتاب پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ کتاب اردو ادب میں دلچسپی رکھنے والے لوگوں کے لیے معروضی سوالات جیسی ہے ۔اس کتاب میں مصنفہ نے افسانہ لکھنے والوں کے بارے میں بھی تفصیلی گفتگو کی ہے۔ می ٹو مہم، لاک ڈاؤن اور تین طلاق پر جو معلومات ڈاکٹر نورالصباح نے دی ہے وہ ایک دستاویز ہے۔ڈی سی ایس کے پی جی کالج مئو کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر محمد ضیاءاللہ نے کہا کہ بچیوں کو تعلیم میں برابر کا حق دیں۔ تعلیم کے نام ہر ہورہی برائی کو روکا جانا ضروری ہے تعلیم کو نہیں۔ عورتوں کے مسائل کو اٹھانے اور اسے ختم کرنے کی ضرورت ہے۔
کتاب کی مصنفہ *ڈاکٹر نورالصباح* نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ لڑکیوں کو گھر سے نکلنے کے لیے بہت جدوجہد کرنی پڑتی ہے، کیونکہ لڑکیوں کے گھر سے نکلنے پر سب سے پہلے غیروں کی نگاہیں اور اپنوں کی انگلیاں اٹھنی شروع ہوجاتی ہیں، لیکن ہمت اور حوصلے سے مشکل بھی آسان ہوجاتی ہے۔ والد کے نہ رہنے پر بھی ماں نے ہمیں پڑھایا اور ماں کے بنے ہوئے خواب کو میں نے پورا کرنے کی کوشش کی۔  آگے انھوں نے بتایا کہ مزید کچھ کتابیں تحریر کرنے کی کوشش کررہی ہوں جلد ہی اسے بھی مکمل کرکے منظر عام پر لانے کی کوشش کروں گی۔
سر اقبال پبلک اسکول کی ٹیچر رفیدہ میم نے کہا کہ اگر انسان اپنے اندر جنون پیدا کرلے تو کامیابی ضرور قدم چومے گی ۔ اگر کوئی باپ اپنی اولاد کی شہزادی کی طرح پرورش کرتا ہے تو بچوں کا بھی یہ فرض ہے کہ وی بڑھاپے میں باپ کو بادشاہ بناکر رکھیں۔
ذکی احمد ایڈوکیٹ نے کہا کہ مردوں کی طرح عورتوں کا بھی ہورا حق ہے کہ وہ آگے بڑھیں اور کامیاب ہوکر ماں باپ کا نام روشن کریں ساتھ ہی ساتھ انھوں نے مصنفہ کو بھی مبارکباد دی کہ انھوں نے عورتوں کے مسائل کو اٹھایا۔
نصیبہ میم نے ڈاکٹر نورولاصباح کا تعارف کراتے ہوئے کہا کہ یہ پیارے پورا میں سکونت پذیر فیروز احمد کی بیٹی ہیں اور دہلی یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ہے۔ ان کی محنت اور کامیابی سے سبق لینے کی بات کہی۔
سر اقبال پبلک اسکول کی طالبہ ایک ننھی سی بچی شمائلہ جاوید نے عورتوں سے متعلق اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے اپنی طرف سبھی کو متوجہ کرلیا۔
پروگرام کی صدارت نگر پالیکا پریشد مئو کے چئیر مین محمد طیب پالکی نے کی جبکہ نظامت سر اقبال پبلک اسکول کی ٹیچر عمارہ میم نے کی۔
اس میں شریک ہونے والے سبھی لوگوں کا شکریہ اسکول کی پرنسپل عزیزالنساء میم نے کی۔
*پروگرام سے پہلے سبھی لوگوں کو سینیٹائزر اور ماسک دیا فیا اور سب کو تاکید کی گئی کہ سماجی دوری بناکر رکھیں۔ سیٹ سے زیادہ لوگوں کو اجازت نہیں دی گئی*۔
اس موقع پر خصوصی طور پر ماسٹر اشفاق احمد، شبیر احمد ایڈوکیٹ، منصور احمد، شہاب الدین انجینیر، علاؤالدین گوالیر، سرفراز ، ریحان، سعیدالظفر، صادقہ جمال، شعیب احسن، مولانا شعیب احسن اعظمی، طلحہ فیروز، طاہر فیروز، ارم صبا، سہلہ ضیاء، فوزیہ ضیاء، عظمی پروین، راشدہ خاتون، صفیہ خاتون، زوبیہ شاہد، شمیمہ، حفصہ، سمیہ، شاہد جمال، ساجدہ خاتون، نورالحق، محمد عارف، حسیب مدنی، نذہت احسان، محمد انظر وغیرہ موجود تھے۔