قارئین کرام!

آج بتاریخ ١٢محرم الحرام ٤١٤٢ھ مطابق یکم ستمبر ٢٠٢٠ بروز منگل بعد نماز فجر ناچیز نے جیسے ہی موباٸیل فون کھولا تو دیکھا کہ کٸی احباب کا فون اور میسیج ایک المناک غمناک خبر لٸے دستک دے رہا ہےکہ ملک کے عظیم فقیہ بے مثال مربی حضرت اقدس مولانا قاسم مظفر پوری قاضی القضاة امارت شرعیہ بہار اڑیسہ وجھاڑکھنڈایک طویل علالت کے بعد اپنی قیام گاہ زکریا کالونی میں شب ٢بجکر ٤٥ منٹ پر داعی اجل کو لبیک کہ گٸے ”إِنَّا لِلّهِ وَإِنَّـا إِلَيْهِ رَاجِعونَ“
احباب اس اندوھناک خبر سے پاؤں تلے سے زمین کھسک گٸی بدن پر سکتہ طاری ہوگیا اور زبان گونگ ہوگئی اور قلم کچھ لکھنے کیلٸے تیار نہیں تھا اور دل ہی دل میں سونچتا رہاکہ قرب قیامت کی نشانی میں علم یعنی صاحب علم کا اٹھ جانا ہے ، اس معاملہ میں بندہ کوراضی برضاٸےالہی رہنا ہے ، اور اس کے علاوہ بندہ کے بس میں کچھ بھی نہیں،کیونکہ اس کاٸنات کا نظام اللہ کے قبضہ تصرف میں ہے ، موت وحیات کا مالک وہی ہے چونکہ یہ دنیاتو فانی ہے ہی، اورایک مومن کا یقین کامل ہے کہ ہر شٸ کو فنا ہونا ہے ،کیونکہ ارشاد ربانی ہے ”کل من علیہا فان “لیکن اس دور پر آشوب میں ایسے باوقار عالم ،کٸی نسلوں کے مربی قاضٸ القضاة کے چلے جانے سے پورے ملک میں غم کا ماحول ہے ،کیونکہ حضرت کی شخصیت تواضع وانکساری کی پیکر تھی یہی وجہ کہ ہر کس وناکس بأسانی آپ سے مل لیتا تھا ، اور لکھنے پڑھنے کا بڑا عمدہ ذوق تھا جس کی ایک مثال میں بتاتا ہوں کہ ابھی ایک ہفتہ پہلے جب حضرت اوشا نرسنگ ہوم میں زیر علاج تھے تو ناچیز قاری اشتیاق صاحب کے ہمراہ حضرت کی عیادت کے لٸے گیا تو حضرت آٸسیو میں تھے ،تو ناچیز نے حضرت کے خادم خاص مولانا اسرار صاحب کے ساتھ آٸسیو میں حضرت سے ملنے کے لٸے گیا ، سلام ومصافحہ کے بعد مجھے قریب کرکے کچھ نصیحتیں کی اورفرمایا کہ کاغذ ہے تومیں نے کاغذ دیا اس پر حضرت نے کچھ باتیں لکھی جو آج بھی میرے پاس ہے ،یہ تھا لکھنے کاذوق جو آٸسیو میں بھی جاری رہا، آپ کی خدمات بھی بیشمار ہے ، اور آپ کے شاگردوں کی فہرست بھی طویل ہے جو ہندوبیرون ہند دین کی ترویج واشاعت میں لگے ہوٸے ہیں ، تمام علم دوست طلباوعلما پر حضرت کے سانحہ ارتحال کاشدید غم ہے ، ہمیں ایسارہبر کہاں ملےگا ،اللہ پاک حضرت کی جملہ کوتاہیوں کو درگزر فرماٸے،اور جنت الفردوس میں اعلی مقام نصیب فرماٸے ، اور اہل خانہ اور محبین ومتوسلین کو صبر جمیل عطا فرماٸے
اللهم اغفر له وارحمه وعافه واعف عنه وأكرم نزله ووسع مدخله واغسله بالثلج والبرد والماء البارد ونقه من الذنوب والخطايا كما ينقى الثوب الأبيض من الدنس وأبدله دارا خيرا من داره وأهلا خيرا من أهله وزوجا خيرا من زوجه وأدخله الجنة وأعذه من عذاب القبر وعذاب النار

اللهم لا تحرمنا أجره ولا تفتنا بعده
آمین