بہار کے وزیراعلیٰ نتیش کمار کے نام کھلا خط

24

پسماندگی کی مار جھیل رہے سیمانچل کے مہاجر مزدوروں کو اپنے اسٹیٹ میں روزگار دیا جائے اور یہاں کی زبوں حال عوام کو سرکار بے روزگاری بھتہ دے!

یکم ستمبر  2020 روزنامہ نوائے ملت  عالمی وباء کورونا وائرس اور حالیہ لاک ڈاؤن سے یوں تو پوری دنیا متاثر ہوئی ہے مگر وطن عزیز بھارت کی ریاست بہار اور اس میں بطورِ خاص سیمانچل اور ضلع ارریہ کا وہ طبقہ جو یومیہ اجرت پر ملک کے کونے کونے میں اپنے ماں باپ،بال بچے اور دیگر ضروریات زندگی کی تکمیل کے لئے کام کرتا تھا بلاشبہ اس طبقے کی زندگی اجیرن ہوکر رہ گئی ہے لوگ قوت لایموت کو ترس کر رہ گئے ہیں۔
لاک ڈاؤن نے ان کے ہاتھوں سے کام چھین لیا،وہ باہر سے گھر آگئے اور اپنے وطن میں روزگار کے مواقع میسر نہیں آئے اس طرح وہ اپاہج بن کر دردر کی خاک چھاننے پر مجبور ہوگئے ہیں برادرانِ وطن کے علاوہ رمضان المبارک کے14/14 طویل گھنٹوں کے روزے رکھ کر یہاں کا مسلم طبقہ دہلی مہاراشٹر،آندھرا،مدھیہ پردیش،تمل ناڈ،کیرلا اور ہریانہ و پنجاب سے کہیں بس،کہیں ٹرک اور کہیں چلچلاتی دھوپ میں یوں ہی پیدل سینکڑوں اور ہزاروں کیلومیٹر اپنے اپنے سروں پر بیگ اور گٹھریاں لادے اور دودھ پیتے معصوم بچوں کو اپنی خشک چھاتیوں سے چمٹائے روتی بلکتی مائیں جب افراتفری کے عالم میں اپنے وطن کو لوٹ رہے تھے تو ساری دنیا ان کی دردناک تصویریں دیکھ دیکھ کر اشک بار تھیں
لاک ڈاون کے درمیان ہردالعزیز وزیر اعلیٰ جناب نتیش کمار صاحب اعلان کررہے تھے کہ آپ اپنے وطن کو آئیں ہم آپ کو یہیں اپنی ریاست بہار میں روزی روٹی کمانے کے مواقع مہیا کروائیں گے۔۔۔
مگر ہوا کیا؟ روزگار تو کجا خبر گیری بھی نہیں مزاج پرسی تک کا خیال نہیں آیا لوگ جس طرح رورو کر اور بلک بلک کر اپنی جان بچانے اور بوڑھے ماں باپ اور معصوم بچوں کا چہرہ دیکھنے کے لئےبےیارورمددگار وطن آئے تھے ٹھیک اس کے برعکس وطن سے بے وطن ہونے پر مجبور ہوگئے ہیں
میرا گھرضلع ہیڈکوارٹر سے محض10/کیلومیٹر کی دوری پر واقع ہے۔میرے سفر کا عمومی راستہ ترکیلی سے بیرگاچھی چوک ہوتے ہوئے زیرومائل سے ارریہ ہے۔خدا کی قسم عید کی صبح سے ہی مسلسل میرے سر کی کھوپڑی والی آنکھیں اس منظر کو دیکھ دیکھ کر پتھرا گئی ہیں کہ کس طرح لوگ جوکی ہاٹ سے لے کر بیرگاچھی چوک ہوتے ہوئے ارریہ زیرومائل تک بسوں پر بھر بھر کر روزانہ سینکڑوں نہیں ہزاروں کی تعداد میں دہلی،ممبئ،حیدرآباد،ہریانہ اور پنجاب وغیرہ کے لئے روانہ ہورہے ہیں۔ملک کی مختلف ریاستوں سے آئی ہوئی رنگ برنگی چمچماتی لگزری بسیں،موٹے موٹے کرائے اور پیٹھوں اور سروں پر بیگ،چہرے پر اداسی و مایوسی اور کان میں بال بچوں سے الوداعی گفتگو کے لئے موبائل فون۔۔۔۔
عید الفطر کے گذرے تین مہینے ہوگئے مگر یہاں کے مزدوروں اور کام کرنے والوں کا روزی روٹی کمانے کی تلاش میں بیرون ریاست کا سفر اب تک نہیں رک سکا روزگار کے لئے ہجرت کے اس سلسلے کا ذمہ دار کون ؟
آخر اس کا ذمے دار کون ہے؟
اور اس میں قصور کس کا ہے؟
آج وہ لوگ جو غریبوں کے کام اور غریبی کے نام پر سیمانچل کی ان سیدھی سادی عوام سے مسلسل ووٹ مانگ مانگ کر اپنی زندگی کے عیش و عشرت کے تانے بانے بنتے رہے ہیں؛کہاں ہیں؟ہٹو ہچو اور رکو رہو والے ان راج نیتاؤں کی نظر کیا ان چار ماہ میں ایک بار بھی جوکی ہاٹ سے زیرومائل ارریہ تک روزانہ صبح کے 9/بجے سے12/بجے تک سڑکوں پر بلبلاتی بھیڑ پرنہیں پڑتی؟ہاں بہت سوں نے اسے موضوع بھی بنایا مگر کیا وہ ان بیگ اور تھیلے والی بھیڑ کو لے کر ایک بار اپنے ہردالعزیز وزیر اعلیٰ کی خدمت میں بھی حاضر ہوئے اور ان سے یہ سوال کرنے کی جرات کی کہ صاحب!
آپ کی ریاست کی یہ عوام جس طرح لاک ڈاؤن میں دوڑے دوڑے اپنے وطن آرہی تھی آخر کیوں اس عالمی وباء کے درمیان اپنی جانوں کو ہتھیلی پر رکھ کر پھر گھر چھوڑ کر ریاست سے باہر جارہی ہے؟یا وہ اپوزیشن جو دن رات مسلم ووٹ بینک کے لئے مسلمانوں سے اظہار ہمدردی کی گیت گائے نہیں تھکتی؛انہوں نےکبھی سربراہ ریاست سے تحریکی انداز میں سوال اٹھایا کہ ریاست کی عوام کو اپنی ہی ریاست میں روزگار کے مواقع فراہم کرنا ریاست کے وزیر اعلیٰ ودیگر سربراہان مملکت کی ذمےداری اور جواب دہی ہے۔تو سالہاسال سے آپ کی حکومت اس سلسلے میں کیا کچھ کرپائی ہے اور نہیں تو کیوں نہیں؟
اچھا ہم کسی سے کچھ نہیں کہیں گے۔کیونکہ تاریخ بتاتی ہے کہ اس مسلم اکثریتی علاقہ سیمانچل ارریہ کی پس ماندگی و بدحالی کے نام پر اپنی سیاسی زندگیاں تو بہتوں نے چمکائیں مگر یہاں کی بدحال عوام کی بدحالی میں روز بروز اضافہ ہی ہوتا رہا۔تو آخر حالیہ لاک ڈاؤن اور کورونا کے بڑھتے کیس کے درمیان یہاں کی عوام کی مسلسل ہجرت پر ماتم کن کے سامنے کریں؟
چلئے ہم ہی آنے والے ایلکشن سے پہلے انصاف کے ساتھ ترقی کا نعرہ بلند کرنے والے اپنے ہردالعزیز وزیر اعلیٰ جناب نتیش کمار صاحب کو یاد دلا دیتے ہیں کہ محترم!
آپ تو شاید اپنے وعدے کے بڑے پکے ہیں۔آپ کہتے ہیں کہ ہم وعدہ کرتے ہیں اور پورا کرتے ہیں پھر کام کے نام پر ووٹ مانگتے ہیں۔۔۔یہاں کی بدحال عوام جب پورے ملک سے بھاگ بھاگ کر اپنے وطن آرہی تھی تو آپ نے تسلی دلاتے ہوئے ان سے وعدہ کیا تھا کہ آئیے آپ کے لئے ہم اپنے ہی اسٹیٹ میں روزگار کے مواقع فراہم کریں گے۔کیا ہوا آپ کے وعدے کا؟آپ تو اپنے وعدے کے بڑے پکے ہیں۔اپنی ہی ریاست میں روزگار کے مواقع فراہم کرنے والے وعدے کی تکمیل میں سیمانچل اور ارریہ سے ہجرت کرنے والی کثیر مسلم آبادی والی عوام کی فلاح وبہبود کا راز بھی مضمر ہے۔کیااس سے متعلق وعدہ بھی وفا ہو پائے گا؟
آخری اور سچی بات یہ ہے کہ کسی کو قصوروار قرار دینے کے بجائے ہم اہل سیمانچل اور باشندگان ارریہ کو خود اپنے ہی قصور کا اعتراف کرلینا چاہئے۔
کیونکہ ہم ہی ہیں جو ہرالیکش میں ہر سیاسی جماعت اور اس کے امیدوار کے خوبصورت وعدوں اور پرفریب نعروں میں پھنس کر برسوں سے ووٹ دےدے کر انہیں اقتدار کی کرسی سونپتے رہے اور خود اپنے کاندھوں پر بیگ اور گھٹریاں ڈھو ڈھوکر دہلی،ہریانہ اور پنجاب کی خاک چھانتے رہے۔
ہم علاقائی ترقیاتی منصوبوں کو اپنی ووٹنگ کا مدعا بنانے کے بجائے ہمیشہ دھرم،ذات،برادری اور زبان کی چکی میں پستے رہے۔
اور ان سب سے گری ہوئی بات یہ رہی کہ ہم بحیثیت انسانی فریضے اور بحیثیت امت مسلمہ کے امانت و دیانت اور قومی وملی مفاد کو ترجیح دینے کے اصول کو بالائے طاق رکھ کر چند لمحے کی اپنی ذاتی مفاد کی لالچ پر اپنے ضمیر کا سودا کرتے رہے۔
اگر ایسا نہ ہوتا تو ہماری نظروں کے سامنے یہاں کا یہ خوں چکاں منظر کبھی نہیں ہوتا۔
اس لئے اب بھی موقع ہے۔ایک بار پھر سروں پر الیکشن سوارہے۔اپنے نمائندوں سے اپنی پس ماندگی کے اسباب و عوامل پر ان سے سوالات پوچھئے۔ان کے پچھلے وعدوں کی عدم تکمیل پر ان کی گرفت کیجئے۔امیدواروں سے ان کا مینو فیسٹو مانگئے۔مینو فیسٹو میں مرحلہ وار پنج سالہ منصوبہ تلاش کیجئے۔
حل طلب مسائل پر ان سے ان کا تحریری موقف جانئے۔
اور اخیر میں سیمانچل اور ارریہ کی زرخیز سرزمین پر معیاری و اعلیٰ تعلیم اورروزگار کے سنہرے مواقع فراہم کرنے کے لئے ان کے مینو فیسٹو میں یونیورسٹی،کالیج،میڈیکل انسٹی ٹیوٹ،کارخانے اور فیکٹریاں واضح طور پر طلب کیجئے اور جو ان چیزوں کی گارنٹی دے اور آپ کا اپنا ضمیر جن پر اعتماد جتلائے انہیں کو ووٹ دیجئے!
عزت مآب وزیر اعلی نتیش کمار جی! براہ کرم
پسماندگی کی مار جھیل رہے ان مہاجر مزدور کی ہجرت کو روکنے کے لئے فوری اقدام کریں اور جب تک سیمانچل کے زبوں حال عوام کو فورا سے پیشتر بے روزگاری بھتہ دینے کو یقینی بنائیں،تاکہ زندگیاں سلامت رہ سکے ۔