موجودہ مسلم مسائل : ایک تجزیہ اسباب و علاج

24

اللہ تبارک و تعالی نے بندوں کی ہدایت اور اپنے احکامات کی تبلیغ و اشاعت کے لیے حضور صلی اللہ علیہ و سلم کو معلم اخلاق بنا کر مبعوث فرمایا،نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنی اخلاقی تعلیمات کے ذریعے اہلِ عرب کو دنیا کی سب سے متمدن اور بہترین قوم بنایا اور دینِ اسلام کی تبلیغ و اشاعت کے فریضہ منصبی کی تکمیل کے بعد اس دارِ فانی سے تشریف لے گئے ،لیکن آپ نے اپنی سیرت طیبہ کی صورت میں امت مسلمہ کے لیے ایک ایسا لائحۂ عمل چھوڑا جس پر عمل پیرا ہوکر زندگی کے مختلف شعبہائے حیات کے مسائل کا حل آسانی کے ساتھ تلاش کیا جاسکتا ہے،سیرت نبوی اہلِ اسلام کے لیے ہر موڑ پر راہ ہداہت اور مینارۂ نور ہے ،لیکن آج امت مسلمہ کی کارکردگی جہاں محض الفاظوں اور کاغذی ذخیروں کا سنگم بنا ہوا ہے وہی دنیا کے ہر حصے میں طرح طرح کے مسائل سے دوچار ہے،زندگی کا کوئی ایسا شعبہ نہیں جہاں مسلمان واقعی کیف و سرور کی حیثیت کے ساتھ مستحکم ہوںسماجی موج خیال میں تصادم ،سیاسی بصیرت کا بحران،معاشی تفوق میں قوتِ تجسس کا فقدان ، اقتصادی وسعتِ نظری کی کمزوری ،تہذیبی شان و شوکت کا عدم احترام اور ثقافتی جیسے مسائل نے مسلمانوں کو اپنے گھیرے میں لے رکھا ہےلیکن آخر وجہ کیا ہے کہ مسائل ختم ہونے کے بجائے بڑھتے جارہے ہیں حالاں کہ اسلام کے ماننے والوں کے پاس ایک مضبوط لائحہ عمل اور جامع نظامِ محکم ہے جس پر عمل پیراں ہوکر اپنی دنیا و آخرت دونوں میں فلاح حاصل کی جاسکتی ہے_
ایک سماج میں زندگی گزارنے والے افراد کے درمیان اتفاق و اتحاد اور خوش گوار تعلقات کااستوا ہونا نہایت ہی ضروری ہے،کیوں کہ باہمی نا اتفاقی اور عداوت و دشمنی سے طرح طرح کے مسائل معرض موجود میں آتے ہیں اور سماجی مسائل پیدا ہوتے ہیں لیکن آج مسلم معاشرہ جس رسہ کشی اور اخلاقی پستی کا شکار ہے اور آپسی رنجش،بغض مسلم معاشرے کی عام بات ہوچکی ہے جسا کہ آپ خود مشاہدہ کرسکتے ہیں کہ اگر کسی محلے میں غیر کے سو گھر ہو اور مسلمانوں کے دس تو غیر متحد ہوکر ایک دوسرے کی تعاون کے لیے تیار رہتے ہیں لیکن مسلم معاشرے میں موجود دس مسلمان آپس میں متحد نہیں ہوسکتے ،جب کہ حضور علیہ السلام نے اپنے حکیمانہ برتاؤ اور معاشرتی تعلیمات کے ذریعے تمام تعصبات،بغض،عداوت،نفرت، کدورت کو آپسی محبت،اخوت،چاہت سے بدل دیا، اور احکامات و ارشادات کی آئینہ بندی حیات زندگی کی شکل میں فرمادی ،آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا:- ایک مومن دوسرے مومن کے لیے عمارت کی مانند ہے کہ اس کا ایک حصہ دوسرے حصے کو مضبوط کرتا ہے_ (بخاری ) نیز نبی کریم نے اپنے صحابہ کو ایسی جامع تربیت فرمائی اور ہدایت کا ایسا سر چشمہ عطا فرمایا اور اپنی سیرت میں ایسے عملی کرادار و احساس انسانی میں محبت اور تخیل کو متحرک کیا کہ ان میں ہر فرد اپنے جان و مال پر دوسرے کے جان و مال کے تحفظ کو ترجیح دیتے تھے_
جب تک سماج و معاشرے میں برداشت اور رواداری کا رویہ فروغ نہ پائے آپسی محبت کا جذبہ پیدا نہیں ہوسکتا اور نہ ہی خوش گوار معاشرے کی تکمیل و تشکیل کا خواب شرمندۂ تعبیر ہوسکتا ہے،لیکن ابتدائے اسلام میں حضور صلی اللہ علیہ و سلم کو طرح طرح کی تکلیفیں پہنچائی گئیں ،طائف میں آپ پر پتھر برسائے گئے ،مکے کی گلیوں میں آپ پر کوڑے ڈالے گئے لیکن آپ نے کبھی کسی رد عمل کا اظہار نہیں فرمایا،ان تمام زیادتیوں کو خندہ پیشانی کے ساتھ برداشت کر کے تکلیف پہنچانے والوں کی ہدایت کی دعا فرماتے رہے جس کی تفسیر قرآن میں رب اس طرح ارشاد فرماتا ہے :-جو اللہ کی راہ میں خوشی اور رنج میں اور غصہ پینے والے اور لوگوں کو درگزرکرنے والے اور اللہ کو نیک لوگ پسند ہے (آل عمران،آیت ١٤٣) تو آج مسلم سماج و معاشرہ قرآن کی عملی تفسیر یعنی نبی کریم کی سیرت طیبہ سے وابستہ اور مزین ہوتو وہ دنیا و آخرت میں کامیاب و کامراں ہے _
آج مسلم معاشرہ جہاں معاشی اعتبار سے کمزور ہے وہی اقتصادی اعتبار سے بھی پستیوں کی بلندیاں پار کررہی ہیں جو کہ باعث تشویشناک ہے،آخر اس عدم استحکام کی وجہ کیا ہے! تو معلوم ہوگا کہ مسلمِ معاشرے میں معاشی عدم استحکام خود قوم مسلم کی تساہلی ناعاقبت اندیشی اور غلط پالیسوں کا نتیجہ ہے،اور تعلیمی اعتبار سے بھی پس ماندہ ہے،زندگی کا رمز سمجھنے کے لیے تعلیم سے رشتہ ضروری ہے،جو قوم تعلیم سے رشتہ جوڑے گی سر بلند ہوگی،اور جو محروم ہوگی وہ سرنگوں ہوگی،تمدن و تعلم کا کارواں اسے کچلتا ہوا نکل جائے گا ، لیکن آج علم و حکمت کے سب سے بڑے داعی مذہب اسلام کے ماننے والے آج علمی افلاس اور پسماندگی کے شکار ہورہے ہیں جب کہ لا ریب کتاب کی پہلی وحی ہی اقرا یعنی تعلیم کے متعلق تھی،جس کو قرآن نے امت مسلہ کے رہنمائے ہدایت کا رہبر بنایا آج اسی قومِ مسلم نے پس پشت ڈال دیا بھلا دیا،افسوس کہ امت مسلمہ نے حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے فرامین پر عمل کیا ہوتا ،اور علم و فن سے اپنا رشتہ مضبوط و مستحکم رکھا ہوتا تو آج انہیں دوسرے کا سہارا نہ لینا پڑتا _
تو خلاصۂ کلام یہ ہوا کہ حضور کی سیرت وہ ذات ہے جس میں رب العزت نے وہ تمام صفات و کمالات جاگزیں کیا ہے جو حیات انسانی کے ہر شعبہائے حیات کے لیے ایک مکمل منظم ہدایت کا سامان،اور بہترین نمونہ ہے جس کی پیروی سے بنی نوع انسانی ترقی اور رہنمائی کا سامان حاصل کرسکتا ہے.