تکبر اللہ کو سخت نا پسند ہے ، الله سورة النساء آیت نمبر ١٧٣ میں فرماتا ہے۔”اُس وقت وه لوگ

جنہوں نے ایمان لا کر نیک طرز عمل اختیار کیا ہے اپنے اجر پورے پورے پائیں گے اور اللہ

اپنے فضل سے ان کو مزید اجر عطا فرمائے گا، اور جن لوگوں نے بندگی کو عار سمجھا اور

تکبر کیا ہے اُن کو اللہ دردناک سزا دے گا اور اللہ کے سوا جن جن کی سرپرستی و مددگاری پر

وه بھروسہ رکھتے ہیں ان میں سے کسی کو بھی وه وہاں نہ پائیں گے”۔

ہمارا معاشره نام نہاد جعلی "باباوں” اورگرووں سے بھرا ہوا ہے جو دعویٰ کرتا ہے کہ وه مافوق

الفطرت قوتیں رکھتے ہیں ، اور ساتھ ہی ساتھ معجزات بھی ، اورلوگوں کے مستقبل کی پیش

گوئی کرتے ہیں۔ اصل علم سے بھٹکے ہوئے اور منحرف افراد ایسے علم حاصل کرسکتے ہیں

جو عوام کی نظر میں بہت اچھا معلوم ہوتا ہے۔ وه اس طرح کے علم کو موجوده زندگی میں دور

رس اثرات مرتب کرنے کے لئے سوچ سکتے ہیں۔ پھر بھی اس طرح کے علم کے مالک ہونے

سے یہ حقیقت نہیں بدلتی کہ وه گمراہی میں ہیں ، جاہل ہیں اور سمجھ بوجھ نہیں رکھتے ہیں۔

کائنات اور اس کے تخلیق کار کے مابین تعلقات اور انسان کے عمل اور اجر کے مابین کاملہ

حقیقت کے دو پہلو ہیں جو ہر ایک کے لئے جاننا ضروری ہے جو حقیقی علم رکھتا ہو۔ سچائیوں

کے ان دو پہلوؤں کو جانے بغیر کوئی بھی علم سطحی رہتا ہے، اور اس کا نہ تو انسانی زندگی

پر حقیقی اثر پڑتا ہے اور نہ ہی اس سے ترقی میں مدد ملتی ہے۔

اپنے آپ کو دوسروں پر سب سے اونچا سمجھنے والے اور شیخی بگاڑنے والا بننا ، کیونکہ وه

اعلی حیثیت رکھنے والی شخصیات یا ولی الله کی اولاد ہوسکتے ہیں۔ الله کے یہاں کوئی بھی

انسان دوسروں سے بڑا نہیں ، سوائے "تقوی” کے۔ تقویٰ خدا سے ڈرنا ، خدا کا شعور رکھنا ہے ،

اور الله کو ہر حال میں یاد کر نا ہے۔قرآن کہتا ہے ، اپنے نفس کے پاکزگی کے دعوے نہ کرو۔

سورة النجم آیت نمبر ٣٢ میں فرماتا ہے۔ "جو بڑے بڑے گناہوں اور کھلے کھلے قبیح افعال سے

پرہیز کرتے ہیں، الا یہ کہ کچھ قصور اُن سے سرزد ہو جائے بلاشبہ تیرے رب کا دامن مغفرت

بہت وسیع ہے وه تمھیں اُس وقت سے خوب جانتا ہے جب اُس نے زمین سے تمہیں پیدا کیا اور

جب تم اپنی ماؤں کے پیٹوں میں ابھی جنین ہی تھے پس اپنے نفس کی پاکی کے دعوے نہ کرو،

وہی بہتر جانتا ہے کہ واقعی متقی کون ہے۔”[٣٢:۵[

الله کے نزدیک ہر انسان برابر ہے ، سیوائے تقوٰی کے۔ سورة الحجرات آیت نمبر ١٣ الله فرماتا

ہے۔

” لوگو، ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور پھر تمہاری قومیں اور برادریاں

بنا دیں تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچانو در حقیقت الله کے نزدیک تم میں سب سے زیاده عزت والا

وه ہے جو تمہارے اندر سب سے زیاده پرہیز گار ہے یقیناً الله سب کچھ جاننے والا اور باخبر

[۴٩:١٣]”ہے

نے فرمایا: "یاد رکھنا انسان کو فخر نہیں کرنا چاہئے ، اور یاد رکھنا کہ آپ مٹی سے ہیں ، نبی

اور خاک کی طرف لوٹ آئیں گے۔”

تکبر کی علامت اس وقت جھلکتی ہے جب ایک شخص ، اپنے آپ کو خود بڑا سمجھتے ہوئَے

غرور کے ساتھ زمین پر چلتا ہے ، اس کے آس پاس ایسے افراد ہوتے ہیں جو اس کے چاپلوسی

میں لگے رہتے ہیں۔ یہ رویہ لوگوں میں نفرت کی فضا پیدا کرتا ہے جو خود اعتمادی کی زندگی

گزارنے کے لئے اہم ضروریات زندگی سے محروم ہیں۔ قرآن اس رویہ سے منع کرتا ہے اور ہم
سے ہر حال میں شائستہ اور لوگوں سے احترام سے پیش آنے کو کہتا ہے۔
الله قرآن میں سورة الإسراء آیت نمبر ٣٧ میں فرماتا ہے۔” زمین میں اکڑ کر نہ چلو، تم نہ زمین کو
پھاڑ سکتے ہو، نہ پہاڑوں کی بلندی کو پہنچ سکتے ہو۔”
انسان ، دو ضعیف اشیا کے مابین کمزور اور معمولی ، لاچار ، اور محدود ہے۔ اس طرح کی
عاجزی جسے قرآن مجید لوگوں سے اپنانے کا مطالبہ کرتا ہے ، ہر قسم کی فخر کو ختم کرنا ،
خدا اور اپنے ہمسایہ انسانوں کے ساتھ مناسب تعلقات برقرار رکھنے اور ایک مناسب ذاتی اور
معاشرتی روش کو قائم کرنے کی ایک مناسب نشان دہی کرتا ہے۔ چھوٹی ذہنیت اور مغرور
افراد کے علاوه کوئی بھی اس طرح کے اچھے اخلاق کو ترک کرنا پسند نہیں کرے گا۔ ایسے
لوگوں کو خدا کو ناپسند کرتا ہے ،کیونکہ وه اس کے احسانات کو نظرانداز کرتے ہیں جس سے وه
لطف اندوز ہوتے ہیں ، اور دوسرے انسان ان کی تکبر کے سبب ان سے نفرت کرتے ہیں۔
سے فرمایا کہ: "جو شخص خدا کی خاطر عاجزی برقرار رکھے گا ، خدا اسے بلند نبی اکرم
کرے گا۔ اس طرح وه خود کو عاجزی سے دیکھتا ہے لیکن لوگ اس کی طرف عزت سے دیکھتے
ہیں۔
اس کے برعکس ، خدا ایک متکبر شخص کو ذلیل کرتا ہے جب کہ وه خود کو بہت درجہ والا
سمجھتا ہے جبکہ لوگ اس کی طرف ذلالت کی نگاه سے دیکھتے ہیں ۔ جیسا کہ ہم نے دیکھا ہے
، ان ہدایات کا بنیادی طور پر برا عمل اور غیر مناسب سلوک کو ممنوع قرار دینے سے متعلق
ہے۔
قرآن پاک نے سورة البقرة آیت ساٹھ میں کہا ہے کہ ، زمین پر ہر مخلوق کو کھانے پینے اور
احترام والی زندگی گزارنے کے لئے رزق مہیا کیا گیا ہے۔[۶٠:٢[
انسان ، ہمیشہ یہ حقیقت بھول جاتا ہے کہ وه چھوٹی سی کمزور مخلوق ہے ، اور جو کچھ بھی
طاقت اس کے پاس ہے وه اُس کی ذاتی طاقت نہیں ہے ، بلکہ وه خدا کے ساتھ اس کا پابند ، تمام
طاقت اور قوت کا سرچشمہ الله ہی ہے۔انسان اس حقیقت کو اکژ بھول جاتا ، اور بیجا اکڑ میں
غبارے کی طرح پھول جاتا ہے۔ تکبر ، اور گھمنڈ اس طرح اس کے اندر قائم ہونا شروع ہوتا
ہے۔ شیطان جس نے اپنے تکبر کے نتیجے میں خود کو برباد کردیا ہے،وه انسان کےتکبر کو
بڑھاوا دینے کے لئے کام کرتا ہے یہ جانتے ہوئے کہ اس کے ذریعے ہی انسان کو برباد کیا
جاسکتا ہے۔
کافر خدا کے نازل کئے ہوئے آیات سے اختلاف کرتے ہوئے بحث کرتے ہیں ، جب کہ وه
واضح ہیں ، اور اس طرح کے غیر مددل دلائل دیتے ہیں جس سے کمزورذہنیت کے لوگوں کو
اپنے باتوں سےالله کے راه سے بھٹکاتے ہیں ۔ وه دوسروں سے یہ بھی دعویٰ کرتے ہیں ،کہ وه
صرف اس لئے سوالات اٹھاتا ہے کہ اسے ابھی تک یقین نہیں آیا ہے۔ تاہم ، خدا جو اپنی تمام
مخلوقات کے اندرونی احساسات اور خفیہ خیالات کو جانتا ہے ، واضح کرتا ہے کہ یہ سب انسان
کا تکبر ہے۔ یہ ایسا گھمنڈ ہے جو انسان کو خدا کے نازل کئے ہوئے واضع آیات پر بحث کرنے
پر مجبور کرتی ہے جس پر کوئی تنازعہ نا قابل فہم ہے۔ اس طرح کا تکبر انسان کو اس بات کی
خواہش میں بھی مبتلا کرتا ہےجو اس کی حیثیت سے بالاتر ہے اور اس کی فطرت کے مطابق
اس کی پہنچ سے باہر ہے۔جب کہ اس کے پاس اس طرح کے دلائل کے لئے کوئی ٹھوس ثبوت
نہیں ہیں در حقیقت اس کی بنیادیں اس کے اپنے گھمنڈ کے سوا کچھ نہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ کسی سند و حجت کے بغیر جو اُن کے پاس آئی ہو، الله کی آیات کو لے
کر جھگڑے کر رہے ہیں اُن کے دلوں میں کبر بھرا ہوا ہے، مگر وه اُس بڑائی کو پہنچنے والے
نہیں ہیں جس کا وه گھمنڈ رکھتے ہیں بس الله کی پناه مانگ لو، وه سب کچھ دیکھتا اور سنتا ہے۔
[۴٠:۵۶]
اگر صرف انسان اپنے اور کائنات کے بارے میں سچائی کو سمجھ لے اور ، اپنے کردار کو
پہچان لے اور اس سے تجاوز کرنے کی کوشش نہیں کرے ، اور اس بات پر یقین بنا لے کہ وه
خدا کی مرضی کے مطابق اور خدا کے تخلیق کے مطابق اسے اپنا کردار ادا کرنے والی مخلوق
میں سے ایک ہے۔ الله ہی ہے جو اکیلا ہی وه جانتا ہے ، تب وه یقینی طور پر خود اور اس کے
آس پاس کی دنیا کے ساتھ سکون ، شائستہ زندگی گزارے گا۔ جب اس نے یہ سمجھ لیا تو وه آسانی
سے خود کو خدا کے اور اس کے دئے ہوئے قوانین کے سپرد کر دے گا۔ اورتب وه بغیر کسی
ہچکچاہٹ کے الله کے احکمات کے سامنے سر تسلیم خم کرلے گا۔
الله کہتا ہے”تو خدا سے پناه مانگو کیونکہ وہی ہے جو سب سنتا ہے اور سب کو دیکھتا ہے۔”
خدا سے تکبر پر پناه مانگنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ یہ کتنا بھیانک فعل ہے۔ہم الله سے
ہر اس چیز سے پناه مانگتے ہیں جو ہمارے لئے ، انسانیت کے بقاء اور فلاح کے لئے ، اور
سماج کے لئے انتہائی بھیانک نتایج کا حامل ہو۔ تکبر ان سب بر ائی کا ذمہ دار اور منبہ ہے۔ مزید
یہ کہ تکبر کرنے والے اور اس کے آس پاس کے لوگوں کے لئے یہ مشکلیں پیدا کرتے ہیں ۔ یہ
دل کی بیماری ہے ، جس دل میں یہ بس جاتا ہےوه اسی طرح دوسرے لوگوں کے دلوں کو بھی
بیمار کرتا ہے۔گھمنڈ عام طور پر الفاظ کے ادائیگی ،انسان کے انداز بیاں اور اس کے چلنے کے
انداز سے اوروں پر ظاہر ہوتی ہے۔
آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنا انسانوں کو پیدا کرنے کی بہ نسبت یقیناً زیاده بڑا کام ہے، مگر اکثر
لوگ جانتے نہیں ہیں۔[۵٧:۴٠[
انسان کو اس عظیم کائنات میں اس کے اصل مقام کے بارے میں بتایا گیا ہے۔ وه خدا کی بعض
مخلوق کے مقابلے میں کس قدر چھوٹا ہے ، جن چیزوں کی بڑی وسعت ہے جو آسانی سے
دکھائی دیتی ہے اور جب انسان ان چیزوں کی ہئیت پر غور کرے تو بڑی آسانی سے ایسے
مخلوقات کی قدر سمجھ سکتا ہے۔
آسمان اور زمین کی ہئیت پر غور کرنے سے انسانوں کو اپنی قدر و قیمت کا اندازه ہونا چاہیے
کہ انسان الله کے ان مخلوقات کے مقا بلے کس قدر چھوٹا اور غیر اہمیت کا حامل ہے ۔ کائنات کے
جب وه ان حقائق پر غور کرتا ہے ، جیسے فاصلہ ، طول و عرض ، حجم اور طاقت کے تناسب
کی حقیقت کو جانتا ہے ، تو وه اپنے بڑائی اور فخر کو پس پرده ڈال کر اپنے آپ کے چھوٹے
پن کو محسوس کرتا ہے اور اس وسیع کائنات میں تقریبا معدوم ہوجاتا ہے، ان تمام باتوں کے
باوجود جب وه خدا کے عطا کرده اعلی عنصر عقل اور فہم کو یاد کرتا ہے تب اسے الله کے
کرم اور نوازش کا احساس ہوتا ہے ، اور جس کی وجہ سےاُسے اشرف المخلوقات کا اعزاز
حاصل ہے۔ یہی وه عنصر ہے جس کے بل پر ، تنہا ہی انسان دوسرے مخلوقات اور کائنات
کے عظمت کے مد مقابل کھڑا ہوتا ہے۔ کائنات پر ایک سرسری نظر کائنات کی عظمت
سمجھنے کے لئے کافی ہے۔
ہم جس زمین پر رہتے ہیں وه صرف سورج کا ایک سیاره ہے، زمین کا حجم سورج کا موازنہ کیا
جائے تو ہم دیکھتے ہیں کہ ہماری زمین سورج کے دس لاکھ حصوں کا تیسرا حصے سے زیاده نہیں ہے جبکہ اس کی پیمائش سورج کی پیمائش کا دس لاکھواں حصہ ہے۔ پھر بھی ہماری
کہکشاں کے تقریباً ایک سو ملین سورج میں سے سورج ایک سیاره ہے۔انسان کو یہ معلومات اس
دور میں ملی ہیں، کہ تقریباً ایک ملین کہکشا ں کائنات کی عظیم توسیع میں معدوم ہو چکے
ہیں ۔ پھر بھی ہم نے کائنات کے بارے میں جو کچھ دریافت کیا ہے وه محض ایک چھوٹا سا حصہ
ہے، کائنات اتنی بڑی ہے کہ جب ہم اسے تصور کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو ہم حیران
ہوجاتے ہیں۔ ہمارے اور سورج کے درمیان فاصلہ تقریباً ، ٩٣ ملین میل ہے۔ سورج ہمارے
سیارے زمین کے کنبہ کا سربراه ہے ، اور غالبا. سورج زمین کی ماں ہے۔ لہذا ، زمین اپنی ماں
کے قریب رہتی ہے ، اس سے صرف پینسٹھ ملین میل دور ہے۔
خدا ہم سے قرآن مجید میں کہتا ہے،” آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنا انسانوں کو پیدا کرنے کی بہ
نسبت یقیناً زیاده بڑا کام ہے، مگر اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں”۔ [۵٧:۴٠[
جب ہم خدا کی طاقت اور قدرت کی بات کرتے ہیں تو ،بڑے سےبڑا ، چھوٹے سے چھوٹا ،
مشکل یا آسان کا تصور لاگو نہیں ہوتا ہے۔ وه ہر ایک چیز کو ایک ہی لفظ سے تخلیق کرتا ہے ،
"ہو جاو!” اور وه ہوجاتا ہے۔ یہاں حوالہ یہ ہے کہ چیزیں اپنے آپ میں کس طرح ظاہر ہوتی ہیں
اور لوگ انہیں کیسے دیکھتے اور اس کی پیمائش کرتے ہیں۔ انسان کائنات کے اس بڑے وسیلے
سے کس طرح موازنہ کرسکتا ہے؟ خدا کی عظیم تخلیق میں اس کا تکبر اسے کس قدر بلند
کرسکتا ہے؟
انسان الله کے سامنے اور اس کے تخلیق کے سامنے کسی بھی قسم کا تکبر نہیں کرسکتا ہے ، اور
نا ہی ایک انسان دوسرے انسان کے مقابلے کوئی حیثیت ظاہر کرسکتا ہے، ہر انسان برابر ہے ،
اور الله کے نظر میں ویہی انسان مقبول ہے ، جو متقیٰ اور الله کو یاد رکھنے والا ہے۔