مسلم حکمرانوں کی دگر قربانیاں!

14

اسی طرح ہندوستان کی تعمیروترقی میں مسلم حکمرانوں نے بہت سارےکارنامےانجام دیئے،یہاں تک کہ غیرمذاھب کےلوگوں کےجذبات کا خیال رکھا،مسلم حکمرانوں نے ہندؤں کی عبادت کیلئے بہت سارے مندر چرچ گاہ وغیرہ بنائے،دوسری طرف مسلمانوں کے لیے مساجد ومکاتب اور مدارس بنانے میں حصہ لیا،تاکہ اخوت و بھائی چارگی باقی رہے انتشار ِفساد کا سبب نہ بنے،
آج ایسے انصاف پسند حسن اخلاق کے پیکر عدل کے مثالی نمونہ اور ایسے امانت دار حکمرانوں کو؛یہ احسان فراموش لوگ ان لوگوں کو غدار خود غرض اور مفاد پرست کہتے ہیں،جنہوں نے اپنے اس ملک کی تعمیر وترقی اور اس کو سنوارنے نکھارنے اور اپنی تمام تر صلاحیتیوں کو قربان کیا ،اپنی تمام تر کوششوں کو صرف کیا،جسکی وجہ سے یہ ملک کوسونے کی چڑیا کہنے لگے جسے دور حاضر کی حکومت نے اسے مفقود کردیا جس کی وجہ سے دوسرے ملکوں کی ناپاک نگاہیں اس سونے کی چڑیا پر اٹھنے لگی،اسیطرح جامع مسجد دہلی بھی ان اسلاف کی منہ بولتی تصویر ہے۔
اسی طرح ان قربانیوں میں سے ایک عظیم قربانی یہ بھی ہے کہ ان مسلم حکمرانوں نے محض ظاہری تعمیر وترقی کا کام نہیں ہے،بلکہ ان کا کردار انسانیت سازی میں بھی ایک نمایا رہا ہے،یہاں تک کہ پوری تاریخ جو تقریباً 9/سو پر مشتمل ہے،لیکن ایک بھی ایسی مثالیں یا ایسے واقعات نہیں ملتے ہیں جو ہندو مسلم،سکھ مسلم یا کسی مذہب کے باہمی فساد دنگا یا معمولی جھگڑے کی طرف اشارہ کررہا ہو،جب کے ہندوستان کو آزاد ہؤے محض 70/سال نہیں گزرے کے،جسمیں تقریباً 25/ہزار سے زائد فسادات ہوچکے ہیں،جو ایک ریکارڈ ہے۔اسکےعلاوہ کتنے ایسے فسادات ہیں جو سرکاری ریکارڈ سے خارج ہے،
بہر حال ایک وہ ہندوستان جو دور ماضی کا تھا جسکو ہم نے جنت نشاں بنایا تھا،آج وہی ہندوستان جہنم کی بھٹی بنا ہوا ہے،
اسی لئے مسلمانوں ممکن ہو کہ مس تقبل کے حالات درست نہ ہو،لہذا کسی طوفان سے آنے سے پہلے ہمیں اور بیدار رہنا ہے اور اپنے ایمان کو مستحکم کرنا ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے… آمین