مولانا عبد القیوم شاکر الاسعدی کا انتقال ملت اسلامیہ کا بہت بڑا خسارہ

48

متحدہ بستی کی عظیم بزرگ شخصیت سمریاواں ( سنت کبیر نگر) اس عالم آب وگل میں جو بھی آیا ہے اس کو ایک نہ ایک دن جانا ہے،اور ہر جانے والا اپنے پیچھے رشتہ داروں تعلق والوں کو سوگوار چھوڑ جاتا ہے،لیکن کچھ جانے والے ایسے بھی ہوتے ہیں جن سے نہ صرف رشتہ دار اور اھل تعلق ہی مغموم ہوتے ہیں بلکہ اطراف و اکناف کے علاقے بھی ماتم کدہ ہوجاتے ہیں، ایسے ہی جانے والوں میں ایک نام مولانا عبد القیوم شاکر الاسعدی ناظم مدرسہ اصلاح المسلمین جمدا شاہی بستی کا بھی ہے جنہوں نے احباب واقارب کے علاوہ ہزاروں شاگردوں اور قرب وجوار کے لوگوں کو سوگوار چھوڑ کر دعوت رحیل کو لبیک کہا۔
مولانا عبدالقیوم شاکر الاسعد ی کے اِنتقال کی خبر سے ضلع سنت کبیر نگر کے مکاتب ،مدارس کے اساتذہ کرام ،علمائے کرام،ملی تنظیموں،سیاسی رہنماؤں،نے گہرے رنج و کا اظہار کرتے ہوئے اسے ملت اسلامیہ کا عظیم خسارہ قرار دیا۔
یوپی علماء بورڈ کے صدر مولانا شعیب احمد ندوی ،جنرل سکریٹری مولانا فضیل احمد ندوی ،مدرسہ تعلیم القران سمر یا واں کے مہتمم مولانا منیر احمد ندوی،صدر مدرس مولانا غفران احمد ندوی،اجیا ر وکاس منچ کے صدر انوار عالم چودھری،جنرل سکریٹری مجیب الرحمن قاسمی،مو لانا قیام الدین،سماجوادی پارٹی کے ضلع صدر گوہر علی خان ،ضلع نائب صدر محمد احمد،مولنا ریاض الحق،
اور مولانا محمد حسان ندوی ناظم مدرسہ عربیہ مصباح العلوم مہولی نے اپنے تعزیتی بیان میں کہا، مولانا نے کہا اللہ کے نیک بندے اپنے انوار وبرکات سمیت جس تیزی کے ساتھ رخصت ہورہے ہیں اور یہ جگہ ظلمات سے بھر رہی ہے، مولانا محمد عبد القیوم شاکر الاسعدی ہماجہت شخصیت کے مالک تھے درس وتدریس ان کا اہم مشغلہ تھا اور تصوف وسلوک میں انہوں نے اپنا تعلق مولانا اسعد اللہ رحمۃ اللہ علیہ سے قائم کیا ان کے وفات کے بعد مظاہر علوم سہارنپور کے ناظم اعلی مرحوم مولانا محمد سلمان مظاہری سے اپنا تعلق قائم کیا، غرض کہ مولانا نے جہاں درس وتدریس کا فریضہ کافی عرصہ سے ادا کیا وہیں مدرسہ کے ناظم اعلی کے عہدے پر فائز رہے وقت کی پابندی خود بھی کرتے اور اساتذہ کو پابند کرتے اس خود غرض اور شہرت پسند دنیا میں انہوں نہایت سادگی اور خلوص کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں نبھائیں، بالخصوص تصوف اور سلوک میں اپنے کو فنا کرکے محبوبیت اور مقبولیت کے درجہ کو حاصل کیا اور اسی کی برکت اور فیض رہا کہ مولانا ہر کام خالص اللہ کے لئے اور دنیا سے بے غرض ہوکر کیا، ان کے جانے سے پوری ملت اسلامیہ اور بالخصوص غیر منقسم بستی اپنے کو بے سہارا محسوس کررہا ہے، ان کے ہزاروں شاگرد ملک اور بیرون ملک میں دینی خدمات انجام دے رہے ہیں جو ان کے لئے نجات کا ذریعہ ہیں،
خدا وند قدوس مولانا مرحوم کی خدمات کو قبول فرمائیں اور ان کو اس کا بہتر بدل عطا فرمایے۔
پرائیویٹ اسکول مینجر ایسو سی ایشن کے مقصود ندوی ،شمشیر احمد،فیضان احمد،نثار احمد ندوی، ظفیر علی ظہیر علی،محمود چودھری،فیروز ندوی، انجمن افکار ادب کے صدر بزرگ شاعر مجیب بستوی نے اپنے تعزیتی بیان میں کہا کہ یہ ہمارے لیے بہت ہی افسوسناک حادثہ ہے۔ہمارے درمیان سے ایک اہم اور عظیم شخصیت کا جانا امت کا ایک بڑا خسارہ ہے. حضرت مولانا عبد القیوم صاحب رحمہ اللہ جو کہ مولانا اسعد اللہ خاں صاحب کے خلیفہ اجل تھے.نیزحضرت قاری صدیق احمد صاحب باندوی رحمہ اللہ کے بہت قریب اور عزیز تھے. مظاہر العلوم سے فراغت کے فورا بعد اصلاح المسلمین جمدا شاہی میں تقرری ہوئی اور آج تک تقریبا 65 سال بے لوث خدمت انجام دیتے رہے. رب کریم سے دعا کہ حضرت کی بال بال مغفرت فرما کر کروٹ کروٹ جنت نصیب فرمائے.پسماندگان کو لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے
جمعیتہ علماء سنت کبیر نگرکا اظہار تعزیت
اس وقت ملت اسلامیہ نازک حالات سے دو چار ھے، اکابرین امت کا وجود بلاشبہ ڈھارس تھا۔، ایسے وقت میں بزرگوں کی رحلت انتھائی غم کی بات ھے
مولانا عبدالقیوم صاحب مظاہر ی، رحمۃ اللہ علیہ بلاشبہ اس وقت ملت کیلیے ڈھارس تھے۔ اپ ۔ نےظاہری علوم کیساتھ علوم باطنی پر، بھی توجہ دی تھی۔ اور اپنے اسلاف کے طرز پر اس کی ترویج واشاعت میں، بھرپور
جدوجہد کی
مولانا، محمد عمر قاسمی، مولانا معشوق احمد مظاہر ی
حافظ ریاض، احمد حمید ی، مجیب بستوی، وقار اثر ی، مولانا ابرار احمد قاسمی مولانا افضل صاحب مظاہر ی نے دلی رنج و غم کا اظھار کرتے ہوئے اھلِ خانہ، کی خدمت میں تعزیت، مسنونہ پیش کیا ھے اور اھلِ مدارس ومکاتب سے، ایصال ثواب کی اپیل کیا۔ ھے