ایک روپئے کی عزت!

32

روزنامہ نوائے ملت 1 ستمبر 2020 یوں تو روپیہ، روپیہ ہوتا ہے، بیش بہا، قیمتی اور قابل قدر.. وہ ریاست کی مقتدری کی علامت ہے.. ایک اور دو سو اور سینکڑوں عدد کا کھیل ہے.. اسی طرح عزت، انسانی قدر کے مفہوم کی ایک ناقابل تقسیم اکائی ہے.. یہ تھوڑی ،زیادہ، چھوٹی یا بڑی نہیں ہوتی.. بس ہوتی ہے، یا پھر نہیں ہوتی..اس طرح عزت کا تول ایک ہی ہوگا اور اس کا مول بھی ایک ہی ہوگا… اپنے ہاتھوں گنوائی عزت واپس لی ہی نہیں جاسکتی.. ہاں کوئی دوسرا پامال کردے تو اس کی تلافی کی کچھ صورتیں ہیں جن سے بے عزت ہوا فرد جماعت یا ادارہ کچھ تسلی کرلے سکتا ہے..

تسلی کی انھیں شکلوں میں سے ایک شکل ہے، بے عزتی کے مرتکب پر کچھ مالی جرمانہ عائد کرنا.. لیکن عموماً جرمانے کی رقم کی مقدار جرم کی سنگینی اور اس کے ارتکاب کے متعلقات دیکھ کر طے کی جاتی ہے.. تاہم انصاف کے طالب اور انصاف رساں بھی گوشت پوست کے بنے انسان ہوتے ہیں، جذبات رکھتے ہیں، عجلت پسندی، تحمل جیسی بشری خامی اور خوبی کے حامل ہوتے ہیں.. اور کبھی کبھی معاملہ دانت اور زبان، جلد اور ناخن کا سا ہوجاتا ہے، بات میں گانٹھ یہاں پڑتی ہے.. اور اونٹ سوئی کے ناکے میں پھنس جاتا ہے.. مانییہ شری پرشانت بھوشن جی سیئیر وکیل سپریم کورٹ، اور عدالت عظمیٰ کے بنچ کے درمیان پیچ یہیں پھنس گئی.. پچھلے چار معزز چیف جسٹسز کی کارستانیوں اور آزاد ہندوستان کی عدالتی تاریخ کی روشن روایتوں کے درمیان پہلی مرتبہ رسہ کشی کا منظر دیکھنے کو ملا.. حکومت وقت کی خواہش کے، قدرے اہتمام سے احترام نے، وکیل موصوف کا منہ کھلوادیا..

وکیل صاحب نامور سینئر وکیل ہونے کے ساتھ ساتھ، سماجی جہد کار بھی ہیں اور مفاد عامہ کی بہت ساری عرضیوں کے محرک ہیں، جو عموماً سرکار کے خلاف ہی ہوتی ہیں، اس لئے معاملہ نے کچھ خاص حساسیت اختیار کرلی… نوٹسز کے اجرا، سماعتی پینل کی تشکیل، اور دیگر معاملات پر سپریم کورٹ کے طریقہ کار اور پچھلی عدالتی روایتوں سے انحراف کی بات کہہ کر وکیل موصوف گھر گئے.. معاملہ بنچ اور بار کا تھا.. اس لئے اس میں بڑی سختی نہیں دکھائی جاسکتی تھی. اور پھر پرشانت جی کی حمایت میں پورے ملک سے اور خاص طور پر وکلاء برادری،اور بار ایسوسی ایشنز کی طرف سے بڑی حمایت ملنے کی وجہ سے بھی معاملہ کو علامتی رکھنے میں عافیت جانی گئی.. پہلے تو ان سے معذرت کا مطالبہ کیا گیا تاکہ معاملہ رفع دفع ہوجائے لیکن پرشانت جی کے تیور نے بات اور مشکل کردی..

انھوں نے سزا لینے اور اس کی تجویز پر اصرار کیا.. عدالت عظمیٰ یہ نہیں چاہتی تھی اور اپنی عجلت پسندی کی جال میں پھنس چکی تھی.. لیکن منہ بچانے کے لئے کچھ نہ کچھ کرنا ہی تھا،، سو طے ہوا کہ،، ملک کی سب سے بڑی عدالت اپنی پامال عزت، مبلغ ایک روپیہ میں خرید کر بحال کر لے.. پھر دہراتا ہوں کہ روپیہ روپیہ ہوتا ہے .. ایک ہو کہ سو قابل قدر اور بڑا..