خود کا کیا بھگوان پر ڈالے

35

گزشتہ چھ سال کا ہم ملکی سطح پر جایزہ لیں تو ترقی خوشحالی ؛ فراغ حالی سکون و اطمینان تاحد نظر نہیں آتا بلکہ پہلی جو ہم درست حالت میں تھے اس سے بھی بد تر حالت ہوگیی ہے عروج و ارتقاء تعلیمی بلندی کسب معاش کی بے فکری اورشاداب ہندوستان کی تصویر عنقاء سی ہوگئی ہے ..
ظاہر ہے اس پستی و زوال کی ذمہ داری عوام کے سر نہیں ہو سکتی کیونکہ وہ تو اپنی توانائی اور دعائیں ملک کی بہتری و ترقی کے لئے صرف کرتے ہیں اور اپنی گاڑھی کمائی میں سے ہر چیز کے ٹیکس کی ادائیگی کے ذریعہ ملک کی معاشی تقویت میں عہدیداروں کے شانہ بشانہ ہیں اس پستی کا ٹھیکرا ہم ان کے سر نہیں رکھ سکتے کیونکہ یہ سراسر ناانصافی ہوگی کہ ہم اس کے ذمہ دار ان کو ٹھرایں ..

اس انحطاط و کسمپرسی معاشی تنگی ؛ بڑھتی مفلسی ؛ بے روزگاری کے ذمہ دار وہ ہیں جن کے زیر تصرف یہ ملک ہے ملک کا گوشہ گوشہ اور کونہ جن کے اختیار میں ہیں یہاں تک کہ عدلیہ بھی جن کے زیر نگیں اور انگلی کے اشاروں پر ہے اس حالت کے قصور وار ادارہ جات میں مسند نشین افسران ہیں اور سب سے بڑھ کر مرکز کا زمام جن کے دست کار میں ہیں وہ اس کے خاطی ہیں ملک کو کھای اور تاریکی میں لے جانے کے گناہ میں زیر اقتدار لوگوں کی برابر کی شراکت داری ہے جنہوں نے اقتدار کے نشے میں مخمور زیر اقتدار ہونے کا مطلب و مفہوم ہی فراموش کر بیٹھے اور ملک کو اس ابتر حالت میں لا کھڑا کر دیا ہے .
مگر افسوس ہے جب کہ ان کو اپنی خامیوں پر نظر ثانی کرنی چاہیے اپنی غلطیوں کے ازالے کیلئے فکر مند ہونا چاہیے اور ملک کو اس بحران سے نکالنے کے لیے فکر و تدبر سے کام لینا چاہیے ان سب سے ماورا وہ اپنی ناکامی کبھی مسلمان سر تھوپتے ہیں مگر اس حربے میں ناکامی کے بعد اپنی غلطیوں کا دوش ملک کے لوگو پر ڈال دیا اور ناکامی کا ٹھیکرا کا عوام پر پھوڑ دیتے ہیں اور اب جب ان سب سے بھی بات نہیں بنی تو اب سیدھا بھگوان کو ہی دوشی بنادیا اور محترمہ جب اپنے فریضے کی ادائیگی میں ناکام ہوگئی تو اب کہ رہی ہیں کہ یہ سب بھگوان کی کرپا و مہربانی ہے مطلب یہ کہ خود کا کیا بھگوان پر ڈال دو حد ہوتی ہے کسی بھی چیز کی محترمہ .
اس طرح کے غیر ذمہ دارانہ اور مضحکہ گفتگو کرنے سے پہلے تھوڑا عقل کا بھی استعمال کر لیتے کہ خدا ہی کی مہربانی ہے کہ ملک صحیح سالم ہے ورنہ جس طرح کا رویہ اور بے فکری کا مظاہرہ حکومت نے ملک کے متعلق روا رکھا ہے کب کا ملک کاسہ لے کر دوسرے کے در پر کھڑا ہوتا اپنی کوتاہی قبول کرنے کے بجز انتہائی مضحکہ خیز انداز میں کہ دیا کہ یہ سب بھگوان کرپا ہیں اگر ذمہ داری پوری نہیں ہوتی ہے تو کھل کر اس کا اعتراف کریں مگر اس طرح کے جاہلانہ گفتگو سے جہل پن نہ دکھائیں اور ملک کے باشندوں کے جزبات کے ساتھ کھلواڑ نہ کریں
ویسے سب کچھ تو فروخت ہو ہی چکا ہے اور ملک کا بیشتر حصہ غیروں کو رہن پر دے دی گئی ہے اب اس طرح کے بیانات سے اپنی ناکامی کو نہ چھپائیں بلکہ کام پر دھیان دیں اور اس حالت کے ازالے کی فکر کریں حد ہے یار غلطی خود کریں اور دوشی خدا کو قرار دیں ذرا تو شرم کریں