دشت کربلا سے آتی ہے یہ صدا۔۔۔

40

       آج سے یہی کوئی تقریباً چودہ سو برس پہلے ایک نہایت ہی مقدس و معظم قافلہ مکہ کی گلیوں میں پا بہ رکاب ہے، جس کا سالار نواسۂ رسولؐ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ ہیں، قافلے کے ساتھ پردہ نشیں عورتیں اور بچے بھی آمادۂ سفر ہیں، اس مقدس قافلے کی منزل کوفہ ہے، مقصد اس سفر سے حصولِ اقتدار اور قبضۂ امارت نہیں بلکہ اعلاءِ حق اور ازہاقِ باطل ہے، مکہ کے گلی کوچوں میں اس قافلے کی روانگی کے چرچے عروج پر ہیں، الوداعی سلامی دینے کے لئے عقیدت مندوں کا ہجوم کسی رکے ہوئے سیلاب کے مانند امڈتا چلا آ رہا ہے، فراقِ حسینؓ کے غم میں ہر ایک آنکھ نمناک ہے اور دل ایک انہونے اور ان دیکھے خدشے کی وجہ سے چیخیں مار رہا ہے کہ "ہو نہ ہو حسینؓ کے اس نورانی مکھڑے اور چاندنی چہرے کا دیدار دوبارہ نصیب نہ ہو”۔
     یہ وہ دور تھا جب حضرت امیرِ معاویہؓ کے وصال کے بعد آپؓ کا بیٹا ابو خالد یزید کرسئ امارت پر متمکن ہوا، یزید کی امارت مذہبِ اسلام اور دینِ محمدیؐ کے لئے کسی ناسور سے کم نہیں تھی ،کیونکہ اس کے زہرناک جراثیم پوری ملتِ بیضاء کی روح کو مضمحل کرکے رکھنے والی تھی، وجہ اس کی یہ تھی کہ یزید اپنی ذاتی حیثیت اور پُرفسق زندگی کی وجہ سے کسی طور بھی اس قابل نہیں تھا کہ مسندِ امارت پر براجمان ہو، جبکہ اس وقت کبارِ صحابہ اور جلیل القدر تابعین کا ایک جم غفیر موجود تھا، جس میں خلیفۂ رابع حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے فرزندِ ارجمند اور وجہِ تخلیقِ کائنات، تاجدارِ عرب و عجم جنابِ نبی کریم ﷺ کا نواسہ حضرت حسینؓ نمایاں مقام رکھتے تھے۔
      یزید نے مسندِ امارت سنبھالتے ہی ملکِ عرب کے طول و عرض میں پھیلی حکومتوں کے امیروں کے نام نامہ بروں کی معرفت یہ فرمان ارسال کیا کہ ” حضرت امیر معاویہؓ کا وصال ہوگیا ہے، لہذا اب اس کے بعد میرے نام پر بیعت لی جائے” اس وقت مدینہ کا امیر ولید بن عتبہ تھے، جو ایک نہایت ہی نیک طبیعت اور صلح جو آدمی تھے، جب ولید بن عتبہ کے پاس یزید کا قاصد پہونچا تو آپ نے حسبِ حکم حضرت حسینؓ سے یزید کے نام پر بیعت لینے کا ارادہ ظاہر کیا، حضرت حسین ؓ نے یہ کہہ کر کہ ” ابھی یزید کی بیعت پر میرا دل مطمئن نہیں ہے، میں کچھ سوچ کر فیصلہ کرونگا ” بیعتِ یزید کو اگلے دن پر ٹال دیا، لیکن! آپ کا دل کسی بھی طرح بیعتِ یزید پر مطمئن نہیں ہو رہا تھا، لہذا آپ اگلا دن آنے سے پہلے ہی رات کے وقت موقع نکال کر اپنے اہل و عیال کے ہمراہ مدینہ سے خروج کر کے مکہ کی طرف کوچ کر گئے، مدینہ میں بیٹھے حامیانِ یزید نے والئ مدینہ ولید بن عتبہ کو بہت اکسایا کہ حسینؓ کے قافلے کا تعاقب کیا جائے، اور اسے پا بجولاں یزید کے پاس روانہ کردیا جائے! مگر ولید بن عتبہ نے جواب دیا کہ میں ہرگز حسینؓ کا تعاقب نہ کرونگا، ممکن ہے کہ حسینؓ میرے خلاف برسرِ پیکار ہوں، مجبورا مجھے حسینؓ کے خون سے اپنے ہاتھ رنگنے پڑیں، اور میں کبھی بھی یہ نہیں چاہتا کہ خانوادۂ رسولؐ کے ایک فرد کا خون بطور قرض میرے کندھے پر ہمیشہ سوار رہے؛
   حضرت حسینؓ کے مدینہ سے خروج کرنے سے ایک رات پہلے حضرت عبداللہ بن زبیرؓ بھی یزید کی بیعت سے عملاً انکار کرتے ہوئے اپنے اہل و عیال کے ہمراہ،مدینہ سے خروج کرکے مکہ کی طرف کوچ کرچکے تھے، اور پھر دونوں ہی قافلہ ایک ہی ساتھ مکہ کی شہر پناہ میں داخل ہوا، حضرت عبد اللہ بن زبیرؓ نے مکہ پہونچتے ہی اس مقصد سے کہ کم از کم مکہ والے یزید کی بیعت کے گناہ سے محفوظ رہیں، اپنے نام پر بیعت لینی شروع کردی، اور ہزاروں لوگوں نے آپ کے ہاتھ پر بیعت کی۔
    ادھر دوسری طرف یزید کا قاصد جب کوفہ پہونچا اس وقت کوفہ کے امیر حضرت نعمان بن بشیرؓ تھے، یہ بھی نہایت نیک طبیعت اور صلح جو انسان تھے، یزید کے قاصد کا کوفہ پہونچتے ہی کوفہ کے لوگوں اور سربرآوردہ افراد نے درپردہ حضرت حسینؓ کو خطوط لکھنے شروع کردیے، ان خطوط کا لب لباب اور ماحصل یہی ہوا کرتا تھا کہ ” آپ کوفہ تشریف لائیں، آپ کے بےشمار چاہنے والے یہاں موجود ہیں، سردارانِ کوفہ کی دلی خواہش آپ کے ہاتھ پر بیعت کرنے کی ہے، آپ بےجھجھک کوفہ چلے آئیں، ہم نعمان بن بشیرؓ کو قتل کرکے آپ کے ہاتھ پر بیعت کرلینگے، پھر کوفہ کی مسندِ حکومت پر قبضہ کر کے آپ کی معیت میں یزید پر یلغار کرینگے اور اس کی بوٹیاں کتوں سے نچوا کر آپ کو پورے مذہبِ اسلام کا امیر مقرر کر دینگے، آپ جیسی مستحقِ امارت شخصیت کے ہوتے ہوئے ہم کسی بھی حال میں فسق و فجور سے عبارت یزید کے ہاتھ پر بیعت کر کے مسندِ امارت کو شرمسار نہیں کرنا چاہتے”۔
      اس سے پہلے بھی امیر معاویہؓ کے زمانے میں بھی خطوط کے تبادلے کے ذریعے کوفیوں کا رابطہ حضرت حسینؓ کے ساتھ بنا ہوا تھا، اب جب آپ یزید کی امارت سے دلبرداشتہ ہو کر مکہ پہونچ گئے تو ایک بار پھر کوفیوں کے خطوط آپ تک پہونچنے شروع ہوگئے، لہذا آپ نے صحیح صورتِ حال سے آگہی حاصل کرنے کے لئے اپنے چچازاد بھائی مسلم بن عقیل کو یہ حکم دے کر کہ ” خفیہ طریقے پر کوفہ میں داخل ہو اور کوفیوں سے میرے نام پر بیعت لو” کوفہ کی طرف روانہ کیا، تقریبا ایک یا دو منزل چلنے کے بعد مسلم بن عقیل نے حضرت حسینؓ کو یہ پیغام ارسال کیا کہ "میرا دل کہہ رہا ہے کہ کہیں یہ سفر نامبارک ثابت نہ ہوجائے، اور کوئی انہونا حادثہ پیش نہ آجائے، لہذا مجھے معاف رکھیں! اور میری جگہ کسی اور کو کوفہ روانہ کردیں” اس کے جواب میں حضرت حسینؓ نے فرمایا کہ ” زیادہ بزدل نہ بنو!وہاں لوگ میری راہ دیکھ رہے ہیں، فورا کوفہ کی طرف کوچ کرو اور میرے نام پر بیعت لینی شروع کرو، اور وہاں کی جو بھی صورتِ حال ہو وہ مجھے فورا لکھ بھیجو!”
       حضرت حسینؓ کے اس فرمان کے بعد مسلم بن عقیل اپنے دل میں انہونے اور ان دیکھے خطرات و خدشات کا ایک طوفان لیکر کوفہ کی طرف روانہ ہوئے، اور خفیہ طریقے پر وہاں پہونچ کر مختار بن عبیدہ کے مکان میں قیام پذیر ہوئے، اور حامیانِ حسینؓ سے حضرت حسینؓ کے نام پر بیعت لینی شروع کردیے، پہلے ہی دن بارہ ہزار کوفیوں نے مسلم بن عقیل کے ہاتھ میں حضرت حسینؓ کے نام پر بیعت قبول کرلی، اس صورتِ حال سے آگاہ کرنے اور اپنے بخیر و عافیت کوفہ پہنچ جانے کی خبر حضرت حسین کو دینے کے لئے مسلم بن عقیل نے قیس و عبد الرحمن نامی دو قاصد کو اس عنوان کا خط لکھ کر حضرت حسین کی طرف روانہ کیا، جس میں اپنے بخیر و عافیت کوفہ پہونچنے اور بارہ ہزار کوفیوں کے بیعت ہونے سے متعلق تحریر کیا اور مزید کے بیعت ہونے کی بھرپور امید ظاہر کی۔
     مسلم بن عقیل کی اتنی بڑی سرگرمی آخر کب تک پردۂ خفا میں رہ سکتی تھی؟ بالآخر ایک دن یہ رازِ پنہاں طشت از بام ہوگیا، جس کے بعد عبد اللہ بن مسلم الحضرمی نامی ایک شخص نے والئ کوفہ نعمان بن بشیرؓ کی خدمت میں حاضر ہوا اور مسلم بن عقیل کی خفیہ سرگرمیوں سے متعلق ان کو آگاہ کیا، اور مسلم بن عقیل کی گرفتاری پر انہیں اکسانے لگا، جس کے جواب میں نعمان بن بشیرؓ نے فرمایا کہ ” جب تک یہ لوگ علی الاعلان آمادۂ جنگ نہیں ہونگے تب تک میں ان کے خلاف کوئی کار روائی نہیں کرونگا”۔
     یہ سن کر عبد اللہ بن مسلم الحضرمی نے یزید کے نام ایک خط لکھا، جس میں انہوں نے حضرت مسلم بن عقیل کی کوفہ آمد اور خفیہ طور پر حسینؓ کے نام پر بیعت لینے کے متعلق بالتفصیل لکھنے کے ساتھ ساتھ یہ بھی لکھا کہ ” نعمان بن بشیرؓ مسلم بن عقیل کو گرفتار کرنے میں تساہل برت رہے ہیں، آپ جلد از جلد کسی سخت قسم اور بدطینت طبیعت کے گورنر کو بھیج کر نعمان بن بشیر کو معزول کریں! مسلم بن عقیل کو گرفتار کرائیں اور حسینؓ کا راستہ روکیں، ورنہ کوفہ کو اپنے قبضے سے نکلا ہوا سمجھیں!”
     عبد اللہ کا خط موصول ہوتے ہی یزید کا سر چکرا گیا، وہ حد درجہ پریشانی اور فکر کے عالم میں اپنے کمرے میں یوں ٹہلنے لگا جیسے کوئی درد زدہ شخص مارے درد کے ایک جگہ ٹک نہیں پاتا ہے، بلکہ وہ ٹہلتے ہوئے اپنے درد کو غلط کرنے کی ناکام کوشش کرنے لگتا ہے، یہی حال اس وقت یزید کا تھا، وہ مارے درد کے  ایک جگہ ٹکنے ہی نہیں پا رہا تھا، کہ اسی حال میں اس کی نگاہوں کے سامنے اپنے والد معاویہؓ کے آزاد کردہ غلام سرجون کا چہرہ گھوم گیا اور بے ساختہ اسے سرجون یاد آنے لگا، اپنے اس خیال کو روبہ عمل لاتے ہوئے اس نے سرجون کو بلانے کے لئے ایک قاصد کو دوڑایا اور خود بدستور پریشانیوں اور ترددوں کے بھنور میں ہچکولے کھاتا رہا۔
   سرجون حضرت امیر معاویہؓ کا ایک آزاد کردہ غلام تھا، طبیعت کے اعتبار سے نہایت دانشمند، سوچ کے لحاظ سے بے انتہا دور اندیش اور ذہانت کے اعتبار سے بےپناہ ذہین آدمی تھا، خود امیرِ معاویہؓ اپنے دورِ خلافت میں ان سے مشورہ لیکر اس پر عمل پیرا ہوتے تھے، اب وہی کام آپ کا بیٹا یزید کرنے جا رہا تھا۔
    تھوڑی دیر نہ گزری تھی کہ سرجون حاضر ہوگیا، جھک کر سلام کیا اور با ادب ایک طرف کھڑا ہوگیا، سرجون کو دیکھتے ہی یزید کا مرجھایا چہرہ گلنار ہوگیا، یزید نے سرجون سے اپنی پریشانی کا اظہار کیا، جسے سنتے ہی سرجون نے اپنا سر جھکا لیا ، آنکھیں بند کر لیں اور کچھ دیر کے لئے اپنے آپ میں بےخود ہوگیا، کافی دیر کے بعد اس نے آنکھیں کھولیں اور اپنے پیوست زدہ ہونٹ کو حرکت میں لاتے ہوئے عرض گزار ہوا کہ ” اے امیر! گرچہ وقتی طور پر میری بات آپ کو بری لگے، مگر جہاں تک میری دانش کہتی ہے وہ یہ ہیکہ اس کام کے لئے عبید اللہ بن زیاد سے زیادہ دوسرا کوئی آدمی مناسب نہیں، آپ عبید اللہ بن زیاد کو کوفہ کا حاکم بنا کر روانہ کریں پھر دیکھیں کہ کیسے آپ کا مسئلہ حل نہیں ہوتا۔
      عبید اللہ بن زیاد بن ابی سفیان یزید کا چچا زاد بھائی تھا، نہایت ہی سفاکانہ طبیعت اور درشتانہ مزاج کا حامل انسان تھا، اپنی نالائقی میں طاق تھا، اس کی منت سماجت کرنے پر امیر معاویہؓ نے اسے بصرہ کا حاکم بنا رکھا تھا، جسے لیکر یزید رقابت کی آگ میں جلا بھنا جا رہا تھا اور اسے بصرہ سے معزول کرنے کے تانے بانے بن رہا تھا، اب جبکہ سرجون نے عبید اللہ کا نام لیا تو وہ پیچ و تاب کھانے لگا، لیکن! اس کے علاوہ اس کے پاس کوئی اور چارۂ کار بھی نہ تھا، نتیجۃ عبید اللہ بن زیاد کو لکھ بھیجا کہ بصرہ میں اپنی جگہ کسی کو اپنا نائب بنا کر چھوڑو اور خود کوفہ جا کر وہاں کی امارت سنبھالو! اب تمہاری امارت میں بصرہ کے ساتھ کوفہ کا بھی اضافہ کیا جا رہا ہے! کوفہ جاکرمسلم بن عقیل کو گرفتار کرو اور حسینؓ کا راستہ روکو کہ وہ کوفہ تک نہ پہونچ پائے! اپنے گمان کے خلاف پیغام موصول ہوتے ہی ابن زیاد کافی خوش ہوا اور اپنی جگہ اپنے بھائی عثمان کو بصرہ کا والی بنا کر خود کوفہ کے لئے روانہ ہوگیا۔
    جس دن ابن زیاد کوفہ میں داخل ہوا اس دن تک اٹھارہ ہزار کوفی حضرت حسینؓ کے نام پر بیعت کرچکے تھے، ادھر کسی نے مسلم بن عقیل تک مخبری کردی کہ کوفہ میں ابن زیاد داخل ہوچکا ہے، یہ سنتے ہی مسلم بن عقیل مختار بن عبیدہ کے گھر سے نکل کھڑے ہوئے اور ہانی بن عروہ کے گھر میں جا پناہ گزیں ہوئے، عبید اللہ بن زیاد کے جاسوسوں نے اسے بتایا کہ مسلم ہانی کے گھر میں روپوش ہیں، لہذا اس بات کو متیقن کرنے کے لئے عبید اللہ بن زیاد نے ایک گمنام آدمی کو جس کا نام معقل تھا ہانی کے یہاں تحفے تحائف دے کر بھیجا اور پیغام اس انداز کا دینے کو کہا کہ مسلم کو شک نہ ہو کہ وہ عبید اللہ کا بھیجا ہوا جاسوس ہے، چنانچہ معقل نامی اس آدمی نے ہانی کے واسطے سے مسلم بن عقیل سے ملاقات کی اور اس انداز سے اپنا تعارف کرایا کہ ہانی اور مسلم میں سے کسی ایک کے فرشتے کو بھی معلوم نہ ہوسکا کہ یہ عبید اللہ کا آدمی ہے، مسلم بن عقیل نے یہ سمجھ کر کہ یہ تو اپنا آدمی ہے اس سے تحفے جو تین ہزار درہم کی شکل میں تھا وصول کرلیا اور اس ڈر سے کہ کہیں عبید اللہ بن زیاد کو خبر نہ ہوجائے فورا ہی پچھلے دروازے سے اسے رخصت کردیا۔
      معقل وہاں سے نکلنے کے بعد سیدھا ابن زیاد کے پاس پہونچا اور اسے یقین دلایا کہ مسلم ہانی کے گھر میں روپوش ہیں، ابن زیاد نے ہانی کو بلاکر گرفتار کرکے اسے جیل خانے میں ڈال دیا، پھر اس کے بعد مسلم بن عقیل کو بھی گرفتار کرلیا، اور اگلے دن انہی ہزاروں کوفیوں کے سامنے جنہوں نے مسلم کے ہاتھ پر بیعت کی تھی ان دونوں کی گردن اڑا دی، کسی بھی کوفی نے اف تک نہ کیا، وہ ایک دوسرے کو یوں تک رہے تھے جیسے انہوں نے مسلم بن عقیل کو قتل کروانے ہی کے لئے ان کے ہاتھ پر بیعت کی تھی۔
    جس وقت مسلم بن عقیل کی گردن خاک و خون میں لتھڑ رہی تھی، ٹھیک اسی وقت حضرت حسینؓ مکہ سے کوفہ کے لئے خروج کر رہے تھے، با وجودیکہ یکے بعد دیگرے عبد اللہ بن عمرؓ، عبداللہ بن عباسؓ اور عبد اللہ بن زبیرؓ نے آ آ کر حضرت حسینؓ سے منت سماجت کی کہ آپ ہرگز ہرگز کوفہ کی طرف کوچ نہ کریں! ہمیں کوفہ والوں کے ارادے اچھے معلوم نہیں ہوتے، کہیں ان کی یہ بنی بنائی سازش نہ ہو، اور آپ کے قتل کے لئے کوئی جال نہ بنا جا رہا ہو، اس سے پہلے ان لوگوں نے آپ کے والد اور آپ کے بھائی کے ساتھ یہی کچھ کیا ہے، کہیں ایسا نہ ہو کہ آپ کے ساتھ بھی وہی دھوکہ دہی کی روایت اپنائ جائے، عبد اللہ بن زبیر نے یہاں تک کہہ دیا کہ میں آپ کی خاطر مکہ کی حکومت سے دستبردار ہونے اور آپ کے ہاتھ پر بیعت کرنے کے لئے تیار ہوں،لیکن خدارا کوفہ کی طرف خروج نہ کریں، لیکن حضرت حسینؓ نے ہر ایک کو یہی جواب دے کر خاموش کردیا کہ مسلم بن عقیل کا خط مجھ تک پہونچ چکا ہے، ہزاروں لوگ میرے منتظر ہیں، اب میرا وہاں جانا ہی مناسب ہے؛
     آخر میں عبد اللہ بن عباس نے یہاں تک کہہ دیا کہ” مجھے معلوم ہے کہ آپ اپنے اس پرعزم ارادے سے باز نہیں آئینگے،ورنہ میں آپ کی اونٹنی کے آگے لیٹ کر بھی آپ کو کوفہ جانے سے روکنے کی کوشش کرتا، اگر آپ جانا ہی چاہتے ہیں تو کم از کم عورتوں اور بچوں کو ہرگز ساتھ نہ لے جائیں! ” مگر حضرت حسینؓ نے نہ ہی اپنے ارادے کو ترک کیا اور نہ ہی عورتوں اور بچوں کو چھوڑ جانے پر رضامند ہوئے۔
   الغرض یہ مختصر سا قافلہ دریا و صحرا دشت و جبل اور وادی و بیابان کو شق کرتا ہوا کوفہ کی طرف بڑھتا رہا، راستے میں کئی لوگوں سے ملاقات ہوئی، ہر ایک نے حضرت حسینؓ کو اپنا ارادہ ترک کرنے کے لئے کہا، مگر حضرت حسینؓ اس گمان سے کہ وہاں مسلم بن عقیل نے میرا راستہ ہموار کر رکھا ہے آگے ہی آگے بڑھتے رہے۔
    ادھر جاسوسوں کی معرفت حسینؓ کے کوچ کی خبر یزید تک پہونچ گئی، یزید نے فورا ہی ابن زیاد کو لکھا کہ حسینؓ مکہ سے نکل چکا ہے، کسی بھی حال میں اسے کوفہ میں داخل ہونے مت دو، اگر ضرورت پڑے تو اسے گرفتار کر لو! یزید کے حکم کے مطابق ابن زیاد نے ایک لشکر عمرو بن سعد کی قیادت میں حضرت حسین کا کھوج لگانے کے لئے روانہ کیا اور ایک دوسرا لشکر حر بن یزید تمیمی کی سربراہی میں اسی کام کے لئے متعین کیا۔
   مختصر یہ کہ حضرت حسینؓ کا کارواں یزیدی جرار افواج کے نرغے میں پھنس چکا تھا، آپ قافلہ لیکر جس طرف بھی نکلتے یزیدی افواج سد سکندری بن کر آپ کے سامنے کھڑی ہوجاتیں، آپ نے بارہا کہا کہ میں تو تمہارے بلانے پر ہی یہاں آیا ہوں، اگر تم کو میرا یہاں آنا منظور نہیں تو میرا راستہ چھوڑ دو میں جدھر سے آیا ہوں ادھر ہی سے چلا جاؤنگا، لیکن حر بن یزید (یہی حر بن یزید لڑائی کے وقت حضرت حسین کے لشکر میں شامل ہوگیا تھا اور آپ کی طرف سے کوفیوں کے ساتھ مقابلہ کیا تھا)نے کہا کہ ہم مجبور ہیں اور اس بات پر مامور ہیں کہ آپ کو زیرِ حراست ابن زیاد تک پہنچائیں، یہ سن کر حضرت حسینؓ نے کہا کہ ابن زیاد کے پاس گرفتار ہوکر جانے سے مر جانا کہیں اچھا ہے، لہذا آپ وہاں سے چل پڑے اور اپنے قافلہ کے ہمراہ ٢/ محرم الحرام ٦٠؁ھ کو میدانِ کربلا میں جا خیمہ زن ہوئے۔
    آپ کے خیمہ کے سامنے عمرو بن سعد نے بھی اپنے لشکر کے ساتھ خیمہ گاڑ لیا، اور حضرت حسینؓ سے جا کر کہنے لگا کہ ” ہمیں پتہ ہیکہ یزید سے کہیں زیادہ آپ مستحقِ خلافت ہیں، لیکن! آپ کا یہاں سے چلے جانا ہی اچھا ہوگا، تاکہ جنگ و جدل کی نوبت نہ آئے” واقعۃ عمرو بن سعد اس کوشش میں تھا کہ حضرت حسینؓ کسی طرح ابن زیاد کے پاس یزید کی بیعت کے لئے چلے جائیں اور جنگ کی نوبت ہی نہ آئے، لیکن حضرت حسینؓ ابن زیاد کے پاس جانے کو تیار نہ ہوئے، اور بالآخر آپ نے عمرو بن سعد کے سامنے تین شرطیں پیش کیں اور ان میں سے کسی ایک کو قبول کرنے کو کہا، اس کے جواب میں عمرو بن سعد نے کہا میں تو اس کا مجاز نہیں، ہاں آپ ضرور اپنی شرطیں پیش کریں، ممکن ہے ابن زیاد تینوں میں سے کسی ایک کو قبول کر لے؛
  اس کے بعد حضرت حسین نے عمرو بن سعد کے سامنے مندرجہ ذیل شرطیں پیش کیں۔
  (۱) میں جدھر سے آیا ہوں ادھر سے ہی نکلنے کی مجھے اجازت دی جائے، میں یہاں سے نکل کر مکہ چلا جاؤنگا اور عبادت و ریاضت میں اپنی بقیہ زندگی گزار دونگا۔
   (٢) مجھے حدودِ اسلام سے باہر نکلنے دیا جائے تاکہ میں دین اسلام کی سربلندی و سرفرازی کے لئے کفار کے ساتھ جہاد کروں اور جہاد کرتے کرتے راہِ خدا میں شہید ہوجاؤں۔
    (٣) مجھے دمشق یزید کے پاس پہونچایا جائے کہ میں براہِ راست انہی سے اپنا معاملہ حل کرلوں۔
     عمرو بن سعد یہ شرطیں سن کر دل ہی دل میں بےانتہا خوش ہوا کہ ان میں سے کسی ایک کو ضرور ابن زیاد قبول کرلے گا اور ایک قاصد کے ہمراہ ان شرطوں کو ابن زیاد کے پاس روانہ کیا،{ ممکن تھا کہ ابن زیاد مان بھی لیتا } مگر ملعون شمر ذی الجوشن { جو حضرت علی کا برادر نسبتی اور عباس بن علی کا سگا ماموں تھا }نے ابن زیاد کو یہ کہہ کر کہ اگر تم نے ” جال میں پھنسے حسینؓ کو قتل نہ کیا اور اسے چھوڑ دیا تو ممکن ہے کہ تم یزید کی نگاہوں سے گرجاؤ، تمہارے پاس یہی موقع ہے یزید کی خوشنودی حاصل کرنے کا کہ حسین اور اس کے ہمراہیوں کو قتل کردو” حضرت حسینؓ کے قتل پر آمادہ کر لیا، اور فورا ہی شمر ذی الجوشن کو حکم دیا کہ جاؤ! عمرو بن سعد سے کہہ دو کہ اگر تم لڑنا نہیں چاہتے تو تجھے گرفتار کرلیا جائےگا اور تمہاری کی جگہ مجھے سپہ سالار بنایا جائے گا، اس پیغام کو سنتے ہی عمرو بن سعد ابن زیاد کے خوف سے حضرت حسینؓ کے لشکر کو غروب آفتاب کے وقت للکارنے کے لئے کھڑا ہوگیا اس کے ساتھ شمر ذی الجوشن بھی تھا، حضرت حسینؓ نے کہا ” اب تو آفتاب غروب ہورہا ہے، کیوں نہ جنگ کو کل پر ٹال دیا جائے”عمرو بن سعد تو مان گیا لیکن! شمر ذی الجوشن ماننے کے لئے تیار نہ تھا اس پر حضرت حسینؓ نے فرمایا "سبحان اللہ کیا تم رات کو بھی لڑنا پسند کروگے” یہ سنتے ہی شمر ذی الجوشن جھینپ گیا اور جنگ کو اگلے دن یعنی دس محرم الحرام ٦١؁ھ کے لئے ٹال دیا۔
   رات رخصت ہوئی، رات کے نمناک لبادے سے سپیدۂ سحر طلوع ہوا، اس دن سورج کی کرنیں بجائے اجالگی پھیلانے کے کرۂ ارضی پر لالی بکھیر رہی تھیں، اب کسے پتہ تھا کہ کرنوں کی یہ لالی ایک ایسے مقدس و مکرم انسان کے خونوں کی لالی ہے جس کا لعابِ دہن بھی فخرِ موجوداتؐ کو بےپناہ مرغوب تھا، یہ اس عظیم ہستی کے جسم کے لہو کی سرخی ہے جس کے جسمِ اطہر کو اپنے کندھے سے مس کرنے کے لئے شہنشاہِ دو عالم بے تاب رہا کرتے تھے، یہ ان خوبصورت انگلیوں سے ابلتے خون کی گلناری ہے جو کبھی فاتحِ خیبر کی انگلیوں میں حمائل ہو کر کھیلا کرتی تھیں اور یہ اس سعادت مند پیشانی کے لہو کی لالی ہے جس پر جگرگوشۂ رسول ، فاطمہ بتولؓ کے چمبندوں کے نشان ثبت تھے، اس دن زمین بھی کانپ رہی تھی، آسمان بھی آنسو بہا رہا تھا، ستارے و سیارے بھی یہ سوچ کر سہمے ہوئے تھے کہ آج ہرا بھرا باغِ آدم نواسۂ رسول کے خون سے لالہ زار ہونے والا ہے اور قدسی صفات فرشتے خوشی سے پھولے نہیں سما رہے تھے کہ آج ان کی پیشین گوئی بر آنے والی تھی۔
   بہرحال خلاصہ اس غم کی داستان اور روح کو مضمحل کردینے والی کہانی کا یہ ہیکہ دسویں محرم کی صبح فریقین ایک دل خراش و جگر تراش جنگ کے لئے صف بستہ ہوئے، اس کے بعد حضرت حسینؓ نے کوفیوں کے سامنے ایک مختصر سا خطبہ دیا، جس میں آپنے کہا کہ اے کوفیو! سن لو! کہ میں نواسۂ رسول ہوں، علی میرا باپ اور فاطمہ میری ماں ہے اور جعفرِ طیار کا میں بھتیجا ہوں، اس نسبی فخر کے علاوہ مجھے یہ بھی فخر حاصل ہے کہ میرے نانا نے مجھے جنت کے جوانوں کا سردار کہا ہے، اے کوفیو! میری پارسائی کا حال یہ ہیکہ میں نے کبھی نماز ترک نہ کی، شراب کے جام کو کبھی ہونٹوں سے نہ لگایا، ناحق کسی مسلمان کو اذیت نہ دی اور نہ ہی کبھی کسی مؤمن کا خون بہایا، تو پھر آخر کیا وجہ ہیکہ تم میری جان کے درپے پڑے ہو، اے کوفیو! اگر آج عیسیؑ کا گدھا بھی زندہ ہوتا تو عیسائی اس کی حفاظت میں اپنی جانوں پر کھیل جاتے، لیکن آخر تم کیسے امتی ہو کہ اپنے رسولؐ کے نواسہ کی جان لینے کے پیچھے پڑے ہو۔
       کسی بھی کوفی کے پاس ان باتوں کا کوئی جواب نہ تھا، سب صف بستہ خاموش کھڑے تھے، فضا میں کچھ دیر خاموشی تیرتی رہی، پھر اس خاموشی کو حضرت حسینؓ کی رنج و الم میں ڈوبتی ہوئی آواز نے توڑا، آپ نے کوفیوں کو مخاطب کرتے ہوئے پوچھا کہ اے کوفیو! ” کیا یہ غلط ہیکہ تم نے مجھے خطوط نہیں لکھے تھے؟ جن میں اپنی وفاداری کا تم نے تذکرہ کیا تھا،” یہ سن کر کوفیوں کی بند زبانیں بیک وقت بول اٹھیں کہ ” نہیں! ہم نے کوئی خط آپ کے پاس نہیں بھیجا تھا، یہ سن کر حضرت حسین نے کوفہ کے سرداروں کے بھیجے ہوئے خطوط نکال کر انہیں دکھانے شروع کردیے، اور فردا فردا ہر ایک کو مخاطب کرتے ہوئے کہنے لگے کہ ” اے فلاں! اے فلاں! کیا یہ خطوط تمہارے لکھے ہوئے نہیں ہیں ؟” اس کے جواب میں کوفیوں نے کہا کہ بھلے ہم نے اس وقت آپ کو خطوط لکھے تھے، پر اب ہم آپ سے اظہارِ بیزاری کرتے ہیں”
    اس کھلی دغابازی کے بعد حضرت حسینؓ نہایت دلبرداشتہ ہوئے اور لڑنے کے لئے اونٹ سے اتر کر گھوڑے پر سوار ہوئے، دشمنوں کی طرف سے اپنے اوپر سے الزام کا داغ دھو ڈالنے کے لئے سب سے پہلا تیر لشکر برحق پر عمرو بن سعد نے چلایا، اس کے بعد فریقین میں گتھم گتھا شروع ہوگئی، اولا مبارزت ( تنہا تنہا) کی جنگ ہوئی جس میں کوفیوں کا خاصا نقصان ہوا، اس کے بعد اجتماعی مقابلہ شروع ہوا، حضرت حسینؓ کے ہمراہیوں نے جی کھول کر دادِ شجاعت پیش کی، لیکن! یہ مختصر سا لشکرِ حسینی یزیدی لشکرِ جرار سے کب تلک لڑنے کی تاب رکھ سکتا تھا، بالآخر حضرت حسینؓ کے سارے جاں نثار یکے بعد دیگرے شہید ہوتے چلے گئے، اب میدان میں صرف تنہا حضرت حسینؓ کی جان باقی تھی اور خیموں کے پیچھے عورتوں اور ننھے علی اصغر کی چیخ و پکار۔
     حضرت حسینؓ نے اپنے گھوڑے کو ایڑ لگائی، گھوڑا چند بارسیخ پا ہوا اور دشمن کی صف میں جا گھسا، اس گھوڑے کا سوار نہایت ہی بے جگری اور جانبازی کے ساتھ دشمن کی لاشوں کے پشتے لگا رہا تھا، لیکن! وہاں ان کی شجاعت و بہادری کو دیکھنے والا کوئی نہ تھا، ان کے دیکھنے والے سارے ساتھی کب  کا ہی ان کا ساتھ چھوڑ چکے تھے، لیکن! شمرذی الجوشن اور عمرو بن سعد آپس میں سرگوشیاں کر رہے تھے کہ خدا کی قسم ” ہم نے آج تک ایسا جری اور بہادر انسان کبھی نہیں دیکھا” دشمن سے لڑتے لڑتے آپ پر ٤٣/ زخم تیروں کے آئے، جسم زخموں سے چور تھا اور ان زخموں سے خون کے فوارے ابل رہے تھے، مگر آپ کی شجاعت و بہادری میں سرِ مو بھی فرق نہیں آ رہا تھا، کہ اچانک ملعون شمر ذی الجوشن نے چھ کوفیوں کو لیکر آپ کو چاروں سمت سے گھیر لیا اور پھر کمبخت سنان بن انس نخعی نے آپ پر تلوار کا ایسا وار کیا کہ آپ زمیں بوس ہوگئے، آپ کے خون کے چھینٹوں سے زمین سرخ ہوگئی، تلوار کی ضرب ایسی کاری تھی کہ آپ دوبارہ سنبھل نہ سکے اور کچھ ہی دیر میں آپ کی روح جسدِ عنصری سے پرواز کر گئی، انا للہ و انا الیہ راجعون۔۔۔
   ملعون شمر ذی الجوشن نے آپ کے سرِ مبارک کو دھڑ سے الگ کیا اور اس بے سر دھڑ پر گھوڑوں کے جھنڈوں کو دوڑایا، یہاں تک کہ آپ کا جسم مبارک قیمہ قیمہ ہوگیا۔۔ لعنۃ اللہ علیہم۔۔۔
      آج اس روح فرسا واقعۂ کربلا کو پیش آئے چودہ صدیاں گزر چکی ہیں، لیکن! آج بھی حسینؓ کا نام زندہ و جاوید ہے، اور تاقیامت رہے گا،یزیدی ٹولوں نے آپ کے نام کو ہمیشہ کے لئے صفحۂ ہستی سے کھرچ دینا چاہا تھا، مگر ان کی ساری کوششوں پر پانی پھر گیا، آج نہ ہی یزید ہے اور نہ یزیدی ٹولوں کا ظلم و جبر، اگر ہیں تو حسینی یادیں ہیں جو ہر روز دشتِ کربلا کے خون آلود کھنڈروں کے پیچھے سے ہمیں یہ آواز لگاتی ہیں، کہ لوگو! حق کی سربلندی اور دینِ محمدی کی سرفرازی کے لئے اگر جان دینے کی باری آئے تو اپنی جان دے دینا لیکن! باطل کے آگے کبھی سر نہ جھکانا۔۔۔۔

                                  ظفر امام، کھجور باڑی
                                   دارالعلوم بہادرگنج