کچھ اچھی پابندیاں

33

انسان آزادی پسند ہے.. اللہ نے اس کو آزاد ہی پیدا کیا ہے.. خالق بھی اپنی تخلیق کے شاہکار، انسان کو اپنے سوا کسی کا پابند نہیں دیکھنا چاہتا.. اسے سب سے زیادہ ناپسندیدہ یہی ہے کہ انسان کہیں اور جھکے.. یہ ایک پہلو ہے.. دوسری طرف اللہ تعالیٰ نے اس پوری کائنات کو، جس کا ایک حصہ انسان بھی ہے، انتہائی درجہ پابند بنایا ہے.. ایٹم اور الکٹران کے فاصلے متعین ہیں.. ستاروں کی چال مقید ہے، سورج، چاند سیارے سب کے محور ہیں جن سے بال برابر بے ترتیب ہٹنا قانون قدرت نہیں.. پانی کی مقدار، ہوا کا حجم، زمین کی سطح، پہاڑوں کا توازن، ذرے ذرے کا وزن سب کچھ طے کردہ ہے.. اور اسی پر کائنات کی بقا اور فنا ٹکی ہوئی ہے..
انسانی زندگی کی خوبصورتی بھی آزادی اور پابندی کے اسی توازن میں پوشیدہ ہے.. بے مہار آزادی فطرت سے بغاوت ہے، اور بے رحم پابندی ذی روح برداشت نہیں کرسکتا.. اسی توازن کا خلل ہمارے اکثر مسائل کی بنیاد ہے، اور ان کاحل اس توازن کی واپسی ہے.. انسانوں نے اپنے ہاتھوں بہت ساری چیزیں برباد کرلی.. ماحولیات کو تباہ کیا، آبی، فضائی، بصری، سمعی آلودگی پیدا کی. ریڈیئیشن (تابکاری) بڑھائی.. اور سب سے زیادہ اپنی بنی بنائی اچھی عادتیں خراب کرلی، جو زندگی کی بربادی، بےبرکتی، نفسیاتی ہیجان، اور شب و روز کی بے ترتیبی کا باعث بنی..
حالیہ وبا میں بدرجہ مجبوری دنیا کی تمام بےبس حکومتوں نے، بے بسی کا اعتراف کرتے ہوئے، زندگی کی حد سے بڑھی ہوئی، بے ضرورت، سرگرمیوں سے دست برداری اختیار کی.. اور خود کو سمیٹنے میں عافیت دیکھی.. ہر ملک میں نیا لا آف لیونگ ترتیب دیا گیا.. جس کے بعض ایسے اچھے نتائج نکلے جو محسوب کردہ نہیں تھے.. مواصلاتی پابندی نے، حیرت ناک حد تک آلودگی کو کم کردیا.. دنیا فرانس کے صنعتی انقلاب سے لے کر اب تک جس آلودگی سے نبردآزما تھی وہ یک دم کم ہوگئی.. ہمارے ملک میں شادیوں کی تقریبات نے شہری زندگی کی ساری چولیں ہلادی ہیں.. بڑے شہروں میں ساری رات تقریب جاری رہتی ہے، اور مالی وسائل کا بے دریغ اتلاف ہوتا ہے.. کھانوں کے تنوع سے لیکر مہمانوں کی کثرت تعداد تک، سب کچھ بے اعتدال ہے.. شادی کی تقریب میں شرکاء کی تعدادصرف 50 تک محدود کردینے کے بڑے اچھے نتائج سامنے آئے، خصوصاً لڑکی والوں کی عام طور پر خوشی دیکھی گئی، کیوں کہ غیر مسلم تو اپنی جگہ مسلمانوں میں لڑکی والوں سے کھانے کا زیر بار کرنے والا مطالبہ عام ہو چلا ہے. اس پابندی نے ان بوجھ کم کیا..
وبا سے نجات کے بعد، اگر یہ چند ایک پابندیاں دنیا اور ہمارا ملک مستقل کرلے تو زندگی، یقیناً ایک نئی بحالی دیکھ سکے گی.
مواصلات کا کم استعمال ہو .. جو بے انتہا آلودگی پیدا کرتا ہے، ایندھن کے غیر محتاط استعمال سے سبھی ترقی پذیر ملکوں کا قیمتی زرمبادلہ خرچ ہوتا ہے…
کاروباری سرگرمیاں، خصوصاً رات دیر گئے تک والی محدود کی جائیں تاکہ انرجی کا استعمال کم ہو.. زندگی کی زائد سرگرمی کم ہوسکے..
شادی کی تقریبات ایسی ہی محدود ہوا کریں، تاکہ اسراف بیجا سے نجات ملے اور لوگ سکھ کا سانس لیں..
ان پابندیوں کو، زندگی کے لئے کرونا کا تحفہ سمجھا جائے.. اور ایک مثبت دریافت باور کیا جائے…