راشٹریہ علماء کونسل اسوقت سب سے بہتر متبادل

51

ارریہ(توصیف عالم مصوریہ)نمائندہ نوائےملت
گذشتہ کئی مہینوں سے جو لاک ڈاون کا طویل سلسلہ جاری ہے، اس کی وجہ سے زندگی تھم سی گئی ہے ،معیشت بالکل چرمرا چکی ہے، کروڑوں لوگ بے روزگار ہوچکے ہیں، تعلیم و تعلم کا سلسلہ منقطع ہوچکا ہے  سمجھ میں نہیں آرہا تھا کس موضوع پر قلم کو جنبش دی جائے، اسی گہما گہمی میں ریاست بہار میں انتخاب کا بگل بجا دیا گیا، ملک کی بیشتر پارٹیاں حرکت میں آگئی، ہر ایک اپنے ظرف کے مطابق عوام کو لبھانے کے لئے لمبے چوڑے منشور جاری کررہی ہیں ،اور یہ پہلی دفعہ نہیں بلکہ آزادی کے بعد سے ہی عوام الناس کو سبز باغ دکھانے کا سلسلہ بدستور جاری ہے، لیکن اس پر عمل کتنا ہوتا ہے اس سے عوام بخوبی واقف ہے لیکن کیا کہئے عوام کو اس کو بھی اس کو بھی خواب میں چلنے کی عادت ہوگئی ہے، چنانچہ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ سات دہائیاں گزرنے کے بعد بھی ہماری حالت جوں کی توں ہے، ملک کے طول و عرض میں مختلف مذاہب و مشارب اور طبقات نے اپنی قوم کی سربلندی کے لئے کوششیں کیں اور کچھ حد تک کامیاب بھی رہے، لیکن افسوس ہے مسلم سماج پر اس نے آج تک صرف دوسروں کو ہرانے کیلئے، فرقہ طاقتوں کو ناکام بنانے کے لئے، مسلم قیادت کو ہرانے کے لئے،  سیکولرازم کو بچانے کے لیے لگاتار اپنی توانائیاں صرف کررہا ہے لیکن نتائج صفر ہی رہے، چنانچہ آج سے ایک دہائی قبل ایک دلخراش سانحہ کے سبب بے سروسامانی کے عالم میں چند نفوس پر مشتمل "راشٹریہ علماء کونسل ” کا قیام عمل میں آتا ہے ،جس نے صرف ایک قلیل عرصے میں پورے ملک اپنی الگ شناخت قائم کرلی ہے، یہ شناخت کوئی فیس بک ،واٹس آپ یا انسٹاگرام والی نہیں ہے بلکہ اس کے کاموں کی بنیاد پر ہے، جس کی شہادت ملک کا ہر انصاف طبقہ دیتا ہے، جس کے لاکھوں کارکنان ملک کے طول و عرض میں دینی ملی سیاسی خدمات انجام دے رہے ہیں، راشٹریہ علماء کونسل مسلمانوں کی عظمت رفتہ کی بازیابی کیلئے کڑی جدوجہد کررہی ہے، اس کی خدمات کو اگر قلم بند کیا جائے تو کئی ضخیم جلدیں تیار ہوجائیں، راشٹریہ علماء کونسل کا قیام ظلم و ناانصافی کے خلاف ہوا ہے، کسی کو ہرانے اور جتانے کے لیے نہیں بلکہ خود جیتنےکے لئے ہوا ہے، آزادی کے بعد ہی سے ایک طبقہ ہمیشہ سرگرم رہا ہے کہ کسی بنیاد پر مسلم قیادت کو پنپنے نہیں دینا ہے، اپنے جھنڈے اور ڈنڈے کے بجائے دوسرے کے جھنڈے کو تھامنا ہے، اپنی حصہ داری کے بجائے فرقہ پرست طاقتوں کو ناکام بنانے کا اعلان کرنا ہے، سیاست کو دین کے منافی بتانا ہے لیکن عین الیکش کے وقت مسلم قیادت کے علاوہ کسی کی حمایت کرنا ہے، یہ طبقہ ہمیشہ اقتداری رہا ہے چاہے کسی وہ کسی کی حکومت ہو ،علماء و مشائخ کو صرف مدارس و مساجد اور خانقاہوں تک محدود کردینا ہے، طوفان حوادث کا سامنا صرف دعاؤں کے سہارے کرنا ہے، مسلم قیادت کے سربراہ کو اتنا بدنام کردینا ہے کہ وہ کہیں منہ دکھانے کے قابل بھی نہ رہے، اس کے ماضی کے اوراق کو پلٹنے کی ناکام کوشش کی جاتی ہے، مسلم قیادت کے امیدواروں کو ووٹ دینا فضول سمجھا جاتا ہے، لیکن جب مصائب و آلام کے بادل منڈلاتے ہیں تو بڑی بڑی باتیں کرنے والے مسلم قائدین سے امید بھی لگائے پھرتے ہیں، لیکن سلام ہو قائد ملت حضرت مولانا عامر رشادی مدنی صاحب پر جو مخالفین کے درد و کرب پربھی  بے چین ہوجاتا ہے، جس کا مطمح نظر مظلوموں کی دادرسی ہے چاہے وہ کسی بھی سماج یا طبقے سے تعلق رکھتا ہو۔
اب ضرورت ہے کہ ہم اپنے سچے رہنماؤں سے بدگمانی کے بجائے صدق دل سے اس کے ساتھ کھڑے ہوجائیں ، سیاست کو شجر ممنوعہ سمجھنے والے کم ازکم اپنے چونچ کو انتخاب کے دوران نہ کھولیں، کسی کو ہرانے اور جتانے کی پالیسی کو چھوڑ کو خود میدان عمل میں اپنی قسمت آزمائیں، کروڑوں روپئے کے ٹکٹ خریدنے کے بجائے وہی رقم مسلم قیادت پر خرچ کرنے کا مزاج بنائیں، نام و نمود اور عہدے و مناصب کے طلبگار مسلم قیادت سے سوشل ڈسٹینسنگ بنائے رکھیں، یہاں حب جاہ و منصب کی قطعا کوئی حیثیت نہیں ہے یہاں خدمت کے جذبات سے سرشار لوگوں کی قدر کی جاتی ہے، یہاں مستقل مزاج افراد کو پہلے نمبر پر رکھا جاتاہے، یہ راستہ کافی طویل اور منزل بہت دور ہے لیکن ہم منزل مقصود تک پہونچیں گے اس کا ہمیں حق الیقین ہے ،بات مختصر کرتے ہوئے ہم یہ بتانا چاہتے ہیں کہ ریاست بہار میں راشٹریہ علماء کونسل تیسرے محاذ کی تیاری کررہی ہے، جس سےصوبہ بہار میں ہلچل پیدا ہونا یقینی ہے، اب ضرورت ہے کہ ہم اتحاد و اتفاق کی آہنی دیوار بن کر ایک مرتبہ اس کو موقع دیں تاکہ پوری ریاست میں ظلم و ناانصافی کا خاتمہ کیا جاسکے، صرف ووٹ ہی نہیں بلکہ حصہ داری کے حصول کو یقینی بنایا جاسکے، ہندو مسلم اتحاد کو عملی جامہ پہنایا جاسکے، تعلیم کی فضاء کو عام کیا جاسکے، رشوت خوری پر لگام کسی جاسکے، بے گناہوں کی گرفتاری پر بندش لگائی جاسکے،روزگار کے بہترین مواقع پیدا کیے جاسکیں تو اٹھ کھڑے ہوں اور راشٹریہ علماء کونسل کی صاف و شفاف سیاست اور ایکتا کا راج چلے گا، مسلم ہندو ساتھ چلے گا ،کے مشن کوصحیح معنوں میں ہر باشندے کے رگ و پے میں پیوست کردیں، آنے والے دنوں میں راشٹریہ علماء کونسل کے امیدوار کو مکمل اکثریت سے کامیاب بنائیں ۔غلامی نہیں دربار میں، حصہ لیں گے سرکار میں ،اس کا عملی مظاہرہ کرکے پورے ملک میں ہر دبے کچلے مظلوم کے لئے نشان راہ مقرر کردیں ،اللہ ہمارا حامی و ناصر ہو
مفتی ابو حذیفہ قاسمی
سرائے میر اعظم گڑھ