میوات کی علمی شخصیت حضرت مولانا حکیم محمد اسرئیل ندوی میواتی رح تواضع اور علم کے پیکر تھے

75

ندوۃ العلماء کی مایہ ناز شخصیت نوجوان محقق استاد محترم حضرت مولانا فیصل احمد بھٹکلی ندوی میوات کے اپنے سفر نامہ میں تحریر کرتے ہیں
"مولانا محمد اسرائیل صاحب ندوی بڑی خصوصیات کے حامل تھے بڑے صاحب علم خاموش مزاح اور تواضع کے پیکر تھے سادگی ان کی طبیعت کا خاصہ تھی حدیث سے ان کو شغف تھا اور حقیقی معنی میں وہ اس کے اور تعظیم کرنے والوں میں سے تھے معذوری اور بیماری کے باوجود مجلس حدیث میں ان کا صبر و ضبط سے بیٹھیے رہنا سلف کی یاد تازہ کرتا تھا”.
استاد محترم مولانا فیصل احمد بھٹکلی آگے لکھتے ہیں: "جب ناچیز نے حضرت مولانا محمد اسرئیل صاحب قدس سرہ سے "بلوغ المرام "پڑھنے کی خواہش ظاہر کی تو پیرانہ سالی کے باوجود فورا تیار ہوگئے حالانکہ طبیعت سخت ناساز تھی اور علاج کے لیے دہلی جانا پڑتا تھا تاہم وہ گھنٹوں بیٹھے رہے اور ان کے سامنے کتاب پڑھی جاتی رہی ان کے صاحبزادے (ثناء اللّہ) نے درمیان میں فکر مندی ظاہر کی لیکن انہوں نے پروا نہیں کی اور کہا :ہماری طبیعت اسی میں لگتی ہے!”
پیدائش
18صفر 1353بمطابق یکم جون 1934م کو جھانڈا ضلع پلول (فریدآباد,علاقہ میوات) میں ہوئ
آپ کاسلسلہ نسب
مولانا حکیم محمد اسرئیل بن الحاج محمد ابراہیم بن عبد الحلیم بن دریا بن دھن سنگھ بن نعمت بن نظام,
آپ کے والد بزرگوار محمد ابراہیم (م26 شوال المکرم 1404ھ بمطابق 26 جولائی 1984ء) صاحب زہد و تقشف پابند صوم و صلوٰۃ, نرم مزاج ,شب بیدار متبع سنت, پاک طینت اور خدا ترس انسان تھے .آپ کو نماز با جماعت کا کس قدر شوق تھا اس کا اندازہ مولانا محمد اسرائیل ندوی کے اس قول سے لگایا جاسکتا ہے, فرماتے تھے کہ "والد محترم سردی ہو یا گرمی اذان سننے ہی مسجد کی طرف اٹھ کھڑے ہوتے.اخیر عمر میں جسم بہت بھاری بھرکم ہوگیا تھا جس کی وجہ سے اپنے قدموں میں مسجد تک چلنے کی سکت نہیں رکھتے تھے مگر پھر بھی کسی کے سہارے چل کر مسجد میں نماز باجماعت ادا کرتے
آپ کی والدہ ماجدہ بھی عابدہ زاہدہ نہایت نیک اور رابعہ صفت خاتون تھیں مولانا فرماتے ہیں کہ میری والدہ محترمہ کی خواہش تھی کہ میں حافظ و عالم بن کر دین اسلام کے خدمت کروں "گھر کا ایک نورانی ماحول تھا لوگ دینی مسائل معلوم کرنے کے لیے مرد وزن والد محترم کی خدمت میں حاضر ہوا کرتے تھے اور اپنے معاملات کو قرآن و حدیث کی روشنی میں حل کیا کرتے تھے,یہی وجہ رہی جو حضرت مولانا نے مکتب کی تعلیم عام دستور کے مطابق گاؤں ہی میں حاصل اور ساتھ ہی ساتھ ہندی اور انگریزی میں پرائمری اور مڈل تک گاؤں اور کوٹ کے گورمنٹ اسکولوں میں حاصل کی مگر آپ کے والدین کی تمنا دینی تعلیم کی تھی اس لیے آپ کو شکراوہ کے مدرسہ جامعہ سلفیہ میں داخل کردیا
یہاں آپ نے کتب ابتدائیہ اور متوسطہ شیخ الحدیث حضرت مولانا عبد الجبار وغیرہ سے پڑھیں
دارالعلوم ندوۃ العلماء میں
چونکہ آپ کو پڑھنے کا غایت درجہ کا شوق تھا اور آپ کے دلی ارمان تھے کہ آپ ماہرین علوم و فنون اور عربی ادب کا ذوق رکھنے والے ماہرین کے سامنے زانوئے تلمذ تہ کریں مگر اپنی علمی تشنگی کو کیوں کر بجھاتے اسی پیش و پش میں تھے کہ کسی نے آپ کو عالم اسلام کی عظیم علمی ادبی اور فکری دانش گاہ میں جانے کا مشورہ دیا اور بتایا کہ وہاں ہر مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے طلباء تعلیم حاصل کرنے کے لیے بر صغیر سے نہیں بلکہ دیگر ممالک اسلامیہ سے اپنی علمی تشنگی بجھانے کے لیے آتے ہیں کیونکہ دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ میں اساتذہ علم و عرفان کی ایک ایسی بستی آباد ہے جس بستی میں علم و فن کے آفتاب و مہتاب اپنی اپنی ضیا پاشیوں سے طالبان علوم نبوت کے قلوب کو منور کررہے ہیں علم و دانش اور معرفت و آگہی کے دریا چار سو موجزن ہیں اس ولی اللّہی بستی کے کاروان علم و ادب اور تہذیب و ثقافت کے بحر بیکراں جلوہ افگن ہے
حضرت مولانا نے یہ سُنا تو گلستان مونگیری ( ندوۃ العلماء)میں خوشہ چینی کرنے لیے 1375ھ مطابق 1956ء میں داخل ہوئے اور حضرت مولانا محمد رابع حسنی ندوی،مولانا حبیب الرحمن سلطان پوری،مولانا ابوالعرفان ندوی، مولانا عبد الحفیظ بلیاوی( صاحبِ مصباح اللغات) مولانا عبد الماجدندوی، مولانا محمد اسحاق صدیقی سندیلوی ندوی،مفتیِ دارالعلوم ندوۃ العلماء مفتی ظہورخان ندوی، مولانامحمد منظور نعمانی اور مولانا اویس نگرامی ندوی جیسے اساطین علم و فن اور نابغہ روزگار شخصیات سے کسب فیض حاصل کیا آپ کا مولانا اویس نگرامی سے خصوصی تعلق تھا اس لیے نگرامی نے آپ کو شیخ الاسلام علامہ ابن تیمیہ اور حافظ ابن قیم کی کتابوں کے مطالعہ کرنے کا مشورہ دیا ,یہاں آپ مفکر اسلام حضرت مولانا ابوالحسن علی ندوی کی بعد نماز عصر منعقد ہونے والی مجلسوں میں پابندی سے شریک ہو کر خوب فائدہ اٹھایا ,
ندوۃ العلماء میں آپ کے درسی ساتھیوں میں استاد محترم حضرت مولانا نذر الحفیظ ندوی ازہری جو حال عمید کلیۃ اللغۃ العربیۃ دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ ہیں
,ندوۃ العلماء میں آپ کا تقریباً چھ سال قیام رہا اور عالمیت تک کا نصاب مکمل پڑھ کر 1381ھ بمطابق 1956ءمیں فارغ ہوئے
عبد الرب دہلی میں
یہاں آپ نے مولانا محمد شفیع دیوبندی (تلمیذ شیخ الہند) سے بخاری اور ترمذی پڑھی اور مسلم ابوداؤد نسائی اور ابن ماجہ مولانا محبوب الٰہی دیوبندی سے پڑھیں اسی طرح حضرت میاں نزیر حسین محدث دہلوی کے شاگرد رشید مولانا عبد الحکیم جیوری (م1972ء) کے سامنے زانوئے تلمذ تہ کیے اور کتب ستہ موطا اور مشکوۃ کے اوائل اور پوری بلاغ المرام پڑھ کراجازت حاصل کی ,یہ آپ کی سب سے عالی سند ہے
ممالک عربیہ کے اسفار
یہی وجہ ہے کہ دنیا جہاں سے عالی سند کے متلاشی آپ کے پاس آتے تھے اور آپ کو بڑی قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھتے تھے یہی نہیں بلکہ وہ حضرات آپ کو اپنے وہاں مدعو کرتے جن ممالک میں کویت بحرین اور سعودی وغیرہ کا نام قابل ذکر ہیں
اہل علم کی نظر میں
ندوۃ العلماء کی مایہ ناز شخصیت نوجوان محقق استاد محترم حضرت مولانا فیصل احمد بھٹکلی ندوی میوات کے اپنے سفر نامہ میں تحریر کرتے ہیں
"مولانا محمد اسرائیل صاحب ندوی بڑی خصوصیات کے حامل تھے بڑے صاحب علم خاموش مزاح اور تواضع کے پیکر تھے سادگی ان کی طبیعت کا خاصہ تھی حدیث سے ان کو شغف تھا اور حقیقی معنی میں وہ اس کے اور تعظیم کرنے والوں میں سے تھے معذوری اور بیماری کے باوجود مجلس حدیث میں ان کا صبر و ضبط سے بیٹھیے رہنا سلف کی یاد تازہ کرتا تھا”.
استاد محترم مولانا فیصل احمد بھٹکلی آگے لکھتے ہیں: "جب ناچیز نے حضرت مولانا محمد اسرئیل صاحب قدس سرہ سے "بلوغ المرام "پڑھنے کی خواہش ظاہر کی تو پیرانہ سالی کے باوجود فورا تیار ہوگئے حالانکہ طبیعت سخت ناساز تھی اور علاج کے لیے دہلی جانا پڑتا تھا تاہم وہ گھنٹوں بیٹھے رہے اور ان کے سامنے کتاب پڑھی جاتی رہی ان کے صاحبزادے (ثناء اللّہ) نے درمیان میں فکر مندی ظاہر کی لیکن انہوں نے پروا نہیں کی اور کہا :ہماری طبیعت اسی میں لگتی ہے!”
اس سے زیادہ حیرت انگیز واقعہ سعودی عالم دین ڈاکٹر محمد الدیباجی نے لکھا ہے کہ :”ہم مولانا سے "بلوغ المرام "پڑھ رہے تھے اس اثناء میں ان کے فرزند ثناء اللہ آئے اور ان سے کچھ کہ کر چلے گئے جب کتاب ختم ہوئ تو ان کے فرزند نے مجھے آکر بتایا کہ امی جان کا انتقال ہو گیا ہے. میں نے پوچھا کہ والد صاحب کو اس کی اطلاع ہے تو انہوں نے کہا کہ درمیان درس میں یہی اطلاع دینے آیا تھا. جس پر انہوں کہا کہ اللّہ تعالٰی ان پر رحم کرے اور تمہیں اجر عطا فرمائے. میں حدیث کا سلسلہ روک نہیں سکتا جب تک کتاب ختم نہ ہوجائے. اس وقت تک تم لوگ انتظار کرو
تدریسی خدمات
آپ کا شمار ان نادرۂ روزگار اساتذہ میں ہوتا ہے جن کو قسام ازل کی طرف سے تدریس کا خاص ملکہ عطا ہوتا ہے آپ سے استفادہ کرنے والے طلبہ آپ کے گرویدہ تھے
آپ نے لمبے عرصے(1987ء) تک جامعہ سلفیہ شکراوہ(میوات) میں تدریسی خدمات بڑی تندہی اور خوش اسلوبی کے ساتھ انجام دیں اس عرصہ میں پندرہ دفع سے زیادہ صحاح ستہ مشکوۃ اور بلوغ المرام وغیرہ کا درس دیا
(1992ء) میں آپ نے اپنے آبائی گاؤں جھانڈا میں مدرسہ قائم کیا یہ جامعہ محمدیہ مالیگاؤں سے ملحق ہے اور اس مدرسہ میں طلبہ کے ساتھ ساتھ تعلیم نسواں کا بھی مکمل انتظام ہے
فن طب سے تعلق
آپ نے علوم عقلیہ و نقلیہ کے ساتھ حکمت کی تعلیم مولانا عبد الجبار شکراوہ سے حاصل کی اور1997ء آپ نے باقاعدہ مطب کا پیشہ اختیار کیا اور انسانیت کی خدمت انجام دی!
مناصب
صدر جمعیت اہل حدیث ہریانہ (1985ء)
رکن شوریٰ جمعیت اہل حدیث ہند
صدر میوات تعلیمی و رفاہی سوسائٹی
صدر مدرسہ محمدیہ جھانڈا
تصنیفات
آپ کو لکھنے کا سلیقہ بھی بدرجہ اتم موجود تھا
یوں تو آپ کے قلم گوہر بار سے متعدد کتابیں نکل منصہ شہود پر جلوہ گر ہوئ مگر جن کتابوں نے اہل علم و فضل سے داد و تحسین حاصل کی وہ یہ ہیں
1) تذکرۃ الامام نذیر حسین محدث دہلوی
2)التعلیقات السلفیۃ علی جامع الترمذی
3) تعلیقات علی تقریب التہذیب
4)تخریج احادیث زوائد صحیح ابن حبان
5) تخریج قطعۃ من احادیث مختصر الخلافیات للبیہقی
غرض یہ کہ وہ صاحب علم و فضل بہترین مصنف بہت دیندار مخلص وفا شعار دوست پرست بہی خواہ مہمان نواز سادگی پسند سلیم النفس اور گوناگوں اوصاف کے حامل بے تکلف انسان تھے
*مفکر اسلام ابوالحسن علی میاں ندوی رحمۃ اللہ علیہ کی نصیحت*
حضرت مولانا حکیم محمد اسرائیل ندوی فرمایا کرتے تھے کہ ندوۃ العلماء سے فارغ ہوتے وقت حضرت مولانا نے ہمیں نصیحت کرتے ہوئے فرمایا کہ :
” مسائل میں اختلاف کبھی ختم ہونے والا نہیں ہے. امت میں کرنے کے اور بھی بہت کام ہیں جو کرنے چاہیے”
*وفات*
‘اے ہجر وقت ٹل نہیں سکتا ہے موت کا’
آپ کی وفات 28 شوال المکرم 1440ھ مطابق 2 جولائ 2019ء کو ہوئ انا للّہ وانا الیہ راجعون
‘ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے’
‘بڑی مدت میں ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا’
‘بحر غم سے پار ہونے کے لیے’
‘موت کو ساحل بنایا جائے گا’
اللہ تعالٰی آپ کو غریق رحمت کرے اور جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے آمین ثم آمین
مولانا مبارک مدنی ویلفیئر آفیسر ہریانہ وقف بورڈ نے مولانا کی عقیدت میں کہا
‘کتنے اچھے لوگ تھے کیا رونقیں تھیں ان کے ساتھ’
‘جن کے رخصت نے ہمارا شہر سونا کر دیا’
*اعتراف*
ان چند سطور میں مولانا مرحوم کی علمی ادبی اور فنی خوبیوں کو بیان نہیں کیاجاسکتا,ان کےلیے دفتر درکار ہے.
__________________:

پیش کردہ
محمد مبارک میواتی آلی میو