جمعہ کا دن اور جمعہ کا خطاب۔

65

اسلام میں اجتماعیت پر جتنا زور دیا گیا ہے وہ اپنی مثال آپ یے، اجتماعیت کی مختلف شکلوں میں سے ایک شکل نماز جمعہ کا اجتماع ہے۔ اور اس میں بھی مزید یہ کہ جمعہ کا خطبہ کس قدر اہمیت کا حامل ہے۔ مگر بد قسمتی سے اس نعمت کا بھی اتنا ہی غلط استعمال ہوتا رہا ہے جتنا دیگر اسلامی اجتماعی امور کا۔
جمعہ کا خطبہ کتنا اہم ہے یہ بات علماء کو بتانے کی ضرورت نہیں ہے، مگر چونکہ علماء ہی خطیب بھی ہوتے ہیں تو مجبوراً یہ بات بھی انہیں کے گوش گزار کرنے کی ضرورت ہے۔
عموماً ہمارے علاقہ میں مساجد میں جمعہ کے دن دو طرح کے تجربات سامنے آتے ہیں۔
1- یا تو کوئئ بھی تقریر نہیں کرتا اور مصلی سنن و نوافل اور فرض نماز ادا کر کے اپنے گھروں کو واپس ہو جاتے ہیں۔
2- دوسری قسم میں دو باتیں مشاہدہ میں آتی ہیں، ایک یہ کہ جمعہ کے دن ممبر پر ایسے افراد جلوہ افروز ہوتے ہیں جن کو خود بھی کلمہ کی صحیح ادائیگی اور معنی و مطلب کا علم نہیں ہوتا، دوسرا یہ کہ ایسے حضرات ممبر کی زینت ہوتے ہیں جو اساطیر الاولین جیسے دیو مالائی قصے سنا کر عوام سے واہ واہی لوٹ رہے ہوتے ہیں۔
ایک عالم دین کی ذمہ داریاں کتنی اہم اور کتنے ہی سماجی امور کو محیط ہوتی ہیں اس کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ جمعہ کے دن خطبہ (تقریر) کا اہتمام کرنا کس قدر ضروری امر ہے۔
یہ ایک مستقل محنت اور ضروری کام ہے کہ کس طرح سے جمعہ کے دن خطبہ (تقریر) کی ذمہ داری ایسے علماء کے سپرد کی جائے جن کو دینی علوم میں مہارت کے ساتھ اپنے گرد و نواح کا بھی بخوبی علم ہو، جن کو اپنے سماجی مسائل کا براہ راست علم ہو، جن کو سماج میں پنپ رہی برائیوں کا علم ہو، قوم کی نفسیات کو سمجھنے کی صلاحیت ہو، مسائل کی صحیح پہچان اور ان کا حل قرآن و حدیث کی روشنی میں پیش کرنے کی صلاحیت ہو۔ وقت آ گیا ہے کہ اس سلسلے میں مستقل محنت شروع کی جائے اور جامع مسجدوں کے اندر جمعہ کے دن خطبہ (تقریر) کو اہم اور ضروری بنایا جائے، اور جو حضرات مساجد میں امامت کا فرض انجام دے رہے ہیں ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے طور پر اس مہم کو ایک نئے ناحیہ سے شروع کریں۔
اگر ہم صرف جمعہ کے خطبہ (تقریر) کو اہمیت اور سنجیدگی سے استعمال کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے تو یقین مانئے کہ اصلاح معاشرہ اور دیگر قسم کے بیجا اجتماعات سے بہت حد تک بچا جا سکتا ہے اور قوم کی گاڑھی کمائی کو بھی بے دریغ خرچ کرنے سے بچایا جا سکتا ہے۔ اجتماع کے نام پر جو کچھ ہمارے معاشرے میں ہو رہا ہے وہ صرف یہی ہے کہ ایک گروہ کے افراد دوسرے گروہ کےافراد کو غلط ثابت کرنے میں وقت صرف کرتے ہیں اور آخر میں ایک پر تکلف دعوت پر اجتماع کا اختتام ہو جاتا ہے۔
ائمہ مساجد جو کہ علماء بھی ہیں اگر اس سلسلے میں مثبت جد و جہد کرنے کا عزم کر لیں تو بہت کم وقت میں بڑی تبدیلیاں آ سکتی ہیں۔
مگر علماء بھی ایسے ہوں جو بات کرنے اور کہنے کا سلیقہ جانتے ہوں، جو خود انہیں برائیوں میں ملوث نہ ہوں جن سے سماج کو روکنا چاہتے ہیں۔
ایسے کام کی شروعات ایسے امور سے کی جا سکتی ہے جن کو عوام بھی اپنی انا کا مسئلہ نہ سمجھتے ہوں اور اگر ان کو سلیقہ سے سمجھایا جائے تو وہ آپ کے ہم خیال بن کر آپ کی محنت کو مزید تقویت دے سکیں گے۔
گروپ میں سے جو حضرات امامت کے منصب پر فائز ہیں وہ اس جانب پیش رفت کر سکتے ہیں اور ہفتہ واری ایک مضمون کو منتخب کر لیا جائے اور اس مضمون سے متعلق قرآن و حدیث سے استفادہ کرتے ہوئے موجودہ مسائل کو سمجھ کر ان کے حل پیش کرنے کی سمت میں کوشش کی جائے۔
اگر اس سمت میں بہتر اور مثبت پہل ہو جائے تو ایک بڑا کام بہت آسانی سے کیا جا سکتا ہے اور وہ کام ہوگا عوام کی بہتر ذہن سازی کا، عوامی بیداری کا، عوام کو موجودہ مسائل سے واقف کرانے اور ان کا حل پیش کرنے کا
__________________
پیش کردہ
مبارک میواتی آلی میو