حکومت کی پہل..اپوزیشن کا کام

44

روزنامہ نوائے ملت) 30 اگست 2020)حکومتیں ہمیشہ غلط کام ہی نہیں کرتیں، اچھے بھی کرتی ہیں.. اپوزیشن کا کام، اس کے اپنے ایجنڈے پروگرام، پالیسی کے تحت، حکومت کے اقدامات کو زیادہ سے زیادہ لانا ہونا چاہئے..نہ کہ ہر اقدام کی آنکھ بند کرکے مخالفت.. اپوزیشن کو دومحاذ ملتے ہیں. حکومت سے پنجہ آزمائی کے.. اور وہ دونوں مثبت ہیں، اگر ان کا استعمال حکمت اور اعتدال سے کیا جائے.. پہلا محاذ، جس پر حکومت کو آسانی سے گھیرا جاسکتا ہے، وہ حکومت کے اپنے الیکشن منشور میں بطور سیاسی انتخابی جماعت درج کردہ پروگرامز ہوتے ہیں. حکومت ملنے کی صورت میں، ان کی عمل آوری کا وعدہ ہوتا ہے.. اپوزیشن ہر گزرتے دن ان پروگراموں کی منصوبہ بندی اور ان پر عمل درآمد کا گراف دیکھے اور حکومت کی کوتاہی کو اپنی عوام کے سامنے شدومد کے ساتھ رکھے، حکومت کو جوابدہ بنائے اور منصوبوں کی تاخیر، کرپشن، کاسٹ کنٹرول کی صورت حال، منصوبوں کا نقص اور ان کی افادیت کے دعوی کی صداقت جانچے، اور حاصل شدہ نتائج عوام الناس کے سامنے رکھے.. یہ کام اخباری بیان بازی، پارلیمنٹ کی ہلڑ بازی، اور میڈیا پر بے ہنگم زبانی ہاتھا پائی سے نہیں ہوسکتا.. اس کے لئے، ہر میدان میں ماہرین کی ٹیم ہونا ضروری ہے، جو باریک بینی سے حکومت کے کاموں اور دعوؤں کا جائزہ لے.. جو ایک دقت طلب کام ہے.. ساری اپوزیشن اس طریقہ کار سے باز ہے.. حکومت کو گھیرنے کے لئے حکومت کی طرف سے فراہم کردہ شمار ہی کافی ہوتے ہیں.. جو اکثر متضاد اور غلط ہوتے ہیں..پچھلی میعاد کے کتنے منصوبے مکمل ہوئے..؟ سو اسمارٹ سیٹیز کس زمین پر ہیں؟ ریلوے کو انفراسٹرکچر سدھارنے کے لیے پانچ سال میں آٹھ لاکھ کروڑ جاری ہوئے؟ ہندوستان کا ڈیجیلائیٹیشن مکمل ہوا؟ سالانہ دوکروڑ ملازمتیں دی گئیں؟ قانونی اصلاحات اور عصری تقاضوں سے ہم آہنگ دفعات بندی ہوئی؟ انتخابی اصلاحات اور انتخابی عمل سے مجرمانہ پس منظر رکھنے والے امیدواروں کو دور رکھنے کی قانون سازی ہوئی؟ جی ڈی پی 10٪ + ہوئی؟ نوٹ بندی کے بعد کالادھن اور جعلی کرنسی ختم ہوئے؟ کرنسی 99.30٪ مالیاتی سسٹم میں واپس آگئی اور آر بی آئی کی پچھلے ہفتہ کی رپورٹ میں جعلی کرنسی کی گردش حیرتناک حد تک بڑھ گئی ہے.. یہ اہم موضوعات ہیں، حکومت نے کچھ کیا نہیں ہے تو وہ ان کو پس پشت ڈال کر نئے نئے موضوعات تراشتی رہتی ہے اور اپوزیشن ان وقتی موضوعات میں خود کو پھنسا لیتی ہے، جو بالکل سطحی بات ہے.. یاد رکھیں جب نئے چانکیہ موضوع بحث خود طے کریں گے تو فریق مخالف سے زیادہ تیار رہیں گے.. اور یہی ہورہا ہے. Neet اور jee
16 ستمبر کو ہوں یا نہ ہوں، کیا یہ ایک انتظامی مسئلہ اتنا اہم قومی مسئلہ ہے کہ راہل گاندھی تین چار دن اس پر صرف کریں؟ لیکن جب یہ ادھیڑ نوجوان اپنے ہی صف اول کے رہنماؤں کو بے جے پی سے سانٹھ گانٹھ کا طعنہ دے سکتا ہے تو پھر بی جے پی سے کن پیادوں اور سواروں کی مدد سے لڑے گا؟ شہ مات ہی کھائے گا…..
دوسرا محاذ، جس پر حکومت کی اچھی گھیرا بندی کی جاسکتی ہے، وہ اپوزیشن کا خود کا پچھلا الیکشن مینیفسٹو ہوتا ہے،. حکومت کی ہر ناکامی پر بندوار اپنے منشور کی افادیت سمجھانا آسان ہوتا ہے، عوام کو باور کرایا جاسکتا ہے کہ ہم نے، ملکی معیشت کے استحکام، قانون کی عملداری، سماجی انصاف کی ضمانت اور صحت تعلیم اور روزگار کی فراہمی کا یہ پلان دیا تھا جو قابل عمل تھا.. اور ابتری کی اس صورت حال سے بچا سکتا تھا.. اپوزیشن کے کسی لیڈر کو اپنا منشور یاد نہیں رہتا.. اور اگلے الیکشن تک اپنے نئے منشور، پالیسی اور پروگرام کا انتظار کرتے ہیں..
آج بی جے پی کا عروج اپنے کسی کارنامے کی بنیاد پر کم، اپوزیشن کے زوال کا مرہون منت زیادہ ہے.. بہرحال اتنی ناکامیوں کا بوجھ اٹھائے کل ایک اچھی پہل رپورٹ ہوئی ہے.. وہ یہ کہ حکومت انتخابی فہرستوں کو یکجا کرنا چاہتی ہے، اور ایک ہی مرکزی ووٹر لسٹ بنانا چاہتی ہے.. اس وقت تین ووٹر لسٹ زیر گردش ہیں، جو بلاوجہ ہیں. ان میں مرکزیت ہونی چاہئے. یہ کام بہت اچھا ہے ، وسائل کے ضیاع کو بچانے والا ہے ، اور بہت سارے دستاویزی تصدیق کا ذریعہ بھی بنے گا.. اپوزیشن اس کام کی مخالفت نہ کرے اور اس کو آسان، شفاف، اور تیز تر بنانے کے لئے اچھی تجاویز پیش کرے..ووٹروں کی مدد کے لئے کیمپ قائم کرنے میں حکومتی جماعت سے مسابقت کرے..حکومت نے کچھ نہیں کیا، بجا ہے.. لیکن اپوزیشن نے بھی بہت مایوس کیا ہے.. اب کچھ کام اپوزیشن کو بھی کرلینا چاہئے..