چاپلوسی۔ زمانے میں آرام کی چیز ہے !

28

تملق وچاپلوسی کی راہ پر چلنے والوں کو اپنی حاجت روائی اور ضرورت کی تکمیل میں کوئی دشواری پیش نہیں آتی اور نہ مقصد کے حصول میں زیادہ پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں، بلکہ وہ بڑی آسانی وخوش اسلوبی وتدبیر سے اپنے مقاصد کو حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کرلیتے ہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ دور حاضر کا انسان بڑی حد تک اونچے اقدار واخلاق سے تہی دست ہوتا اور ضمیر فروشی کا عادی ہو کر عزت نفس کا خیال کم ہی کرتا ہے جبکہ اونچے اقدار کی اساس وبنیاد عزت اور خود داری ہوتی ہے، اور یہ بات زمانہ جاہلیت کے لوگوں کے اندر ہزار کفر وشرک اور ضلالت وگمراہی کے باوجود بدرجہ اتم پائی جاتی تھی اور وہ اپنی خود داری ومروت کو دائو پر لگانا پسند نہیں کرتے تھے،یہ ان کی زندگی کا اصل الاصول اور بنیادی عنصر تھا، اور اس کی حفاظت کے لئے وہ بڑی سے بڑی قربانی بھی دینے کو تیار رہتے۔ ان کا ایقان تھا :
اذا المرء لم یدنس من اللوم عرضہ
فکل رداء یرتد یہ جمیل
اگر انسان اپنی آبرو کو مذموم وقابل ملامت گفتار وکردار سے آلودہ وگندہ نہ کرے تو وہ جو بھی چادر اوڑھے کا اچھا لگے گا۔
ابو سفیان بن حرب سے ہرقل نے اپنے دربار میں جب رسول اللہ صلعم کے بارے میں سوالات کئے تھے تو انہوں نے اس کے جواب میں جھوٹ بولنے کا موقع وگنجائش پانے کے باوجود غلط بیانی سے اسی لئے گریز کیا تھا کہ یہاں تو ساتھی ان کی تکذیب نہیں کرپائیںگے مگر بعد میں جب اس کا چرچا ہوگا تو سماج میں اس کی وجہ سے انہیں مطعون کیا جائے گا ، ان کی مروت خطرے میں پڑ سکتی اور عزت نفس پر انگلی اٹھائی جاسکتی ہے۔
اس زمانے کا انسان خواص ہوں یا عوام، سب کے سب مداہنت کی روش اپنائے ہوئے ہیں، فطری طور پر لوگ اپنی تعریفیں سننا پسند کرتے ہیں ، لوگوں کے سامنے جب ان کی مدح سرائی کی جاتی ، بجا یا بے جا تعریفوں کے پل باندھے جاتے تو وہ اس پر خاموشی اختیار کرتے ، نکیر کرنے کی زحمت نہیں کرتے جبکہ انہیں منہ پر تعریف کرنے سے منع کرنا چاہیے، وہ مدح سرائی کرنے والے ان چاپلوسوں کی حقیقت واصلیت کو جاننے اور پہنچاننے کے باوجود ان کی چاپلوسی کو قبول کرتے اور سادہ لوحی میں گویا اس پر ان کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔
چاپلوسی کی عادت میں مبتلا شخص کو یاد رکھنا چاہیے کہ ان کی اس طرح کی حرکت زیب نہیں دیتی، اور نہ ہی ان کی آخرت کو سنوار سکتی ہے، بلکہ اس کے برعکس فساد وبگاڑ اور آپسی رشتوں کو منہدم کرنے اور تعلقات میں بگاڑ پیدا کرنے کا سبب بنتی اور قابل احترام معزز شخص کی بے وقعتی و خفت کا بسا اوقات ذریعہ بنتی ہے۔ جو لوگ اپنے علم وفضل صلاحیت وکمالات ، عزت وشہرت ، مہارت وحسن بیان ، تحریر وتقریر کی سحر انگیزی اور اپنے فن میں مکمل دسترس اور اپنے میدان میں ید طولی رکھنے کی وجہ سے اپنا مقام بنا چکے ہوتے اور اپنے حلقوں میں با اثر سمجھے جاتے ہیں انہیں مداحوں اور چاپلوسوں کی ضرورت نہیں ہوتی کہ کوئی آگے آئے اور ان کی عزت وشہرت میں چار چاند لگائے اور ان کی مدح سرائی کرکے ان کے وقار میں اضافہ کرے ، وہ اس سے بے نیاز ومستغنی ہوتے ہیں، مگر یہ مطلب پرست چاپلوسی کے ذریعہ خود اپنا الو سیدھا کرتے ، مادی ومعنوی منفعت حاصل کرنے کی کوشش کرتے انہیں زینہ بنا کر مقام ومرتبہ ، جاہ ومنصب ، عہدہ وصدارت اور بہت کچھ حاصل کرنے اور بلندی تک پہنچنا چاہتے ہیں، اس سے قطع نظر کہ جن کی وہ چاپلوسی اور بے جا مدح سرائی کررہے ہیں، ان کی اس میں خفت وسبکی ہے یا عزت وتوقیر ، ان کو تو ایک ہی سوچ ہوتی ہے۔ ع:
زندگی میں اس قدر بے چارگی اچھی نہیں
ہر قدم پر چارئہ تدبیر ہونا چاہیے
بلا شبہ ایسی زندگی جو عزم وحوصلہ ، صبر وشکر اور خود داری وعزت نفس سے عاری ہو، اسے ذلت ورسوائی کے غار میں داخل ہونے میں کوئی جھجھک نہیں ہوتی ، اس کے برعکس جن کے اندر اونچے اخلاق واقدار پائے جاتے ہیں وہ کبھی گھٹیا حرکت نہیں کرتے نہ وہ خود کو ذلیل ورسوا کرتے ہیں اور نہ دوسروں کا وہ عزت نفس اور خود داری کے ساتھ مرجانا پسند کرتے مگر ضرورت کے باوجود کبھی چاپلوسی کی راہ اختیار نہیں کرتے۔
اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ کوئی کسی کی تعریف کرے ہی نہیں بلکہ جب انسان کسی کو پسند کرتا اور اس کے کمالات وخوبیوں کی وجہ سے اس سے محبت کرتا ہے تو فطری طور پر اس کی تعریف کرنے کو دل چاہتا ہے، اور وہ اس کے سامنے نہیں بلکہ جا بجا مختلف محفلوں میں اس کی تعریف کرتا اور اس کی خوبیوں کو گناتا ہے، یہ اس لئے نہیں کہ جب میری بات اس تک پہنچے گی تو وہ خوش ہو کر ہمیں فائدہ پہنچائے گا، بلکہ یہ تعریف مفادات سے اوپر اٹھ کر اس کے ذاتی کمالات کی وجہ سے ہوتی ہے جس کا وہ واقعی حقدار ہوتا ہے، مگر اس زمانہ میں جو رائج ہے کہ اسٹیج پر بٹھا کر نہایت مبالغہ آرائی کیساتھ ان کے اوصاف گنائے جاتے ، تعریفوں کے پل باندھے جاتے یا مدارس واداروں اور محکموں میں کسی کی چاپلوسی کی جاتی وہ ان سے محبت کی وجہ سے یا ان کے کام کو پسند کرنے کی وجہ سے نہیں ہوتی بلکہ صرف اور صرف اپنا الو سیدھا کرنے کے لئے ہوتی ہے کیونکہ وہی لوگ تنہائی میں پھر ان کی برائی بھی بیان کرتے اور ان پر تنقیدیں بھی کرتے ہیں، ان کی چاپلوسی اس لئے کرنے پر مجبور ہوتے ہیں کہ وہ سمجھتے ہیں کہ کامیابی حاصل کرنے کا یہی آسان ومختصر راستہ ہے اور ان کی یہ کامیابی صاحب اقتدار کی عزت اور قدر ومنزلت کی قیمت پر ہوتی ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ
خوشامد پر کچھ خرچ آتا نہیں
خوشامد کے سودے میں گھاٹا نہیں
چاپلوسی کا رواج آج کے دور میں بہت زیادہ ہوگیا ہے، مگر یہ اسی زمانے کی پیداوار نہیں بلکہ ہر زمانے میں اور دنیا کے ہر معاشرہ میں اس کا رواج رہا ہے۔ ابن خلدون کے زمانہ میں بھی آج ہی کی طرح اس کا بڑا رواج تھا، شاید اسی وجہ سے انہوں نے اپنے مقدمہ میں لکھا ہے کہ :
چاپلوسی آج خوشحال وآسودہ زندگی کی بنیاد، اور جاہ ومنصب اور مال ودولت حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ ہے، چاپلوسی کے بارے میں اہل علم نے لکھا ہے کہ اس سے حقوق ضائع ہوتے، عدل وانصاف کا جنازہ اٹھتا ، عمدہ اخلاق ناپید ہوجاتے اور منافقت انسان کے رگ وریشہ میں رچ بس جاتی ہے، بلکہ چاپلوسی سماج کے لئے نفاق سے بھی زیادہ بدتر وخطرناک ثابت ہوتی ہے، کیونکہ منافق کے نفاق کے نقصانات اس کی ذات تک محدود اور اس کے اثرات سماج پر واضح طور پر ظاہر نہیں ہوتے ہیں مگر چاپلوسی کی فساد انگیزی وسیع ہوگی اور پورے سماج وادارے کو خرابیوں اور بگاڑ کا مجموعہ بنا دیتی ہے، قیمتی ہیرے اور ٹھیکرے کی پہچان مفقود ہوجاتی ، قلموں کی قدر ومنزلت بڑھ جاتی اور صاحب علم وفضل اور گوہر نایاب کو ٹھیکرا سمجھ لیا جاتا ہے جو ادارے کو زوال سے دو چار کردیتا ہے، بلا شبہ چاپلوسی کا طرز عمل وسلوک موقع پرستی کا ہوتا ہے جس کے لئے وہ ہر ذلت واہانت کو بھی برداشت کرنے کے لئے تیار رہتا ہے، وہ دکھتی رگ کو پکڑنے کی تاک میں رہتا اور موقع ملتے ہی ایسی باتیں کرتا ہے جس سے وہ شخص خوش ہوجائے جس کی وہ چاپلوسی کرتا ہے ، مگر واقعہ یہ ہے کہ چونکہ اسکی حرکتیں اور قول وعمل خلاف واقعہ اور ملمع سازی پر بنی ہوتی ہے، اس لئے ایک نہ ایک دن اس کا پول ضرور کھل جاتا اور اسے رسوائی کا سامنا کرنا پڑتا ہے، مگر وہ اس سے بے پرواہ ہوتا ہے۔
ایک دوسرے سے الفت ومحبت کا اظہار اور باہمی رکھ رکھائو کی باتیں کرنا مذموم نہیں بلکہ پسندیدہ اور مطلوب ہیں اس سے انس ومحبت میں اضافہ ہوتا ، میل جول کا جذبہ پروان چڑھتا اور قدردانی کی صفت پیدا ہوتی اور خوبیوں کے اعتراف کی فضا قائم ہوتی ہے لیکن یہی اگر حد سے بڑھ جائے اور مبالغہ آرائی کا سہارا لیا جانے لگے تو یقینی طور پر اس میں کذب بیانی، افتراء پردازی اور دروغ گوئی کی آمیزش ہوجاتی ہے جو فتنہ پیدا کرنے والی اور صاحب اقتدار کو بگاڑنے والی ہوتی ہے۔ چاپلوسی تھوڑی ہو یا زیادہ‘ بہر صورت مذموم ہے جس طرح کہ شراب کے چند قطرے اگرچہ نشہ پیدا نہیں کرتے مگر فرحت ضرور بخشتے ہیں تو وہ چند قطرے بھی حرام ہیں کیونکہ اس کی خمیر ہی ناپاک ہے اور یہ چند قطرے مقدار کثیر کے استعمال کا سبب بن سکتی ہیں، اسی لئے اللہ کے نبی صلعم نے فرمایا:
مااسکر کثیرہ فقلیلہ حرام کہ جس کی زیادہ مقدار نشہ پیدا کرتی ہو اس کی تھوڑی مقدار بھی حرام ہے۔
صحیحین کی روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلعم نے فرمایا:
حلال بھی واضح ہے اور حرام بھی واضح ہے اور ان دونوں کے درمیان مشتبہ چیزیں ہیں جس کا علم بہتوں کو نہیں ہے تو جو مشتبہ چیزوں سے بچا اس نے اپنے دین اور اپنی آبرو کو بچا لیا، اور جو اس میں پڑ گیا تو گویا وہ حرام میں پڑ گیا۔
سلف صالحین نے کہا ہے کہ چاپلوسی ایسی بیماری ہے جس کی کوئی دوا نہیں ، سوائے اس کے کہ ان کے عیوب کو ظاہر کردیا جائے ، ان کی چالوں اور مکر کو آشکارا کردیا جائے، اہل علم خاص طور پر علماء دین اور محض اللہ کی رضا وخوشنودی کے مقصد سے عمل کرنے والے اہل قلم اور داعیان اسلام کو چاہیے کہ وہ سماج اور اداروں ومحکموں میں جو اس کا رواج عام ہوگیا ہے ا سے ختم کرنے کی تدبیر کریں ، اسلام نے اس طرح کی چاپلوسی پر نفاق ہی کی طرح سخت نکیر کی ، اسے ختم کرنے کا حکم دیا اور اس سے بچے رہنے کی تاکید کی ہے، ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلعم نے فرمایا کہ چاپلوسی مومن کی صفت نہیں ہوسکتی، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
انسان منہ سے کوئی لفظ نہیں نکال پاتا مگر یہ کہ اس کے پاس نگہبان تیار ہے ۔ (ق:18)
دوسری جگہ باری تعالیٰ کا ارشاد ہے:
بعض لوگوں کی دنیاوی غرض کی باتیں آپ کو خوش کردیتی ہیں اور وہ اپنے دل کی باتوں پر اللہ کو گواہ کرتا ہے حالانکہ دراصل وہ زبردست جھگڑالو ہے۔ (البقرہ: 204)
ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلعم نے ارشاد فرمایا:
جب اولاد آدم صبح کرتی ہے تو سارے اعضاء جسمانی زبان کے سامنے ہاتھ جوڑ کر کھڑے ہوتے اور اس سے کہتے ہیں ہمارے بارے میں اللہ سے ڈرو ، کہ ہماری سلامتی کا مدار تجھ پر ہے۔ (سنن ترمذی)
زبان ہی چاپلوسی کا ذریعہ بھی ہے اور کسی مسلمان کے ایمان کی سلامتی واستقامت کی بنیاد بھی اور زبان کی استقامت کامدار دل کے استقامت پر ہے، زبان دل میں پیدا ہونے والی اچھی یا بری باتوں اور دماغ کے خیالات وافکار کی ترجمانی کرتی ہے۔ اللہ کے نبی صلعم کا ارشاد ہے:
آگاہ ہو کہ جسم کے اندر ایک لوتھڑا ہے اگر وہ درست رہے تو سارا جسم درست رہے گا، اور اگر وہ بگڑ جائے تو پورا جسم بگڑ جائے گا اور وہ دل ہے۔ (صحیح البخاری)
اسی طرح قلب کی استقامت زبان کی استقامت ودرستی سے ہے۔ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے اپنی مسند میں ایک روایت ذکر فرمایا ہے کہ رسول اللہ صلعم نے ارشاد فرمایا:
کسی بندے کا ایمان اس وقت تک درست نہیں ہوسکتا جب تک کہ اس کا دل درست نہ ہو، اور قلب اس وقت تک سیدھا اور درست نہیں ہوسکتا جب تک کہ زبان درست وسیدھی نہ ہوجائے۔ (مسند احمد)
حافظ ابن قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ دل اور زبان میں سے ہر ایک کا دوسرے سے گہرا رشتہ اور تعلق ہے، اسی لئے انسان کے دل ودماغ میں کیا ہے اس پر استدلال زبان سے ادا کی جانے والی باتوں سے کیا جاتا ہے، تو قلب ہانڈی کے مانند ہے اس کے اندر جو ہوتا ہے وہی جوش مارتا ہے، اور زبان اس کا چمچہ ہے۔
چاپلوسی کرنے والا چونکہ اپنی شیریں زبانی اور میٹھی میٹھی جھوٹی باتوں کے ذریعہ دوسروں کو خوش کرنے کی کوشش کرتا اور اسے ایسی باتوں سے متصف کرتا ہے جو اس میں نہیں ہوتی ہے تو اس کا یہ عمل اللہ کو ناراض کرکے بندے کو خوش کرنا ہوتا ہے جبکہ رسول اللہ صلعم کا ارشاد ہے:
جو شخص اللہ کو ناراض کرکے دوسرے انسان کو خوش کرے گا تو اللہ تعالیٰ اسے بندوں اور لوگوں کے سپرد کردیںگے اور جو اللہ کو خوش کرنے کے لئے لوگوں کو ناراض کرے گا تو اللہ اس کے لئے کافی ہوجائیں گے اور لوگوں کا بوجھ اٹھالیں گے۔ (سنن ترمذی)
خوشامد اور چاپلوسی کے ذریعہ ہمیں اپنی عاقبت برباد کرنے اور دوسروں کو بگاڑ کر انہیں فتنے میں ڈالنے سے پرہیز کرنا چاہیے، آج ہر شعبہ اور طبقہ میں صاحب اقتدار کے اندر جو خرابیاں اور بگاڑ پیدا ہوئی ہیں اس کی بڑی وجہ یہی چاپلوسی ہے ، اس کے ذریعہ وہ اپنے مفادات حاصل کرنا چاہتے ہیں۔اگر ہم اپنے اداروں ، محکموں ، تنظیموں اور درسگاہوں کو زوال سے دو چار ہوتا نہیں دیکھنا چاہتے بلکہ اسے ترقی کے منازل طے کرتا ہوا دیکھنا چاہتے اور اس سے جڑے افراد کے اندر باہمی الفت ومحبت ، بھائی چارگی، میل ملاپ اور اثیار وقربانی کا مشاہدہ کرنا چاہتے اور آپسی لڑائی جھگڑے اور رسا کشی سے بچانا چاہتے ہیں تو صاحب اقتدار کو چاہیے کہ اپنے ارد گرد کے چاپلوسوں سے چھٹکارا حاصل کریں۔