‎حسینی فکر پر یزیدی اعمال کی یلغار

33

‎ہندوستان اور ایرانی اسلام کے کلچر میں بہت سی ایسی برائیاں گھس آئی ہیں کہ اگر آج سے چودہ سوسال پہلے ان فکرو نظر کی امام حسین علیہ السلام کو خبر ہوتی تو یقینا اپنے نانا کی امت کو ان کے خلاف پوری قوت سے کھڑے ہونے کی وصیت اور نصیحت کرجاتے ۔ کمال ہوشیاری یہ ہے کہ یزیدی اعمال نے مسلمانوں کے ذہن پر امام پاک کی محبت کے راستے سے حملہ کردیا ہے ۔ صوفیا کی بات یہاں سو فی صد درست لگتی ہے کہ ” شیطان جب کسی کو بڑا نقصان پہونچانا چاہتا ہے تو اس پر خیر کے راستے سے حملہ آور ہوتا ہے ” اس سے بندہ مومن کا دو نقصان ہوتا ہے ، ایک تو یہ کہ وہ غلط کام کا مجرم ہوتاہے دوسرا یہ کہ وہ اپنے غلط کا موں کو عبادت اور بھلائی سمجھ کر کرتاہے ۔ معاملہ یہیں رک جاتا تو کوئی بات نہیں تھی ۔معاملہ اس وقت زیادہ بگڑ جاتا ہے جب اسی غلط کام کو دین ومذہب کی پہچان بناکر ہر شخص کو اس کا پابند کرنے کی کوشش کی جاتی ہے ۔اس وقت امام پاک کے پیروکاروں کے لیے اسوۂ حسین سب سے بڑا رہنما ہوتاہے کہ یا تو وہ ان افکار کو من وعن قبول کرلے یا پھر سنت امام پر چلتے ہوئے عزیمت اختیار کرے اور اپنا سب کچھ حسینی فکر کو بچانے کے لیے تج دے ۔ محبت حسین کے نام پر جس طرح اودھم مچایا جارہاہے اور جس طرح یزیدی فکر کو ملع سازی کے ساتھ پوری امت مسلمہ پر مسلط کیا گیا ہے یہ باطل نظریات کی بڑی کامیابی ہے ۔ محبت حسین کی آڑ میں ایک مسلمان دوسرے کو مسلمان ماننے کے لیے تیار نہیں ہے ۔ جس طبقے میں بھی امام پاک کی محبت کا پرچار آج کے زمانے میں زیادہ ہوتا ہے وہ طبقہ اسلامی احکام کے حوالے سے زیادہ بد عمل واقع ہوتا ہے ،غالبا اپنی بدعملی کو چھپانے کے لیے بھی محبت اہل بیت کا سوانگ رچاجاتاہے ۔ خود کو حسینییت کے لبادے میں چھپانے والے کبھی اپنے اعمال بد کا جائزہ نہیں لیتے ۔ امام حسین کی محبت کے نام پر جتنے بھی رسم ورواج مسلمانوں میں عروج پاکر اسلامی عبادت کی شکل اختیار کرگئے ہیں ان سب کا نہ اسلام سے کسی طرح کا کوئی تعلق ہے اورنہ ہی وہ محبت حسین کے لیے کوئی دلیل ہیں ۔ میرا اپنا مطالعہ یہ کہتا ہے کہ امام پاک سے محبت کی ساری دعویداری ایران اور ہندوستان (غیر منقسم ہندوستان ) میں ہے اور اسلامی فرائض سے سب سے زیادہ دوری بھی انہی دونوں جگہوں پر زیادہ ہے ۔ امام پاک کے نام کے نعروں کے ساتھ ترک صلوہ کا تصور ایران وہندوستان کے علاوہ کہیں نہیں ہے ۔ کسی نو مسلم کے دماغ میں یا پھر غیر مسلم کے دماغ میں یہ خیال بھی آتا ہوگا کہ ” جس کی محبت میں یہ قوم اتنی بدمست ہوجاتی ہے کہ اسے اچھائی اور برائی کی تمیز نہیں رہتی وہ محبوب بھی کیا ایسا ہی رہا ہوگا ؟” جیسا کہ کچھ دنوں پہلے ایک صاحب نے آج کے زمانے میں ولی بن جانے والے افراد کے اعراس پر مجھ سے پوچھا کہ ” بھائی آ ج کل جن لوگوں کا عرس دھوم دھام سے منایا جاتا ہے ان کے کردار بد کو تو ہم اچھی طرح جانتے ہیں ، آپ بھی جانتے ہیں اور علاقے کے سارے افراد جانتے ہیں ۔کیا زمانہ قدیم سے جن بزرگوں کے اعراس منائے جاتے ہیں وہ لوگ بھی اسی کرداروعمل کے ہوا کرتے تھے ؟” سچ جانئیے ۔ مجھے لگا کہ میرے پیروں سے زمین نکل گئی ۔اعراس کے کچھ رسم ورواج اور محرم الحرام کے کچھ رسم ورواج خالص عجمی ذہنیت کی پیداوار ہیں جن کا مقصد سالانہ بنا لاگت کے منافع بٹورنا ہے ۔ اگر سچائی اور ایمان داری کی بات کریں تو امام حسین کی محبت کا دعویٰ کرنے والے مسلمانوں کا اسی فی صد طبقہ اسلامی اصول وتعلیمات کے حوالے سے یا تو لاعلم ہے یا بے عمل ہے یا پھر بد عمل ہے ۔مزید پورے ملک کے الگ الگ خطے میں توہم میں ملوث کچھ رسم ورواج کو ہرگز امام حسین کی محبت نہیں کہا جاسکتا ۔ آگ پر چلنے ، سینہ کوبی کرنے اور دن ورات دوڑتے رہنے کے توہماتی عقائد کو محبت اہل بیت یا محبت امام پاک سے کیا علاقہ ہوسکتا ہے ؟ شمالی ہندستان میں محبت امام پاک کے نام پر تعزیہ داری کی رسم ، جنوبی ہند میں آگ میں کودنے ، چلنے اور لیٹنے کی رسم ، اپنی املاک آگ میں جلانے کی رسم ۔کیا ان سب کو بھی محبت اہل بیت کا نام دیا جائے گا؟ ۔

‎اس حوالے سے میرے ایک دوست نے بتایا کہ محرم الحرام کے مہینے میں جنوبی ہند میں کچھ خانوادے جو "خود کو سید بتاتے ہیں” مختلف قسم کے رسوم ادا کرتے ہیں ۔کچھ جگہوں پر لوگ اپنے گھر کے دروازے پر ایک جھنڈا گاڑ دیتے ہیں ، وہاں اگر بتی لوبان اور پتہ نہیں کیا کیا سلگا دیتے ہیں ۔ دو یا تین دن یہ سارا ڈرامہ چلتا ہے اور اس پر جو چڑھاوا آتا ہے اس پر صاحب خانہ کا قبضہ ہوتا ہے ۔میرے دوست کا کہنا ہے کہ یہ اسلام کا برہمنی کرن کرنے کی ایک لمبی پلاننگ ہے ۔ کرناٹک ،تامل ناڈواور مہاراشٹرا میں جگہ جگہ آگ جلادی جاتی ہے اور مسلمان اس میں ایک رات میں کئی کوئنٹیل تیل جلادیتے ہیں ، بڑے سے گڈھے کو عقیدت کے نام پر مسلمان نمک سے بھر دیتے ہیں ۔ جو ان کی مخالفت کرے اسے امام پاک کا دشمن باور کرایا جاتا ہے ۔جتنے بھی علماء ہوتے ہیں کسی کے اندر اس غیر اسلامی رسم ورواج کو ختم کرانے کی ہمت نہیں ہوتی اور نہ ہی کوئی تدبیر اختیار کی جاتی ہے ۔ یہ کام شیعہ کہلانے والے نہیں بلکہ خود کو سنیت کا ٹھیکیدار کہلانے والے کراتے ہیں ۔

‎مسلمانوں کی کمزور نبض دشمن کے ہاتھ لگ چکی ہے اور وہ انہیں کمزوریوں کا بھرپور فائدہ اٹھا رہے ہیں۔اس وقت مسلمانوں کو آپس میں لڑنے اور ہلڑ بازی کرنے میں زیادہ لطف آتا ہے۔اسی مزاج اور نفسیات کو مد نظر رکھ کر دوست کی بھیس میں” مزاج عاشقانہ کی دل بستگی کے لیے "لگاتار کچھ اس طرح کے مسائل اٹھائے جاتے ہیں کہ مسلمان اپنا سب کچھ بھول کر ان خرافات میں کھو جائیں ۔ہمارا حریف یہ بات اچھی طرح جانتا ہے کہ جس دن اس قوم کے افراد مثبت سوچ کو مجتمع کرکے کچھ کرنے کی ٹھان لیں گے اس دن سے دنیا ان کے قدموں میں ہوگی۔ مثبت افکار پر مجتمع ہونے کے لئے دینی اور عصری تعلیم ضروری ہے لہٰذا ایسے ہتھکنڈے لگاتار استعمال کیے جاتے رہیں کہ آپس میں الجھے رہنا یا پھر ایک دوسرے کو نشانہ بنانا ہی ان کے نزدیک مثبت فکر بن جائے ۔حالت یہ بنا دی گئی ہے کہ اپنے مرکز قبلہ سے بال برابر انحراف بھی کفری پہاڑ کو اپنے سر پر اٹھانےجیسا ہے ۔جو کچھ سوچنا ہے وہ مخصوص نظریہ کے تحت ہی سوچنا ہے ہے۔علمی توسع،فکری گہرائی،اخلاقی عمدگی اور انسانیت کی باتیں اس قوم کے لئے بالکل ویسی ہی بن گئی ہے جیسی کے عیسائیوں کےلیے کسی زمانے میں تھی۔مذہبی عبادت کے نام پر عجمی رسومات کو محبت بزرگاں کا نام جن لوگوں نے دیا ہوگا وہ یقینا تہذیب و تمدن پر گہری نظر رکھنے والے لوگ رہیں گے ۔محبت اہل بیت کے نام پر میلہ ٹھیلہ لگانا ،ڈھول باجے کرنا ،دھول دھپے مچانا اور نہ کرنے والوں پر طعنے کسنا انھیں اسلام اور اہل بیت کا دشمن گرداننا یہ کسی اسلامی مفکر کا کام نہیں ہو سکتا ۔یقینا یہ کام ان لوگوں کا ہوگا جنہوں نے اسلامی اتحاد کو پارہ پارہ کرنے کی کوشش پر صدیوں کام کیا ہوگا۔ہر زاویے سے سوچا ہو گا پھر آسان راہ سوجھی ہوگی کہ ایک کامیاب قوم کو ناکارہ بنانے کا اس سے بہتر کوئی طریقہ نہیں ہے ۔دین کے سارے تصورات مٹانے کے لیے صرف اسی ایک فکر کو فروغ دینے سے حریف کے سارے مسائل حل ہو جا رہے تھے۔جائز خرچی ، اعمال صالحہ، اخلاق حسنہ ، ،تعلیم، فکر آخرت ان سب پر صرف محبت اہل بیت کی جھوٹی دعویداری کے نام پر عجمی رسم ورواج پر ضرب کاری کی جا سکتی ہے۔اس لیے تعلیمات اسلام کو مسلم سماج سے کھرچ کر باہر کر دیا گیا اور رسم و رواج کو اسلامی روح کا نام دے دیا گیا ۔معاملہ یہیں نہیں رکا بلکہ ان سازشوں کو سمجھنے والے کوئی اقدام کرتے اس سے پہلے ہی ان پر اہل بیت سے غداری کا لیبل لگا دیا گیا تاکہ حریف اپنی سازش کو پایہ تکمیل تک پہونچانے میں مکمل کامیاب رہے ۔

‎آج جو لوگ بھی” محبت اہل بیت”کے نام پر یزیدی اعمال کے فروغ کو اچھی طرح سمجھ رہے ہیں ان کی زبانیں اس لیے گنگ ہیں کہ جوں ہی اصلاح مفاسد اور اسلامی اصولوں کی پاسداری کے خیال سے وہ میدان میں آئیں گے ان کے اسلام کو اہل بیت سے غداری کے الزام سے مشکوک کر دیا جائے گا۔صحیح یہ ہے کہ جتنے بھی خانوادے اس فکر کے فروغ میں غلطاں و پیچاں ہیں،اگر باریک بینی سے تاریخی شواہد کا جائزہ لیا جائے تو وہ سارے خاندان تاریخ کے کسی نہ کسی موڑ پر جا کر دنیا کی دو بڑی سازشی قوم سے منسلک ہو جاتے ہیں۔میرے ایک فاصل دوست کہتے ہیں کہ اس وقت جتنے خاندان مسلمانوں میں افتراقی فکر کو فروغ دے رہے ہیں سب کا تعلق یا تو یہود سے ہے یا پھر برہمن سے۔بات خدالگتی معلوم ہوتی ہے۔انسان اپنا نسبی تعلق چاہے جہاں سے قائم کرلے خاندانی اثرات کا ازالہ ناممکن ہے۔اس پر بڑا ثبوت یہ ہے کہ مولائے کائنات کے زمانے سے لے کر اہل بیت کے مشہور اماموں کے زمانوں تک سب پر ظلم وستم ہوئے ،گالیاں دی گئیں، شہادتیں نصیب ہوئیں ،ہر طرح کی گستاخی کے شواہد بھی ملتے ہیں اس کے باوجود ائمہ اہل بیت نے مسلمانوں میں کسی بھی طرح کے افتراق کو ناپسند کیا نہ ہی کسی فرد پر حکم کفرو فسق لگایا ۔لیکن آج ان کے نام پر جو کچھ ہو رہا ہے اس سے صاف واضح ہوتا ہے کہ ہمیں منتشر کرنے کے لیے کچھ ہوشیار دشمنوں نے دوستوں کا روپ اختیار کیا ہے۔ ائمہ اہل بیت کی زندگی کا مقصد نبوی مشن کی تکمیل ہے اور نبوی مشن خدا کے بندوں کو خدا کا عرفان عطا کرنا ہے ۔ ائمہ اہل بیت اپنے نانا کے مشن کی تکمیل کے علاوہ اپنی محبت کے نام پر خدا سے دوری اور نبوی مشن سے بے اعتنائی کو کیوں کر پسند کریں گے ؟ ۔

‎ ” قرآن و اہل بیت سے تعلق ”

‎اس مفہوم کی احادیث طیبہ پیش کر کے سر فخر سے اونچا کیا جاتا ہے کیا حقیقت میں ہمارا تعلق ان دونوں نسخہ کیمیا سے ہے ؟ ،ہمارا کتنا فیصد طبقہ پورے سال میں قرآن پڑھتا ہے؟پھرپڑھتا ہے تو سمجھتا بھی ہے؟اور اگر سمجھتا ہے تو کیا اس پر عمل بھی کرتا ہے؟اگر ایمانداری کے ساتھ فیصد نکالیں تو زیرو پرسمٹ آئیں گے۔دوسری طرف اہل بیت سے ہمارا تعلق سنت رسول سیکھنے تک کتنا ہے؟ ۔حالت تو یہ ہے کہ اگر خاندان اہل بیت کا کوئی فرد ہماری فکر کو من و عن قبول کرے تو مسلمان اور اگر تھوڑا سا اختلاف بھی کرے تو بعد مر گ اس کے جھوٹے کفر کی تشہیر شروع کر دی جاتی ہے۔قرآن اور اہل بیت دونوں سے تعلق صرف اور صرف دنیا وی مفاد تک ہے ۔ احترام میں عقیدت مندانہ عجمی غلو نے ہوس پرستوں کے لیے ” اہل بیت میں داخلے” کے دروازے کو بہت زیادہ وسیع کر دیا ہے۔اس وجہ سے ہر ہوشیار عجمی اہل بیت میں داخل ہونے کی ہوڑ میں شامل ہوگیا۔ممکن ہے ان باتوں سے کسی کو فوری اختلاف ہو لیکن کیا صرف بدگمان ہونے سے برائیوں کا خاتمہ ہوجائے گا ؟کیا ہم بھی عجمیت کی زد میں اپنے مذہب کو دیکھ کر آنکھیں بند کرلیں گے۔؟ ایسے بہت سے سوالات ہیں جو سچے مسلمان کو بے چین رکھتے ہیں۔