یوم عاشورہ کے روزےاحادیث کی روشنی میں

26

ماہ محرم الحرام چار حرمت والے مہینوں میں سے ایک ہے، اس کی حرمت کا تقاضاہے کہ اللہ اور اُس کے پیارے رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے احکامات کو مان کر آدمی محترم بنے، مخالفت کر کے مجرم نہ بنے، جہاں تک ہو سکے مسلمانوں کو ماہِ محرم کا خصوصی احترام کرنا چاہئے اور حتی الامکان اس میں گناہوں اور جنگ وجدال سے اجتناب کرنا چاہئے اس مہینے کی ایک فضیلت یہ ہے کہ اسے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ کا مہینہ کہاہے اور اس ماہ کے روزوں کی اور خاص طورپر یوم عاشورہ کے روزے کی احادیث میں بڑی فضیلت وارد ہیں،
حضرت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: رمضان المبارک کے بعد سب سے افضل روزے اللہ کےنزدیک ماہ محرم کے روزے ہیں اور فرض نمازوں کے بعد سب سے افضل نماز رات کی نماز (یعنی تہجد کی نماز) ہے۔
سنن ابوداود اور سنن الدارمی میں نعمان بن سعد سیدناعلی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص نے ان سے دریافت کیا کہ رمضان کے بعد آپ مجھے کس ماہ کے روزے رکھنے کا حکم دیتے ہیں؟ انہوں نے فرمایا: مَیں نے ایک آدمی کے سوا کسی کو اس بارے میں سوال کرتے نہیں سُنا اس شخص کو مَیں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کرتے ہوئے سُنا اس حال میں کہ مَیں رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھاہوا تھا، اُس نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ماہِ رمضان کے بعد آپ مجھے کس ماہ کے روزے رکھنے کا حکم دیتے ہیں؟ توحضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشادفرمایا: اگر رمضان کے بعد روزے رکھنا چاہو تو محرم کے روزے رکھو، کیونکہ یہ اللہ کا مہینہ ہے،یہ تو اس ماہ کے عمومی روزوں کی فضیلت ہوئی، مگر خاص طور سے یوم عاشورہ کے روزوں کی اور زیادہ فضیلت ہے ان سے ایک سال گزشتہ کے صغیرہ گناہ معاف ہوجاتے ہیں۔
حضرت سیدنا قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سےمروی ہے کہ کہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:مجھے اللہ تعالیٰ سے امید ہے کہ عاشورہ کے روزوں کی وجہ سے وہ ایک سال گزشتہ کے گناہوں کو معاف فرما دے گا۔
حضرت سیدنا ابنِ عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول پاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو مَیں نے عاشورہ کے روزوں اور رمضان کے روزوں کے علاوہ فضیلت کے کسی دن کے روزے کا اتنا اہتمام کرتے نہیں دیکھا۔ آپ کے ان روزوں کے اہتمام کاحال یہ تھا کہ ہجرت سے قبل بھی آپ قریش کے ساتھ عاشورہ کے روزے رکھا کرتے تھےحضرت ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی الملی عنہا فرماتی ہیں کہ عاشورہ کے دن کا روزہ قریش جاہلیت میں رکھتے تھےاور رسول پاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم بھی ہجرت سے قبل یہ روزہ رکھتے تھے پھر جب آپ مدینہ منورہ تشریف لائے تو یہاں بھی آپ نے روزہ رکھا اورلوگوں کو بھی اس کا حکم دیا پھر جب رمضان کے روزے فرض کیے گئے تو آپ نے اس کا (حکم دینا اور تاکید کرنا) ترک کردیا اور جو چاہتا یہ روزہ رکھتا اور جو چاہتانہ رکھتا،
علامہ ابن قیمؒ زاد المعاد میں فرماتے ہیں: بلاشبہ قریش اس دن کی تعظیم کرتے تھے اور اسی دن کعبہ کو غلاف پہناتے تھے اور اس دن روزہ رکھنا اس کی مکمل تعظیم کی وجہ سے تھاامام قرطبیؒ فرماتے ہیں: شاید قریش اس کے روزے کے سلسلہ میں حضرت سیدنا ابراہیم علیہ السلام جیسے نبی کی شریعت پر اعتماد کرتے تھے،بہرحال قریش یوم عاشورہ کی تعظیم کرتے تھے اور اس کا روزہ رکھتے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم
بھی ہجرت سے قبل اس کاروزہ رکھتے تھے
پھر رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم جب ہجرت کر کےمدینہ منورہ تشریف لائے تو یہاں یہود کو بھی دیکھا کہ عاشورہ کا روزہ رکھتے ہیں۔ ان سے اس کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے بتایا کہ یہ بڑا عظیم دن ہے۔ اس دن اللہ تعالیٰ نےحضرت سیدنا موسیٰ علیہ السلام اور ان کی قوم کو نجات دی تھی اور فرعون اور اس کی قوم کو غرق کیا تھا،اور حضرت سیدناموسیٰ علیہ السلام نے شکرانہ کے طور پر اس دن کا روزہ رکھا اور ہم لوگ بھی اس کا روزہ رکھتے ہیں۔ تب رسول کریم علیہ الصلاۃ والسلام نے ارشادفرمایا: ’’تم لوگوں کی بہ نسبت سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی متابعت کے زیادہ حق دار ہم لوگ ہیں پھر آپ نے خود روزہ رکھا اور مسلمانوں کو بھی روزہ رکھنے کا حکم دیا۔بخاری کی بعض روایتوں میں ہے: ہم اس کی تعظیم میں روزہ رکھتے ہیں۔ مسند احمد میں حضرت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے:یہی وہ دن ہے، جس میں حضرت سیدنا نوح علیہ السلام کی کشتی جودی پہاڑ پر ٹھہری تھی تو انہوں نے شکر کے طور پر روزہ رکھا۔ان روایتوں سے معلوم ہوتاہے کہ حضرت سیدنا نوح اورحضرت سیدنا موسیٰ علیہم السلام نے بھی اس دن روزہ رکھا اور قریش ویہود بھی اس کا روزہ رکھتے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے بھی اس کاروزہ رکھا اور مسلمانوں کو بھی اس کا حکم دیا، پھر رسول پاک نے اس کی مزید تاکید کی اور لوگوں کو برابر اس کاحکم دیتے اور اس پر اُبھارتے رہے حتیٰ کہ حضرت سیدہ ربیع بنت معوذ رضی اللہ عنہافرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے عاشورہ کی صبح انصار کی بستیوں میں یہ کہلا بھیجا کہ جو صبح سے روزہ سے ہو وہ اپنے روزہ کو مکمل کرے اور جو صبح سے روزہ سے نہ ہو وہ اس وقت سے باقی دن کا روزہ رکھے۔ اس کے بعد ہم سب لوگ اس کا روزہ رکھتے تھے اور اپنے چھوٹے بچوں کو بھی روزہ رکھواتے تھے۔ ہم ان کے لیے اون کے رنگین کھلونے بنا کر انہیں مسجد لے جاتی تھیں اور جب ان میں سے کوئی کھانے کے لیے رونے لگتا تو ہم اسے یہ کھلونے دے دیتیں یہاں تک کہ افطار کا وقت ہو جاتا۔ (البخاری ومسلم)
سیدنا جابر بن سمرہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نےہمیں یوم عاشورہ کےروزوں کا تاکیدی حکم دیتے ہمیں اس کی ترغیب دیتے ہمارا حال چال معلوم کرتے اور نصیحت فرماتے۔ پھر جب رمضان کے روزے فرض کر دیئے گئے تو نہ آپ نے ہمیں اس کا پہلے کی طرح حکم دیا اور نہ منع ہی فرمایا۔
ان تمام حدیثوں سے معلوم ہوتا ہےکہ پہلے عاشورہ کا روزہ فرض تھا پھر رمضان کے روزوں کی فرضیت کے بعد اس کی فرضیت منسوخ ہو گئی البتہ اس کا استحباب اور اس کی فضیلت برقرار رہی۔ یہی امام اعظم ابوحنیفہ اورامام احمدؒ، امام ابن القیمؒ حافظ ابن حجرؒ اور امام مالکؒ وغیرہ کا مذہب ہے اور یہی راجح ہے۔ اس کے استحباب اور فضیلت کے باقی رہنے کی دلیل یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم آخری عمر تک اس کا اہتمام فرماتے رہے۔حضرت سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: چار چیزیں رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کبھی ترک نہیں فرماتے تھے عاشورہ کے روزے 2 عشرہ ذی الحجہ کے روزے 3 ہر مہینے کے تین دن (ایام بیض، یعنی چاند کی تیرھویں، چودھویں، پندرہویں) کے روزے 4 فجر سے پہلے کی دو رکعتیں۔
حضرت سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: کہ جب رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے یوم عاشورہ کا روزہ رکھا اور لوگوں کو بھی رکھنے کا حکم دیا تو انہوں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ، یہ تو ایسا دن ہے جس کی تعظیم یہود ونصاریٰ کرتے ہیں؟ تو آپ نے فرمایا: اگر میں اگلے سال زندہ رہا تو نویں تاریخ کا بھی روزہ رکھوں گا۔ایک اور روایت میں ہے کہ آپ نے فرمایا :عاشورہ کا روزہ رکھو اور یہود کی مخالفت کرو اور ایک دن اس سے قبل یا ایک دن اس کے بعد بھی روزہ رکھو۔اسی واسطے بعض علماء نے کہا کہ عاشورہ کے روزوں کے تین درجے ہیں سب سے اعلیٰ درجہ یہ ہے کہ نو دس اور گیارہ محرم کے روزے رکھے جائیں۔ اس کے بعد دوسرا درجہ یہ ہے کہ نو اور دس محرم کے روزے رکھے جائیں۔ تیسرا اور آخری درجہ یہ ہے کہ صرف دس محرم کا روزہ رکھا جائے۔واللہ تعالی اعلم بالصواب