ڈاکٹروں نے کر دی تھی موت کی تصدیق لیکن قبرستان لے جاتے وقت لوٹ آئی سانسیں

35

موت کے بعد زندہ ہو جانے کی تھیوری کو سائنس میں بھلے ہی نہ قبول کیا جاتا ہو، لیکن اس طرح کے معجزے انسان کو خدا کی قدرت پر یقین کرنے پر مجبور ضرور کر دیتے ہیں ۔ ایسا ہی ایک واقعہ میرٹھ میں موانہ قصبہ کے محلہ منّالال میں بھی دیکھنے کو ملا ، جہاں بیس برس کی اسماء نام کی ایک نوجوان لڑکی کو دل کا دورہ پڑنے کے بعد دہلی کے اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا ، لیکن علاج کے دوران اسماء کے دل کی دھڑکنیں بند ہو گئیں اور اسپتال کے ڈاکٹروں نے اسماء کی موت کی تصدیق کرتے ہوئے ڈیتھ سرٹیفکیٹ بھی جاری کر دیا اور لاش کو اہل خانہ کے سپرد کر دیا ۔

اسماء کی موت کی تصدیق کے بعد اسماء کے اہل خانہ اسماء کی لاش کو لے کر اپنے آبائی وطن موانه کے لئے روانہ ہو گئے اور مقامی قبرستان میں تدفین کے لیے قبر بھی تیار کر لی گئی ۔ لیکن میرٹھ میں داخل ہوتے ہی اسماء کے جسم میں ہلچل سی ہوئی ، تو اہل خانہ حیران رہ گئے ۔ گاڑی کو قبرستان کی بجائے گھر لے گئے اور ڈاکٹروں کو بلوایا گیا ۔ ڈاکٹروں نے آکر اسماء کے جسم کی جانچ کی تو اسماء کی سانسیں چل رہی تھیں ۔ ڈاکٹروں نے علاج شروع کیا اور اسماء کو سلنڈر کے ذریعے آکسیجن دی گئی ۔

مقامی قبرستان میں تدفین کے لیے قبر بھی تیار کر لی گئی تھی ۔

اس خبر کے قصبہ میں پھیلتے ہی لوگ اس معجزے کو دیکھنے کے لیے اسماء کے گھر پہنچنے لگے ۔ اہل خانہ کو بھی اسماء کے زندہ ہونے سے اب ٹھیک ہو جانے کی اُمید پیدا ہو گئی تھی ۔ لیکن اسماء کے گھر والوں کی خوشی کا یہ چراغ 12 گھنٹوں کے بعد بجھ گیا اور اسماء کی موت ہو گئی ۔

اسماء کو اسی قبرستان میں سپرد خاک کر دیا گیا ، جہاں پہلے تدفین کے لیے قبر تیار کی گئی تھی ، لیکن اسماء کے ساتھ پیش آئے اس واقعہ نے لوگوں کو اس حقیقت پر یقین کرنے پر مجبور کر دیا کہ موت اور زندگی خدا کے ہاتھ میں ہے اور وہ جب چاہتا ہے زندہ رکھتا ہے اور جب چاہتا ہے زندگی کی دوڑ کاٹ دیتا ہے ۔