میوات انجینئرنگ کالج میں توانائی کے تحفظ اور کنٹرول سے متعلق ورکشاپ

53

میوات انجینئرنگ کالج نوح میں توانائی کے تحفظ اور کنٹرول سے متعلق دو روزہ ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا جس میں تمام شرکاء نے اپنے خیالات کا آن لائن اظہار کیا اس ورکشاپ میں 175 افراد نے حصہ لیا وہیں ہریانہ وقف بورڈ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ، محمد شاہین آئی اے ایس نے ، میوات انجینئرنگ کالج کو نیک خواہشات بھیجتے ہوئے اساتذہ اور طلبہ کو کہا کہ تعلیمی اداروں، اساتذہ، طلباء کو معاشرے کے لئے مل کر کام کرنا ہوگا جس سے مثبت تبدیلی آئے گی پروفیسر معین الدین، سابق ڈائریکٹر این آئی ٹی جالندھر نے ورکشاپ میں شرکت کے دوران کہا کہ توانائی کا تحفظ بہت ضروری ہے اور یہ توانائی پیداوار کی طرح ہے توانائی کے تحفظ کے لئے ہریڑہ اور میوات انجینئرنگ کالج نوح کا اجتماعی اقدام قابل ستائش ہے کالج کے ڈائریکٹر ڈاکٹر خواجہ محمد رفیع اس کے لئے مبارکباد کے مستحق ہیں۔ورکشاپ میں ضلع ایجوکیشن آفیسر انوپ سنگھ جاکھڑ نے بھی شرکت کی اور کہا کہ توانائی کا تحفظ اور کنٹرول وقت کی اہم ضرورت ہے اور آنے والی نسلوں کے لئے ایک اہم اقدام ہے میوات انجینئرنگ کالج نوح نے ہریڑہ کے ساتھ آغاز کیا ہے میوات ایجوکیشن محکمہ اس اقدام کے تحت میوات انجینئرنگ کالج کے ساتھ کھڑا ہے۔کالج کے ڈائریکٹر ڈاکٹر خواجہ محمد رفیع نے بتایا کہ انہوں نے محکمہ ہریڑہ کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے اس ورکشاپ کے انعقاد کے لئے میوات انجینئرنگ کالج کا انتخاب کیا۔ توانائی کے تحفظ اور کنٹرول ورکشاپ توانائی کے تحفظ اور کنٹرول میں ایک اہم کردار ادا کرے گی۔طلباء اور اساتذہ نے مل کر معاشرے کو ایک بڑا پیغام دیا ہے۔

 

یہ آن لائن ورکشاپ لوگوں میں توانائی کے بارے میں آگاہی پیدا کرنے کے لئے کام کرے گی۔ ورکشاپ کے سکریٹری ڈاکٹر شاہین خان نے کہا کہ یہ دو روزہ ورکشاپ ہے جس میں مختلف ماہرین شریک ہیں۔ کالج اور ہریڈا کی کاوشیں قابل تحسین ہیں۔ورکشاپ کے شرکا کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اسسٹنٹ پروفیسر وسیم اکرم نے کہا کہ تمام شرکاء نے اپنے اپنے خیالات پیش کیے جس سے نہ صرف طلباء بلکہ معاشرے کو بھی فائدہ ہوگا۔ میوات انجینئرنگ کالج نے اس ورکشاپ میں شرکت کرنے کے لئے تمام مقررین، مہمانوں اساتذہ ، طلباء خصوصا ہریڈا کا شکریہ ادا کیا اس دوران متعدد پروفیسر موجود تھے جن میں شمشاد علی اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر خالد ، شاہد قریشی ، نسیم احمد ، شاہینہ بانو ، شیام سندر کوشک سمیت درجنوں لوگ شامل تھے