یومِ عاشورہ کا پیغام امت مسلمہ کے نام

26
محرم الحرام کا چاند آسمانِ دنیا پر جونہی نمودار ہوتا ہے، ماتم ومرثیہ، تعزیہ وجلوس کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے. کچھ علاقوں میں تو کئی مہینے قبل ہی
سے تعزیہ بنانے کی تیاری کچھ ماہرین شروع کردیتے ہیں اور عیدالاضحٰی کی شام کو ہی ڈھولک کی آواز سنادی جاتی ہے ایک طرح سے یہ اعلان ہوتا ہے کہ محرم کی آمد آمد ہے. دسویں محرم کو تو انتہا ہوجاتی ہے، کہیں مرد وزن کے مخلوط میلے لگتے ہیں، کہیں تعزیہ ومصنوعی گھوڑوں کی نمائش ہوتی ہے اور کہیں دھار دار ہتھیاروں وزنجیروں سے اپنے بدن کو زخمی کرکے حبِ حسین کا اظہار کیا جاتا ہے. افسوس اس بات کا ہے کہ ان خودساختہ رسوم و رواج کے ہنگامے میں شہادتِ حسین کے اصل پیغام کو بھلا دیا جاتا ہے، معرکہ حق وباطل کے بنیادی مقصد کو فراموش کردیا جاتا ہے. شہداء کربلا پر ہونیوالے مظالم کو تو ہچکیاں لے لے کر بیان کی جاتی ہیں، طویل طویل مرثیے پڑھے جاتے ہیں لیکن ان شہداء نے یہ مظالم کیوں کر برداشت کئے ان پر روشنی نہیں ڈالی جاتی، انہوں نے راہ حق میں اپنی جانوں کا نذرانہ اور معصوم بچوں کی قربانی کیوں پیش کی اس پر تبصرہ نہیں کیا جاتا. شہید ہوتے ہوئے ان کی آنکھوں نے جو خواب دیکھے تھے وہ شرمندہ تعبیر کیسے ہوں ان کی کوشش نہیں کی جاتی.
حضرت حسین رضی اللہ عنہ اور آپ کے رفقاء نے وطن کی جدائی، سفر کی تھکن، بھوک کی تکلیف، پیاس کی شدت، تیر کے گھاؤ اور تلوار کے زخم مسکراتے ہوئے اس لئے برداشت کیا تاکہ جو دین وشریعت نانا جان حضرت محمد صل اللہ علیہ وسلم نے طائف میں پتھر کھاکر، کفار مکہ کی گالیاں سن کر اور مشرکین ومنافقین کی ایذا رسانیاں سہہ کر ہم تک پہنچا ئے ہیں ان پر ذرہ برابر بھی آنچ نہ آنے پائے، مملکت اسلامیہ کا باگ ڈور کسی ایسے ظالم وجابر کے قبضے میں نہ جانے پائے جن کے ہاتھوں میں شراب کی بوتل اور دامن پر بے گناہوں کے خون کے چھینٹے ہوں.
 بالآخر تمام مظالم برداشت کرکے بھی ظالم کے سامنے جھکے نہیں بلکہ سر کٹاکر پوری عالم انسانیت کو یہ پیغام دیا کہ دین وشریعت ہمیں جان سے بھی زیادہ عزیز ہے جس کے تحفظ کیلئے ہم اپنی جانوں کا نذرانہ بخوشی پیش کرسکتے ہیں. اپنے پھول جیسے بچوں کو ذبح ہوتا ہوا دیکھ کر بھی یہ سر سوائے خدائے وحدہ لاشریک لہ کے کسی اور کے سامنے کبھی کسی بھی صورت میں جھک نہیں سکتا اور نہ ہی یہ قدم ایک انچ پیچھے ہٹ سکتا ہے.
مرد حق باطل سے ہرگز خوف کھا سکتا نہیں
سر کٹا سکتا ہے لیکن سر جھکا سکتا نہیں
جیسے کسی ظالم کے ظلم سے گھبرا کر اس کی ربوبیت کو قبول کرکے اسے سجدہ نہیں کیا جاسکتا ایسے ہی کسی باطل کے خون آلود ہاتھوں پر بیعت کرکے جبر وتشدد کی داستان کو مزید آگے نہیں بڑھایا جاسکتا.
یہ تھی نواسہ رسول کی جرأت وشجاعت، یہ تھی آپ کی کی جوانمردی وبیباکی اور یہ تھا میدان کربلا سے پیغام امت مسلمہ کے نام.
لیکن افسوس! قوم مسلم نے آج اس عظیم پیغام کو بھلا دیا، شہداء کربلا کے جانشینوں کے سر آج ہر در پر جھک رہے ہیں سوائے خدا کے. حق گوئی وبیباکی، صداقت وشجاعت کے قیمتی زیور کو اس نے اتار پھینکا.
میدان کربلا کی تپتی ریت پر دشمنوں کے نرغے اور ننگی تلواروں کے سائے میں بارگاہِ ایزدی میں سجدہ ریز ہوکر یہ پیغام (کہ نماز کہیں بھی کسی بھی صورت میں معاف نہیں) دینے والے حسین کو کیا خبر تھی کہ میرے بعد لوگ نمازیں ترک کرکے میری شہادت پر ماتم کریں گے. حالتِ صوم میں مالک حقیقی سے جاملنے والے نواسہ رسول نے یہ کب سوچا ہوگا کہ عاشورہ کے دن میرے نانا کی سنت کو زندہ کرنے کے بجائے امت مسلمہ ٹھنڈے پانی و میٹھے شربت کی سبیلیں لگائیں گی. اپنی عورتوں کو خیمے سے باہر نہ نکلنے کی تلقین کرنے والے فاطمتہ الزہراء کے لختِ جگر نے یہ کب سوچا ہوگا کہ خاتونِ جنت کی کنیزیں میرے نام سے نکلنے والی جلوسوں میں بے پردہ ہوکر نکلیں گی؟
دکھ اس بات کا ہے کہ ہم نے یومِ عاشورہ کے حقیقی پیغام کو فراموش کر دیا اور اس سے کہیں زیادہ المناک پہلو یہ ہے کہ ہم نے ایسے رسوم و رواج  کو ایجاد کیا جو شریعت مطہرہ وامت محمدیہ کے ہرگز شایانِ شان نہیں ہے. ہم نے ایسے بدعات وخرافات کو جنم دیا کہ دور صحابہ وتابعین میں جس کا نام ونشان نہیں. دسویں محرم الحرام کو قرآن کریم کی تلاوت کے بجائے ہم نے مرثیہ پڑھنا شروع کردیا، روزہ رکھنے کے بجائے ہم نے دعوتوں کا اہتمام شروع کردیا اور دعائیں کرنے کے بجائے ہم نے ماتم و نوحہ خوانی شروع کردی. کیا یہی حب حسین ہے؟ کیا یہی محبت رسول اور عقیدت شہداء ہے؟ ہرگز نہیں.
اگر حضرت حسین رضی اللہ عنہ سے ہمیں واقعی عقیدت ومحبت ہے تو یومِ عاشورہ کے اصل پیغام (تحفظِ دین، إعلاء کلمتہ اللہ، توکل علی اللہ، علم حق کو بلند کرنا اور باطل کے سامنے سینہ سپر ہوجانا) کو سمجھنے کی کوشش کریں، تعزیہ وعلم بنانے، مرثیہ پڑھنے، سینہ کوبی کرنے اور غم حسین منانے سے گریز کریں کیونکہ قرآن مقدس نے شہداء کو مردہ کہنے سے منع کیا ہے، ان کا شمار زندوں میں کیا ہے اور حضرت حسین رضی اللہ عنہ اور آپ کے رفقاء کے حصے میں وہ عظیم شہادت آئی ہے جس کی مثال تاریخ انسانی میں شاید نہیں مل سکتی.