اظہارِ مؤدتِ اہل بیت کے لئے عزا داری ہی ضروری ہے؟

35
اصولی بات یہ ہے کہ جب آیات بینات نے شہداۓ اسلام و قتیلان دین کی حیثیت و حقیقت کو انسانی شعور کے لئے بڑا چیلنج قرار دے دیا ہے۔جب ربانی مشن پر جان وارنے والوں کی موت کو ڈسکس کرنے سے منع کر دیا گیا ہے تو پھر ان کے نام کی مرثیہ خوانی اور تعزیت کا مسئلہ کہاں سے اٹھتا ہے؟ مرثیہ گوئی کا مطلب ہی ہے کہ ہم نے انہیں مردہ مان لیا ہے۔اور تعزیت یا تعزیہ کا صریح مفہوم بھی یہی ہے کہ کسی کی موت پر صبر کی تلقین اور اظہار ہمدردی کی جاۓ۔اگر امام پاک کے روضے کی شبیہ کو تعزیہ مان بھی لیا جاۓ تو تب بھی گلو خلاصی ممکن نہیں۔کیوں کہ اہل رفض اسے بطور علامت غم و سوگ  تیار کرتے ہیں۔اور غم و سوگ کا یہ دراز سلسلہ اہل سنت کے مزاج و موقف کو سوٹ نہیں کرتا۔
دین پسند نظریہ یہ ہے کہ مروجہ تعزیہ ہو کہ نفس تعزیہ، دین کو یہ مطلوب ہی نہیں ہے۔اگر مروجہ تعزیہ کو ناجائز، حرام و قبیح گردانتے ہیں تو نفس تعزیہ کو دینی شرعی تعزیہ کہا جانا چاہئے؟ جب کہ عزا داری کے نام پر تابوت، دلدل،علم اور سپر کے نئے نئے اضافے و جدید ایجادات ایمان شکن بھی ہیں اور شرک آمادہ بھی۔تقریبا ۴؍ صدی پہلے بر صغیر پاک و ہند میں پنپنے والی اس بدعت کو آپ کس نام سے مختص کریں گے؟ مروجہ تعزیہ ہو تو سیئہ، نفس تعزیہ تو حسنہ؟ آپ تعزیہ کو کتنی بھی شرائط کا پابند کر لیں لیکن ابھر کر وہی سامنے آۓ گا جو دین و سنیت کو غیر مطلوب ہے کیونکہ اب اس کا تعلق خواص سے نہیں رہا، براہ راست عوام سے ہوگیا ہے۔
دیدہ و دانستہ تعزیہ داری کو پروموٹ کرنے والا طبقہ کیا اس کی ضمانت دے گا کہ کل سنی محلے میں ایسے دلخراش مناظر(جو ذیل کی فائل فوٹو میں ہے) نہیں دیکھنے کو ملیں گے؟ اکابر علما کی محض رخصت و اجازت کو وجوب کے خانے میں ڈال کر تعزیہ داری کو در پردہ عالمی اسلامی تہوار بنانے والی مہم کو سپورٹ کرنے والے آخر اس بات کو کیسے نظر انداز کر جاتے ہیں کہ عوام اہلسنت نے اس رسم کے بناؤ سنگار میں جو رفتار پکڑی ہے اس سے آئندہ دو تین عشرے میں سنی شیعہ کا فرق ہی ختم ہوجاۓ گا؟ ہم نے ۲۱؍ویں صدی کے ربع اول میں ہی کئی سنی بریلوی بستیاں، علاقے دیکھے ہیں جن کی خواتین زلف و گیسو کھولے، سلاب زیب تن کئے، سر عام شاہراہوں پر نوحہ کرتی ہیں۔ملت کے اندر اس گناہ کا دروازہ کھولنے میں تعزیہ کو متبرک و مقدس باور کرانے والا نظریہ ذمہ دار ہے کہ نہیں؟
آپ جو تصویر میں دیکھ رہے ہیں عراق و ایران میں اس طرح کے ڈراؤنے کارٹون تیار ہوتے ہیں اور دنیا بھر کے شیعہ انہیں فالو کرتے ہیں۔کربلا کے میدان میں اس طرح کے ڈرامے اسٹیج کئے جاتے ہیں۔جنگ کربلا کی نقل اتاری جاتی ہے۔کارٹون کے ذریعے یزیدی ظلم و ستم اور حسینی مظلومیت کا ناٹک تیار ہوتا ہے۔۔ایران جیسا خا لص شیعہ ملک تعزیہ داری سے منسلک نظریات و میٹریل کا ایکسپورٹر بھی ہے اور اس کا اسپانسر بھی۔اور ہم بلا چوں و چرا محبت حسین کے نام پر سب قبول کر لیتے ہیں۔
آخر ایسی بدعی حرکتوں میں کونسی مؤدت پوشیدہ ہے؟ حب اہل بیت کا یہ کونسا کربلائی رنگ ہے جو رافضیت کی اقتدا کو بھی ہنس کر گوارا کر لیتا ہے اور اہل سنت کا دھنک رنگی چہرہ پھیکا پڑ جاتا ہے؟ اگر یہی کام مغربی ممالک نے کیا ہوتا تو شیعہ و سنی سب کی عقیدت تلملا اٹھتی۔سب روڈ پہ نکل آتے۔اس عمل کو عیسائی و صیہونی دنیا کی دہشت گردی سے تعبیر کیا جاتا۔مسلم کمیونٹی کو اکسانے بھڑکانے والی حرکت قرار دیا جاتا۔پر وہی کام جب یہ لوگ خود کرتے ہیں تو تقدیس و تبرک کا ٹیگ لگ جاتا ہے۔پھر اس پر کوئی بھی حرف اعتراض نہیں ٹانکتا۔
تعجب خیز امر  تو یہ ہے کہ امتداد زمانہ کے ساتھ ساتھ تعزیہ بھی تیزی سے رنگ روپ بدلنے لگا ہے۔فتین دماغوں نے تعزیوں پر بھی ماڈرنیٹی کا کلر چڑھا دیا ہے۔تعزیوں کے اپ ڈیٹ ورزن دیکھ کر کہیں سے بھی نہیں لگتا کہ یہ عمل اس قوم کا حصہ ہے جس میں شرک کی قطرہ بھر آمیزش بھی ایمان و اسلام کے لئے زہر ہلاہل ہے۔
بہار میں دربھنگہ ضلع تعزیہ داری سے کافی مشہور ہے۔ (میری نظر میں کافی بدنام ہے)اگر آپ نے نہیں دیکھا ہے تو کبھی محرم کے مہینے میں دربھنگہ آ کر دیکھ جایئے کہ ۱۰؍ویں محرم کو تعزیوں کا جو شتر بے مہار ریلا نکلتا ہے اس میں ۹۰؍ فیصد سنی بریلوی نوجوان(عمر دراز بھی) شامل ہوتے ہیں۔پورے شہر میں شیعوں کی تعداد انگلی پر گنی جا سکتی ہے تو پھر محرم میں لاکھوں افراد پر مشتمل جلوس خالص شیعہ کیسے ہوسکتا ہے؟ بات یہیں پر ختم نہیں ہوتی بلکہ مختلف گلیوں، محلوں سے آتے مسلم خواتین کے بے ترتیب ہجوم ان لٹھ مار جوانوں و نوجوانوں میں مدغم و ضم ہوجاتے ہیں۔ایک مخلوط قسم کا جلوس چلتا ہے۔ہلڑ بازیاں عام ہوتی ہیں۔دھما چوکریوں، مٹرگشتیوں کو کھلی چھوٹ ہوتی ہے۔لڑکے لڑکیاں قلانچیں مارتی پھرتی ہیں۔سمجھو آج کوئی یوم تفریح یا Enjoy Day منایا جارہا ہو۔یہی عمل تھوڑی کمی بیشی کے ساتھ ملک کے ہر شہر میں چلتا ہے۔یہ ایسا عمل ہے جسے کسی بھی اینگل سے مؤدت اہل بیت میں نکلا ہوا اسلامی جلوس جسٹیفائی نہیں کیا جاسکتا۔اس میں سب کچھ ہوتا ہے صرف اسلامی روح نہیں ہوتی۔
میرے نزدیک تو تعزیہ کے ناپسند ہونے کی یہی سب سے بڑی دلیل ہے کہ تقریبا ڈھائی تین صدی گزر جانے کے بعد اس کا رواج شروع ہوا اور شروع ہوا بھی تو کس سے ؟ فاطمی حکمرانوں سے ، قرامطہ اسماعیلیوں سے اور ایران کے صفوی امرا سے۔آپ تاریخ دیکھ لیجئے ۶۰؍ ھ سے ۳۵۲ھ  تک تعزیہ کا امت میں کوئی سراغ نہیں ملتا۔مطلب ان تین صدی میں امت کے بڑے بڑے لوگ آۓ گئے کسی نے تعزیہ داری کو حب اہل بیت کا ذریعہ نہیں بنایا۔ہجری کیلنڈر کی دوسری اور تیسری صدی میں تابعین و تبع تابعین کی آمد و رفت رہی، اور یہ لوگ یقینا ہم سے بہتر مسلمان رہے ہوں گے۔مگر انہوں نے تعزیہ داری کو اظہار مؤدت کا ذریعہ نہیں بنایا۔دوسری بات یہ کہ انڈیا میں ۱۶؍ویں صدی کے بعد اس رسم کو فروغ ملا۔اور ۱۸؍ویں صدی عیسوی میں یہ گھر گھر پہنچائی گئی۔
یہاں تعزیہ کی تاریخ بتانا مقصود نہیں بس تقریب ذہن درکا ہے۔ ملکی حالات اور دین کے عقائد و نظریات پر ضرب پڑتے دیکھ کر بالغ نظر و رسوم شکن علما و صوفیا کی بارگاہ میں میرے چند طالبعلمانہ سوالات ہیں امید کہ سنجیدگی سے لیا جاۓ گا۔
(۱) کیا وجہ رہی کہ تعزیہ جو خالص شیعی شناخت کا حامل ہے اسے سنی گروپ نے نہ صرف قبول کیا بلکہ اس معاملے میں دونوں گروپ کی قدریں مشترک ہو گئیں؟
(۲)اس عزا داری سے امت کو کیا فائدہ ہے دینی یا دنیوی کوئی بھی فائدہ اگر تعزیہ سے متعلق نہیں ہے تو آخر اسے کیوں رواج دیا جاۓ؟
 (۳) کیا تعزیہ سے شہداۓ کربلا کی روحیں خوش ہوجاتی ہیں یا پھر دنیا میں اس کا کچھ پلس پوائنٹ ملنے والا ہے؟
(۴)حب اہل بیت و غم حسین کے اظہار کے اور بھی ہزاروں طریقے ہوسکتے ہیں، پھر محرم آتے ہی اسی پر زور کیوں؟
(۵)علما امت نے جس تعزیہ کی اجازت دی ہے کیا اس ہوشربا ماحول میں اس کا تصور اتنا آسان ہے؟
(۶) کیا مروجہ تعزیہ داری سے اضاعت مال مومن (سننے میں آتا ہے کہ  ۵؍ سے ۱۰؍ لاکھ روپے تک کے تعزیہ بناۓ جاتے ہیں)کا جرم نہیں ہورہا ہے؟
(۷)کیا علما و صوفیا کا تعزیہ کو اس قدر پروموٹ کرنا امت کو ایک اور آزمائش میں مبتلا کرنا نہیں ہے؟
(۸)کیا محض ذکر کی مجالس سجا لینے سے کربلا کا حسینی مشن تکمیل کو پہنچے گا؟
ان سوالوں کے جواب لکھنے سے پہلے یہ پیش نظر رکھیں کہ ہم نے مزاروں سے تبرک حاصل کرنے کی جو فضیلتیں بیان کی تھیں آج اس کا نتیجہ یہ ہے کہ گلی گلی میں مزار بن رہے ہیں۔ اگلے دو عشرے میں فرضی مزاروں کی بھیڑ ہوگی تب تک اس گھر بلائی بلا سے چھٹکارا نا ممکن ہو جاۓ گا۔میری ایک بات نوٹ کر لیں کہ مزاروں کا بکثرت وجود میں آنا قطعا اسلام و سنیت کے حق میں نہیں ہے تو تعزیہ داری کے نام پر ملت پہ بے جا رسموں کا بوجھ ڈالنا، پیسوں کا بے دریغ صرفہ کب امت کے حق میں ہوگا؟
مشتاق نوری