آہ ڈاکٹر عبدالقادر شمس قاسمی

29

ملے خاک میں اہلِ شاں کیسے کیسے
مکیں ہو گئے لا مکاں کیسے کیسے
ہوئے ناموَر بے نشاں کیسے کیسے
زمیں کھا گیٔ آسماں کیسے کیسے

جگہ جی لگانے کی دنیا نہیں ہے
یہ عبرت کی جا ہے تماشہ نہیں ہے

یہ اشعار حکیم الامت مجدد الملت حضرت تھانوی رح کے خلیفہء خاص خواجہ عزیزالحسن مجذوب رح کی مشہور زمانہ نظم "درس عبرت” سے لئے گئے ہیں جس کا ایک ایک لفظ واقعی درس عبرت ہے۔آج مجھےیہ اشعار آسمانِ صحافت کے شمس تاباں مولانا ڈاکٹر عبدالقادر شمس صاحب مرحوم کے جنازے میں شرکت کرتے ہوئے بہت شدت سے یاد آئے۔
مرحوم شمس صاحب کا آبائی گاؤں ڈوبا ہمارےگاؤں گمہریا سے محض تین کیلومیٹر کے فاصلے پرواقع ہے اوران کا قائم کیا ہوا عظیم الشان مدرسہ، جامعہ دعوۃ القرآن محض ایک کیلومیٹر کے فاصلے پر۔ اس سعادت کی وجہ سے ڈاکٹر صاحب کی اپنے وطن مالوف کے لئے سرگرم کردار کو بہت قریب سے دیکھنے کا موقع ملتارہا۔

جب بھی دہلی سے ارریہ آتے علاقے کے اہل علم اور سماجی وسیاسی شخصیات کی ڈوبا اور جامعہ دعوۃ القرآن میں آمد و رفت کی رونقیں بڑھ جاتیں۔

چند سال پہلے انہوں نے اپنے گاؤں میں ایک چیریٹیبل اسپتال کی سنگ بنیاد رکھوائی تھی جس میں خطہء سیمانچل کے ہر شعبہء حیات کے ممتاز حضرات کے علاوہ خاص طور پر کٹیہار میڈیکل کالج کے بانی اور مشہور معالج وسیاستداں ڈاکٹر احمد اشفاق کریم صاحب، سابق ممبر پارلیامنٹ حضرت مولانا اسرارالحق صاحب قاسمی رحمہ اللہ کشن گنج ، سابق ایم پی ارریہ جناب سرفراز عالم صاحب اور جناب اخترالایمان صاحب کشن گنج بھی موجود تھے۔

ڈاکٹر عبدالقادر شمس صاحب سیمانچل کی غربت اورناخواندگی کو دور کرنے کےلئے ہر سطح پر پوری زندگی سرگرمِ عمل رہے۔ یہی وجہ تھی کہ دہلی میں قیام پذیر ہونے کے باوجود سیمانچل کے ہر چھوٹے بڑے واقعے کی ان کو مکمل خبر رہتی تھی،جب میرے مشفق استاذاور بڑے بھائی مفتی حسین احمد ہمدم صاحب نے ارریہ سے سہ ماہی "چشمہء رحمت” کا اجراء کیا تو باوجودیکہ بھائی صاحب اور مرحوم کی کبھی ملاقات یا تعارف نہیں تھا مگر ان کو خبر ہوگئ اور خبر ہی نہیں ہوئی بلکہ انہوں نے فون پر مبارکباد دی اور حوصلہ افزائی کے کلمات کہے۔پھر جب اگلے سفر میں ارریہ آئے تو اپنے ادارے میں سیمینار کا انعقاد کیا اور اس میں بھی مفتی صاحب کو مدعوکیا۔

اورابھی لاک ڈاؤن سے کچھ عرصہ پہلے بھی گجرات سے آئے چند خصوصی مہمانان کرام کی آمد کے موقع پر مفتی صاحب اور بندہء ناچیز کو یاد فرمایا۔یہی نہیں جب بھائی صاحب نے ارریہ پورنیہ اور کشن گنج کے شعراء کا آن لائن پلیٹ فارم "بزم سخن” نامی واٹس ایپ گروپ پر طرحی مشاعروں کی داغ بیل ڈالی تو اس میں مرحوم نے تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ "مفتی حسین احمد ہمدم” صاحب نے ارریہ کی ادبی فضا میں تازگی اور خوشبو بِکھیر دی ہے”۔
مرحوم ڈاکٹر صاحب انتہائی خورد نواز اور ملنسار شخصیت کے مالک تھے ۔ جب اپنوں کے بیچ رہتے تو اس قدر سادگی سے رہتے اور خندہ پیشانی سے ملتے کہ ذرا سا احساس نہیں ہوتا کہ یہ وہی عبدالقادر شمس صاحب ہیں جو ملک کے اکابر علماء کرام اور معروف ترین ملی قائدین سے بھی اسی بےتکلفی سے مل بیٹھتے ہیں۔ یہ وہی عبدالقادر شمس صاحب ہیں جن سے سیمانچل کے ممبران پارلیمنٹ اور ایم ایل ایز ہی نہیں مرکزی حکومت کے وزراء بھی ملنے میں فخر محسوس کرتے ہیں ، اس کے باوجودان کی صحافت ملی مسائل میں اپنی رفتار سے جاری رہتی ہے۔
آج ان کی وفات کی خبر پاکر ملک وبیرون ملک سے تعزیت کا سلسلہ جاری ہے اور جنازے میں ان کے چاہنے والوں کا ازدحام رہا ۔کیا لیڈران کیا عوام سب رنجیدہ نظر آئے۔
آج ان کی لحد پر کھڑے ہوکر بھی یقین نہیں آرہا کہ ہم دل میں اترجانے والی اُن ذہین آنکھوں کو اب قیامت تک نہیں دیکھ سکیں گے، ہم ہمیشہ کے لئے ان کی جاندار مسکراہٹوں سے محروم ہوگئے، ہم ان کی حوصلہ افزاء شخصیت سے بچھڑ گئے،آہ۔۔۔۔ جبکہ حقیقت اور بہت کربناک حقیقت یہی ہے۔

کل نفس ذائقۃ الموت۔
قارئين سے بہت خاص التماس ہے کہ مرحوم کے لئے ایصال ثواب اور مغفرت وبلندئ درجات کی دعاء فرمائیں۔
اجل نے نہ کسری ہی چھوڑا نہ دارا
اسی سے سکندر سا فاتح بھی ہارا
جگہ جی لگانے کی دنیا نہیں ہے
یہ عبرت کی جا ہے تماشہ نہیں ہے۔

معراج خالد "جگنو”