اردو کو بہار میں سرکاری ثانوی زبان کا درجہ حاصل ہے، حکومت بہار اور خود وزیر اعلیٰ نتیش کمار بھی اردو زبان کی ترقی اور ترویج و اشاعت کا دعویٰ کرتے دن رات نہیں تھکتے ، وزیر اعلیٰ نے تو پرائمری سے لیکر ہائی سکنڈری تک اردو اساتذہ کی بحالی کا اعلان بھی کیا تھا، سرکار اردو کی ترقی اور اردو اساتذہ کی بحالی کا چاروں سوں خوب ڈھنڈورا پیٹ رہی ہے لیکن اس کے برعکس محکمہ تعلیمات کی حالیہ پالیسی خود حکومت کے دعویٰ پر سوالیہ نشان کھڑا کرتی ہے؛ محکمہ تعلیمات نے 15 مئی 2020 کو ایک نوٹیفیکیشن جاری کیا ہے، اس نوٹیفکیشن میں سکنڈری و ہائیر سکنڈری اساتذہ کی بحالی کے ضابط میں تبدیلی کی گئی ہے، سکنڈری و ہائیر سکنڈری سطح پر بحالی میں اردو کے عہدے کو اختیاری قرار دیا گیا ہے، یعنی، سنسکرت، بنگلہ اور اردو تینوں زبان کے لئے ایک استاذ جبکہ دیگر سبجیکٹ ہندی ، انگریزی ، حساب ، سائنس ، سماجی سائنس کے لئے ایک ایک اساتذہ کی بحالی ہوگی۔محکمہ تعلیم نے مکتوب نمبر ۷۹۹ /۱۵/مئی ۲۰۲۰ء میں ہائی اسکول سطح پر ان تینوں میں سے کسی ایک زبان پر بحالی کے لئے آسامیاں نکالنے کی ہدایت جاری کی ہے۔جس کو لیکر بہار سمیت ملک بھر کے اردو دوست طبقہ میں بہت اضطرابی اور غم و غصہ ہے، بالخصوص اردو داں طبقہ حکومت بہار کے ہائی اسکولوں میں ضابطہء بحالی میں نئی تبدیلی سے بہت مایوس ہیں۔

مکتوب نمبر۷۹۹ /۱۵/مئی ۲۰۲۰ء سے یہ پتہ چلتا ہے کہ سکنڈری اور ہائی سکنڈری اسکولوں میں اردو اساتذہ کی بحالی کو لازمی سے ہٹا کر اختیاری بنا دیا گیا ہے۔پہلے اساتذہ کی تقرری میں تدریسی موضوعات اور کلاس ٹیچر کے اعتبار سے ہوتی تھی، لیکن محکمہ تعلیمات بہار نے حالیہ جاری کردہ مکتوب میں دو بنیادی تبدیلی کی ہے، ایک تو یہ کہ ہائی اسکول کے درجات کو نویں اور دسویں کلاس تک محدود کر دیا گیا، دوسری تبدیلی یہ کی گئی کہ ہائی اسکولوں میں اب صرف تدریسی موضوعات کے اعتبار سے بحالی ہوگی۔ان دونوں تبدیلیوں سے ایک تو ہائی اسکول نویں دسویں تک محدود ہو گیا جس سے کلاس ٹیچر کی بحالی کا اب کوئی معاملہ ہی نہیں رہا ، دوسری تبدیلی کی وجہ سے اب بحالی تدریسی موضوعات کے اعتبار سے قرار پائی۔ہائی اسکولوں میں چھ اساتذہ کی تقرری کی منظوری محکمہ تعلیم نے دی ہے ، جن میں ہندی ، انگریزی ، حساب ، سائنس ، سماجی سائنس کے لئے ایک ایک، دوسری زبان جس میں ، سنسکرت ، بنگلہ اور بھی شامل ہیں کے لئے ایک ٹیچر بحال کرنے کے لئے محکمہ تعلیم نے آسامیاں نکالنے کی ہدایت جاری کی ہے۔ بہار میں دوسری زبان کا درجہ اردو کو حاصل ہونے کے باوجود سکنڈری و ہائیر سکنڈری اساتذہ کی بحالی میں اردو زبان کو یوں نظر انداز کرنا نہ صرف مضحکہ خیز ہے بلکہ ثانوی زبان کی تذلیل بھی ہے۔واضح ہو کہ بہار میں صرف اردو کو ثانوی زبان کا درجہ حاصل ہے، اور وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے بھی یہ کہا ہے کہ بہار کے سبھی اسکولوں میں کم از کم ایک اردو ٹیچر کی بحالی یقینی بنائی جائے گی، اس لحاظ سے تو ہائی اسکولوں کی بحالی میں اردو ٹیچر کی تقرری لازمی ہونی چاہیے تھی لیکن حالیہ نوٹیفکیشن میں اردو کو اختیاری قرار دیا گیا ہے، ثانوی زبان کی حیثیت سے کم از کم اردو کے عہدے کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے تھا۔حالانکہ اصول کی بات تو یہ ہونی چاہیے کہ ان تینوں زبانوں کے لئے اسکول میں الگ الگ اساتذہ بحال کیے جائیں تاکہ تینوں زبانوں کو پھلنے پھولنے کا یکساں موقع مل سکے۔
محکمہ تعلیم نے ہائی اسکول میں بحالی کے لئے آسامیاں نکالنے کی جو ہدایت جاری کی ہے اس کی مخالفت اب زور شور سے ہونے لگی ہے، کئی تنظیموں نے ایک تحریک سا چھیڑ دیا ہے جس کی اشد ضرورت بھی ہے، اب وقت ہے کہ اردو کے نام پر جو بھی تنظیمیں ہیں، انجمن ترقی اردو ،اردو کونسل ، اردو نفاذ کمیٹی ، تحریک اردو ، بہار اسٹیٹ اردو ٹیچرس ایسو سی ایشن اور اردو کے نام بنی تمام اساتذہ تنظیموں کو اس وقت آواز بلند کرنے کی ضرورت ہے تاکہ حکومت پر مزید دباؤ بڑھ سکے،ایک صورت یہ بھی ہو سکتی ہے کہ تنظیموں کے سربراہان وفد کی شکل میں وزیر تعلیم سے ملیں۔اردو کو نظر انداز کئے جانے کی ایک وجہ اردو داں طبقہ کی بے توجہی بھی ہو سکتی ہے، خود کو اردو داں کہلانے والے لوگ اردو اخبارات کے بجائے ہندی، انگریزی اخبار پڑھنا پسند کر رہے ہیں، اپنے بچوں کو انگلش میڈیم اسکول میں پڑھانا فخر سمجھنے لگے ہیں، یہ لوگ دور اندیشی سے مستقبل کو نہیں دیکھنا چاہتے ہیں کہ اگر ہندوستان سے اردو ختم ہو جاتی ہے تو اسلامی تعلیمات کو سمجھنا اور پڑھنا مشکل ہو جائے گا جس کے نتیجے میں ہماری آنے والی نسلیں ارتداد کا شکار وافر مقدار میں ہو جائیں گی جسے روکنا انتہائی مشکل امر ہوگا۔ہمیں آگے آنے کی ضرورت ہے ۔

اردو داں طبقہ کی ٹھوڑی سی توجہ اور تحریک سے اس وقت کام بن سکتا ہے، بس اردو سے محبت کا دم بھرنے کے بجائے ہم حقیقتاً اپنے گھروں، دفتروں میں اردو کو فراموش نہ کریں، ارود نیم پلیٹ کا استعمال کرنا نہ بھولیں، اپنے بچوں کو ہندی، انگریزی کے ساتھ اردو کی تعلیم بھی دیں، گھروں میں اردو زبان کے استعمال کو یقینی بنائیں۔