ارریہ کے اودا ہاٹ پل کا دل دوزسانحہ انتہائی افسوسناک!

28

بہار کے ضلع ارریہ میں واقع جوکی ہاٹ بلاک کے اودا ہاٹ پل کا دل دوز سانحہ انتہائی دردناک ہے۔

جمعیت علماء ارریہ واٹس ایپ گروپ میں گذشتہ کل یہ خبر چل ہی رہی تھی کہ سیمانچل کے معروف و ممتاز ہردالعزیز صحافی مولانا ڈاکٹر عبدالقادرشمس قاسمی اللہ کو پیارے ہوگئے۔اسی درمیان گروپ کے ایک رکن کے ذریعے خبر ملی کہ ساڑھے تین بجے(کل)دن میں جوکی ہاٹ سے محل گاؤں وغیرہ کو جوڑنے والا اوداہاٹ پل ٹوٹ چکا ہے۔ جس سے ٹریکٹر،ٹیمپو،موٹر سائیکل سوار اور پیدل چلنے والے20سے25 مسافر کے ندی میں ڈوب جانے کا امکان ہے۔


اس دل دوز سانحہ کی اطلاع ملتے ہی اسی گاؤں اودا کے ذمےدار عالم دین رکن جمعیت علماء ارریہ مولانا تحسین فائز قاسمی،حافظ توقیر ترکیلی اور مقامی ذمےداران کے ہمراہ جائے واردات پر پہونچ کر پل کا معائنہ کیا اورحالات کا جائزہ لیا۔
منظر دیکھ کر آنکھیں اشکبار ہوگئیں کہ کس طرح نئے تعمیر ہونے والے سیمنٹ پل کے مساوی ساڑھے چارسو فٹ لمبا لوہے کا تیس سالہ قدیم پل تقریباً ساڑھے تین سو فٹ بیچ سے ٹوٹ کر طغیانی سے چل رہی بکرا ندی میں اس طرح سماگیا کہ پل کا نام و نشان مٹ گیا اور مقامی لوگوں کے کہنے کے مطابق سوائے ایک ٹریکٹر ڈرائیور کے جو تیر کر جان بچانے میں کامیاب ہو گئے بقیہ سارے لوگوں کے پل کے پلٹ کر ٹوٹنے سے اندر دب کر موت وحیات کے حوالے ہونے کا خطرہ منڈلانے لگا۔


ساڑھے پانچ بجے ہم لوگ حاضر ہوئے تو ڈی ایس پی اور ایس ڈی او کے ساتھ پولیس عملہ کے سوا کوئی امدادی ٹیم موقع پر موجود نہیں تھی۔فوری طور پر ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ سے فون پر خطرناک صورت سے آگاہ کرتے ہوئے فوری راحت رسانی کی ٹیم بھجوانے کی گذارش کی۔انھون نے کہاکہ ہمیں علم ہے ۔ٹیم پورنیہ سے آرہی ہے۔پھر موقع پر موجود ڈی ایس پی،ایس ڈی او وغیرہ سے گفتگو ہوئی۔ الحاصل آٹھ بجے رات تک پورنیہ سےSDRF کی ٹیم آئی اور دس بجے رات تک اوپر اوپر چھان بین سےکچھ نتیجہ حاصل نہیں ہوا۔
ہم لوگ واپس گھر آگئے اور پھر دس بجے صبح دوبارہ حاضر ہوئے تو وہی ٹیم موجود تھی اور تلاش کررہی تھی۔جبکہ پورا علاقہ انسانی ہجوم سے پٹا پڑا تھا اور پچاسوں پولیس عملہ بے دست و پا۔


وہاں موجود سرکاری عملہ سے مطالبہ کیا گیا کہ کیرین کے ساتھ غوطہ خوروں کی ٹیم بلوائی جائے تو پندرہ سے بیس فٹ اندر کی سچائی کا پتہ چل سکتا ہے۔

چنانچہ عملہ نے تسلی دلاتے ہوئے کہا کہ دونوں ٹیم آرہی ہے۔مگر آج دوسرے روز دوپہر تک کرین تو آگیا لیکن معاملہ اس کے بس سے باہر ہی رہا۔ہم ڈھائی بجے واپس آگئے۔جبکہ ابھی آٹھ بجے شب تک غوطہ خوروں کی ٹیم نہیں آئی اور انتظار انتظار کرتی بھیڑ دوسرے روز بھی خالی ہاتھ اپنے اپنے گھروں کو واپس لوٹ گئی۔


دوسرا ایک عجوبہ یامعمہ جو سمجھ سے بالاتر ہے وہ یہ کہ مقامی لوگوں کی بات اگر سچی ہے تو آخر اس طویل ترین تیس گھنٹے گذرجانے کے باوجود اب تک لاپتہ افراد کے متعلقین اپنی گمشدگی کی اطلاع موجود عملہ کے سامنے پیش کیوں نہیں کررہے؟
الحاصل خواہ راہ گیر نہ ڈوبے ہوں یاڈوبتے ڈوبتے تیر کر نکل گئے ہوں یا پھر خدانخواستہ 20/25 فٹ گہرے پانی میں پل کے ملبے تلے دب کر ہمیشہ کے لئے چیند کی نیند سوگئے ہوں۔۔۔واقعہ جو بھی ہو یہ دل دوز سانحہ یہاں کے راج نیتاؤں،ضلع انتطامیہ اور حکومت بہار کے نظم و نسق کے لئے باعثِ شرم،قابل مذمت اور سبق آموز واقعہ ہے۔برسوں تک اس خوفناک دن اور تاریک راتوں کو بھلایا نہ جاسکے کا!!!