کسی نے کچھ کہا؟ کچھ سنا آپ نے؟

25

مظلوم کی آواز مدھم ہوکر بھی تیز ہوتی ہے،، جب اس کے اپنے آس پاس کے لوگ آنکھ کان بند کر لیتے ہیں، تو ایسی جہتوں سے اس کے لئے آواز اٹھنے لگتی ہے، جس کی توقع خود اس کو بھی نہیں ہوتی ہے.. ریاستیں سارے ڈپلومیٹک چینلز استعمال کرکے، وسیع ترین اور مہنگی ترین لابنگ کر کراکے بھی، اقوام متحدہ کا کوئی ریمارک اپنے حق میں، یا اپنے حریف ملک کے خلاف بسا اوقات حاصل نہیں کرپاتیں.. لیکن ایک مظلوم اقلیت، اقوام متحدہ کے جنرل سکریٹری کی زبان سے بے طلب وہ سب کچھ حاصل کرلیتی ہے.. یہ اللہ کا انتظام ہے.. ہندوستان کی اقلتیں ملک سے وفادار، سائشتہ شعار اور ملک کی شہرت اور وقار کے تئیں حد درجہ حساس ہیں.. وہ اپنے اوپر سے موج خوں گزار کر بھی اندرونی احتجاج پر اکتفا کرتی ہیں.. اور ابھی تک انھوں نے اپنی طرف سے کوئی بیرونی فورم استعمال نہیں کیا ہے، نہ ہی اپنے ساتھ روا رکھے گئے ریاستی جبر و استبداد کو بین الاقوامی سطح پر اٹھایا ہے… حالانکہ مظلوم فرد یا کمیونٹی کو اللہ تعالیٰ نے بھی، تیز آہنگی کی اجازت دی ہے، چاہے اس میں ظالم کی بدشہرتی کیوں نہ ہو. ظلم کے خلاف آواز بلند کرنا، ایک طرح ظلم سے بچاؤ کا راستہ بھی ہے.. اللہ تعالیٰ نے اس کو مظلوم کا استحقاق رکھا ہے.

لايُحِبُّ اللَّهُ الْجَهْرَ بِالسُّوءِ مِنَ الْقَوْلِ إِلَّا مَن ظُلِمَ ۚ وَكَانَ اللَّهُ سَمِيعًا عَلِيمًا. (القرآن)

22 اگست کو اقوام متحدہ کے جنرل سکریٹری انتونیوگیٹریس نے، ہندوستان کی حکمران جماعت، ہندوستان کے میڈیا کو علی الاعلان اقلیتوں پر زیادتی کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے.. کرونا وبا کے وقت جان بوجھ کر بے گناہ مسلم اقلیت کو اس کے پھیلاؤ کا ذمہ دار قرار دیا گیا اور ہر سطح پر ان کو بدنام کیا گیا، ان کے خلاف جبر روا رکھا گیا، ان کو ظالمانہ قانونی کارروائیوں اور انتظامی بندشوں کا شکار بنایا گیا،، عوامی سطح پر ان کے ساتھ اچھوتوں جیسا سلوک کیا گیا.. تبلیغی جماعتوں کا تعاقب کیا گیا اور تنگ کیا گیا.. اس سلسلے میں میڈیا نے انتہائی سفاکانہ رویہ رکھا اور ایجنڈے پر مبنی کردار کشی کی.. حکمران جماعت دانستہ طور پر ان تمام کارروائیوں میں شریک رہی.. یہ اور اس جیسی ساری باتیں جنرل سکریٹری کی رپورٹ میں ہے.. کیا مجال تو حکومت نے اس کا نوٹس لیا ہو، اور اسکرپٹ رٹ کر جھوٹ بولنے میں سینہ زور اور حقیقت بیانی میں منہ چور میڈیا نے عوام الناس کو اس رپورٹ کی بھنک بھی لگنے دی ہو.. ہمارے اپنے مسلمانوں کی مذہبی اور نیم سیاسی قیادت کے پیدائشی حقدار تو ابھی یہی تسلی دے رہے ہیں کہ آگے سوسال بھی مودی حکومت قائم رہی تو بھی ہند کے مسلمان دوسری جگہوں کے مسلمانوں سے اچھے رہیں گے.. ظاہر ہے یہ الہامی باتیں ہیں اور ان کے فالوورز اس پر اسی طرح یقین کرتے ہیں جیسے دن پر دن میں اور رات پر رات کو کرتے ہیں.. اقوام متحدہ کے جنرل سکریٹری کی باتیں رپورٹس اور فیکٹس پر مبنی ہوتی ہیں،، خوش گمانیوں اور مولویانہ لن ترانیوں پر نہیں.. خاص بات یہ ہے کہ اس رپورٹ کی تیاری میں کوئی مسلم جماعت، سیاسی، سماجی مذہبی کسی طور "ملوث” نہیں ہے.. اس رپورٹ کے مندرجات، آزاد ذرائع، انسانی حقوق کی نگرانی کے ادارے، بین الاقوامی میڈیا، اور سماجی خدمات کے اداروں کے فراہم کردہ ہیں.. جن پر اقوام متحدہ جیسا ادارہ اعتماد کرتا ہے.. یہ بھی ذہن نشین رکھنا چاہئے کہ ہندوستان کی جب سے امریکی خیمے میں آمد ہوئی ہے، بین الاقوامی فورمز محتاط ردعمل دیتے ہیں، کیوں کہ دبنگ کی آنکھ سبھی دیکھتے ہیں.. اس حقیقت کے باوجود اگر یہ مندرجات، رپورٹ کا حصہ بن گئے ہیں تو پانی سر سے اونچا ہی ہے، اور گزرے واقعات کی کثرت اور ان کی سنگینی دونوں ہم باشندگان ملک سے اوجھل رکھی گئی ہے.. میری آواز اتنی اونچی نہیں ہے، لیکن میں ملک کی سبھی سیاسی جماعتوں، مسلم قیادت، سماجی انصاف کے فورمز، انسانی حقوق کی تنظیموں، سے مطالبہ کرتا ہوں کہ ایک ایسے عدالتی یا تحقیقاتی آزاد کمیشن کے قیام کا مطالبہ کریں جو ان واقعات کی مفصل جانچ کرے، ذمہ داروں کا تعین کرے اور ملکی قوانین کی روشنی میں ان کی سزا کا تعین کرے.. یہ رپورٹ ہندوستان کے مسلمانوں کی مظلومیت سے زیادہ،ایک جمہوری سیکولر ملک کی دنیا کی نظر میں سبکی اور بری شہرت کا سبب بنی ہے…. عدالت عظمیٰ خود بھی سو موٹو ایکشن لے سکتی ہے اور لینا چاہیے… اس طرح کے اقدام ہی لاقانونیت، اور غیر ذمہ دار رویوں کی روک تھام کرسکتے ہیں..

ساتھ ہی میں انتظار کروں گا کہ آزاد میڈیا اور منصف مزاج لوگ اس موضوع پر بات کب اور کس طرح کریں گے… ہندوستان کے مسلمانوں سے بھی امید رکھوں گا کہ آپ سنت مہاتما ہرگز نہ بنیں، جو ہیں ان کو رہنے دیں، یہ دیکھا سنا کریں کہ آپ کے بارے میں کون کہاں اور کب کیا کہتا ہے..؟