ارریہ کا شمس غروب ہوگیا،مفتی ہمایوں اقبال ندوی

53

ارریہ(توصیف عالم مصوریہ)
ایک بہترین صحافی بالغ نظر مصنف قابل قدرشخصیت اور عالم دین جناب عبدالقادر شمس قاسمی اس دارفانی سے کوچ کرگئے ۔ انا للہ و انا الیہ راجعون ۔مرحوم اسم بامسمی تھے اور خطہ سیمانچل کے لئے ایک امید کی نئی کرن اور ضلع ارریہ کے حق میں مکمل آفتاب تھے، آپ نے اپنی علمی و فکری زندگی کا مرکز ملک کی راجدھانی دہلی کو ضرور بنالیاتھا مگرمحورضلع ارریہ تاحیات بنارہا۔  تعلیمی پسماندگی، غربت افلاس ،علاقےکی زبوں حالی اورصحت عامہ کےتئیں ہمیشیہ فکرمندریے  کچھ نہ اور بہت کچھ کرتے بھی رہے۔اپنے آبائی اور نشیبی گاؤں سے متصل نشیب میں قرآن کی نسبت پر بڑااونچااورمعیاری ادارہ کی آبیاری کرتےرہے،کبھی صحت کےعنوان پرہاسپیٹل کاقیام توکبھی طبی کیمپ لگالگاکراندھیری آنکھوں میں روشنی بکھیرتے رہے۔ زبان وقلم سے جہاں ملکی سیمینار اور اخبارات کو زینت بخشتے وہیں علاقے کو کبھی فراموش نہیں کرتے ۔مرحوم سے کافی امیدیں وابستہ تھیں،
افسوس کہ عمر نے وفا نہ کی اور آخری منزل کی طرف رواں دواں ہوگئے ۔باری تعالٰی جنت الفردوس نصیب کرے اور پسماندگان کو صبر جمیل کی دولت عطا فرمائے ۔جملہ خدمات کو مرحوم مغفور کے حق میں صدقہ جاریہ بنادے اور نعم البدل نصیب کرے، آمین یا رب العالمین
ایں دعا ازمن وجملہ جہاں آمین آباد