معروف صحافی مولانا و ڈاکٹر عبدالقادر شمس کا انتقال پر ملال

37

متوفی دعوت القرآن ایجوکیشنل ٹرسٹ کے صدر اور روزنامہ راشٹریہ سہارا کے سینئر سب اڈیٹر تھے

ارریہ(معراج خالد) گزشتہ روز معروف صحافی ڈاکٹر عبدالقادر شمس کا دہلی کے ایک اسپتال میں موت ہوگئی وہ ارریہ ضلع کے ڈوباگاؤں سے تعلق رکھتے تھے ان کی عمر تقریبا پچاس سال تھی۔وہ کورونا انفیکشن کی وجہ سے گزشتہ کئی دنوں سے اسپتال میں داخل تھے پلازمہ بھی چڑھایاگیا تھا مگر جاں بر نہ ہوسکے۔پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ ایک بیٹا اور تین بیٹیاں ہیں۔
ڈاکٹر عبدالقادر شمس صحافت کے ساتھ سماجی سرگرمیوں میں بھی سرگرم تھے اوربہت فعال تھے۔سیمانچل کی فلاح بہبود اور وہاں کے مسائل اٹھانے کیلئے قائم سیمانچل میڈیا منچ کے نائب صدر بھی تھے۔ مدرسہ دعوۃ القرآن پھیٹکی چوک ارریہ کے شریک بانی تھے اس کے علاوہ کئی اداروں سے وابستہ بھی تھے۔عبدالقادر شمس دارالعلوم دیوبند کے فاضل تھے اور جامعہ ملیہ اسلامیہ سے پی ایچ ڈی کی تھی۔وہ کئی کتابوں کے مصنف بھی تھے۔راشٹریہ سہارا میں طویل عرصہ تک بحیثیت سینئر سب ایڈیٹر خدمات انجام دیئے اور اس سے پہلے کئی ملی تنظیموں میں کام کرنے کے ساتھ ادارتی فرائض بھی انجام دے چکے تھے۔وہ سیمانچل کے دگرگوں حالات سے کافی پریشان رہتے تھے اور تعلیم وصحت کیلئے ادارے بھی قائم کئے تھے۔مسٹر شمس انتہائی ملنسار، با اخلاق اور ملنے جلنے والے شخص تھے۔ان کے انتقال سے اردو صحافت ایک فعال صحافی سے محروم ہوگیا ہے۔ان کے انتقال پر صحافی برادری کے علاوہ بہار اردو اکیدمی کے سابق سکریٹری اور سابق بیورو کریٹ مشتاق احمدنوری، جوائنٹ کمشنر انکم ٹیکس اسلم حسن،مشہور ادیب حقانی القاسمی، تنظیم علمائے حق کے قومی صدر مولانا اعجازعرفی قاسمی، سیمانچل میڈیا منچ کی پوری ٹیم اور اس کے صدر اورصحافی عابد انور، جامعہ ملیہ اسلامیہ کے اسسٹنٹ پروفیسر شعبہ اردو ڈاکٹر خالد مبشر، شعبہ اسلامیات کے اسسنٹ پروفیسر ڈاکٹر مشتاق احمدتجاروی، ایم آئی ایم کے ریاستی صدر اخترالایمان ہیومن چین کے صدر انجینئر محمد اسلم علیگ اور این سی پی یو ایل کے ڈاکٹر توقیر راہی سابق ایم پی سرفراز عالم جوکی ایم ایل شہنواز عالم ایم پی پردیپ کمار سنگھ وغیرہ نے زبردست رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے تعزیت پیش کی ہے۔
علاوہ ازیں ارریہ کے تمام سربرآوردہ دینی ادبی صحافتی سماجی و سیاسی شخصیات نے غم والم کا اظہار کیا ہے