کورونا بحران : ساڑھے تین مہینے سے بند ہیں سلاٹر ہاؤس

31
دہلی مرچینٹس ایسوسی ایشن نے پریس کانفرنس میں افسوس کے ساتھ کہا کہ غازی پور میں واقع سلاٹر ہاؤس بکرا اور گوشت منڈی ساڑھے تین مہینے سے زائد مکمل طریقے سے بند ہیں، جس کے سبب گوشت کاروباری فاقہ کشی کر نے پر مجبور ہیں۔ ایسو سی ایشن کے عہدیداروں نے بتایا کہ ہم نے وزیر اعظم، وزیر داخلہ اور وزارت خوراک ورسد حکومت ہند سمیت ایم سی ڈی، ای ڈی ایم سی دیگر وزارت کو خط لکھ کر انہیں گوشت کاروباریوں کے حالات سے باخبر کیا ہے اور میمورنڈم میں لائف اسٹاک مارکیٹ اور سلاٹر ہاؤس کھولنے کا جلد ہی مطالبہ کیا ہے۔ ذمہ داران کا دوران گفتگو یہ بھی کہنا تھا کہ سلاٹر ہاؤس 22مارچ (جنتا کرفیو)سے مکمل طریقے سے بند ہیں اور بکرا و بھینس منڈی سے ای ڈی ایم سی ڈی کو سالانہ 8 کروڑ روپئے ریونیو کے طور پر جاتا ہے، جو اب ان دنوں بالکل بند ہے، وہیں ایک دن میں قریب 9 جانور کاٹے جاتے ہیں اور پوری دہلی میں تقریباً 90 فیصد گوشت کی بھرپائی غازی پور منڈی سے ہی ہوتی ہے۔
اس موقع پرایسو سی ایشن کے صدر ارشد حبیب قریشی نے بتایا کہ ہماری ٹیم نے علاقائی ایم پی و مرکزی وزیر ڈاکٹر ہرش وردھن اور دہلی سرکار کے وزیر و علاقائی ایم ایل اے عمران حسین کے سامنے اپنے مسائل رکھے، مگر ان کی جانب سے اب تک کوئی خاطر خواہ قدم نہیں اٹھایا گیا، وہیں ہم نے نو منتخب میئر نرمل جین سے ایک وفد کی شکل میں ملاقات کرکے گوشت کاروباریوں کی تکالیف سے آگاہ کیا تھا، مگر آج تک ان کے کان کے نیچے سے جوں تک نہیں رینگی۔ انہوں نے بتایا کہ ہریانہ، پنجاب و چنڈی گڑھ سے افراد بھینس وبکرے راجدھانی لاکر فروخت کرتے تھے، مگرمنڈی بند ہو نے سے اس سے جڑے لاکھوں لوگ بیروزگار ہوگئے ہیں اور اس میں متعدد مذاہب کے لوگ بھی شامل ہیں، ان تمام مزدوروں کو لاک ڈاؤن کی وجہ سے زندگی کو تباہ کر دیا ہے اور فاقوں کے ساتھ زندگی گزارنے پر وہ مجبور ہیں۔ انہوں نے ایک سینئر ڈاکٹر کی رپورٹ کے حوالے سے بتایا کہ کووڈ- 19 کے بڑھتے قہر کے درمیان لوگوں کو قوت مدافعت کے لیے گوشت کی بہت ضرورت ہے، ایسے میں ایم سی ڈی کو توجہ دے کر گوشت منڈی کو کھول دینا چاہیے۔
اس موقع پر محمد یونس احمد قریشی نے تشویش کے ساتھ کہا کہ غازی پور سلائٹر ہاؤس پوری دہلی کو گوشت دستیاب نہیں کرا پاتا ہے، کیو نکہ آبادی بہت بڑھ گئی ہے، اس لئے ہمارا مطالبہ ہے کہ نارتھ اور ساؤتھ ایم سی ڈی میں بھی سلائٹر ہاؤس قائم کیے جائیں، کیو نکہ دہلی میں 80 فیصد سے زائد لوگ گوشت خور ہیں اور شہریوں کو غذا فراہم کرنا ایم سی ڈی کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ دہلی کی سابق وزیر اعلی شیلا دکشت نے قریش برادری کے ایک بڑے پروگرام میں دارالحکومت میں 4 سلائٹر ہاؤس بنانے کی یقین دہانی کرائی تھی، مگراس کے بعد تمام سرکاروں نے قریش برادری کے اہم مسائل کو نظر اندازکیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ صدر بازار کی عیدگاہ کے نزدیک گوشت منڈی تھی، مگرکامن ویلتھ گیمز کو دیکھتے ہوئے بند کر دیا گیا، حالانکہ اس جگہ سے کامن ویلتھ گیمز سے کوئی لینا دینا نہیں تھا۔
سکریٹری جنرل محمد ارشاد قریشی عرف بابا نے افسوس کے ساتھ کہا کہ ہم کو ہر طرف سے صرف تسلی دی جا رہی ہے، وہیں مزدور بھکمری کا شکار ہو رہے ہیں، لیکن اب ہمارا صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا ہے، ہم انتظامیہ کو متنبہ کرتے ہیں کہ اگر ہمارے مطالبات کو فوری نہیں مانا گیا تو ہم عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانے پر مجبور ہوں گے اور بہت جلد قریش برادری احتجاج کی شکل میں ایم سی ڈی کا گھیراؤ کرے گی، کیو نکہ موجودہ وقت میں ہمارے بچوں کی روزی روٹی کا مسئلہ کھڑا ہو گیا ہے۔ ارشاد قریشی نے یہ بھی کہا کہ بقرعید مسلمانوں کا اہم ترین تہوار 20 دن کے بعد ہے، جس میں سنت ابراہیمی کی شکل میں بکرا اور بھینس کو راہ خدا میں ذبح کرتے ہیں، ایسے میں بہت سے مسلمان سلاٹر ہاؤس میں ہی بھینس اور بکرا ذبح کراتے ہیں اور وہاں سے خرید کر بھی لاتے ہیں، اس کو سامنے رکھتے ہوئے جلد ازجلد بکرا اور بھینس منڈی کو کھولا جانا چاہیے۔