‌ہندوستانی سیاست میں کانگریس پارٹی، ہرگز اس پوزیشن کی مستحق نہیں، جو اسے پچھلے کئی قومی اور ریاستی انتخابات میں ملی ہے.. لیکن اس بات کا امکان بڑھ رہا ہے کہ اس کی یہی موجودہ پوزیشن مستحکم ہوجائے، اور اگلے انتخابات میں اس سے بھی بری درگت بن جائے.. اتنے افسوس حیرت اور بےوقاری کی بات ہے، کہ لوک سبھا میں کانگریس پارٹی اپوزیشن کی قیادت کا پارلیمانی عہدہ بھی حاصل نہ کرسکے.. لیکن لگتا ہے کہ اتنی قدیم اور تاریخ میں عظیم پارٹی، سیاست کو روٹین سمجھ رہی ہے.. اس کو سیاست کی نبض ٹٹولنا نہیں آتا.. وہ دو قدم پیچھے ہٹ کر کاری وار کا داؤ بھول گئی .. اگر ایسا ہی ہے تو اس پارٹی کی تاریخ پولیٹیکل سائنس کی کتابوں میں پڑھائی جائے گی، اور قومی سیاست میں اس کا رول زیرو ہوگا.. پارٹی پراعتماد نہیں نظر آرہی،، حالانکہ سیکولر مزاج ووٹرز ابھی بھی اس کو ایک بہتر متبادل دیکھنا چاہتے ہیں.. ملک کی اقلیتوں نے یکے بعد دیگرے کئی آپشنز آزمانے، اور مایوسی ہاتھ لگنے کے بعد کچھ نئی سوچ کے ساتھ اپنی پوزیشن طے کرنی کی سوچا ہے.. لیکن پارٹی کے پاس کوئی تنظیمی اور انتخابی منصوبہ ندارد ہے.. کچھ حوصلہ مند لوگ ساتھ چھوڑ گئے، کچھ نیم دل ہیں، کچھ نے اپنے تیور دکھادئے ہیں،، اور باقی ایسے بھی نہیں ہیں کہ وہ پارٹی چھوڑ دیں تو سیاست میں بےبساط ہوجائیں.. کانگریس میں کوئی شریمتی اندراگاندھی نہیں ہے…سینئیرز میں زیادہ تر ایسے ہیں جو بہت قدآور ہیں، اور پارٹی کے لئے ان کی خدمات شریمتی سونیا گاندھی اور راہل جی سے بہت زیادہ ہیں.. نیا کیڈر پرجوش نہیں ہے، اور پرانے لیڈروں کا عوامی رابطہ کم ہوتا جارہا ہے .. علانیہ محسوس ہورہا ہے، کہ پارٹی ڈرائنگ روم پولیٹکس کی عادی ہورہی ہے.. جو ایک طرح کی سیاسی موت ہوتی ہے،، اور میدان کی کشمکش سے دوری ہوتی ہے،.. اس کے بعد انتخابی سیاست رہ ہی نہیں جاتی.. کچھ تیز طرار منی شنکر ایر جیسے لیڈرز اچھے اور پرزور جارحانہ آرٹیکلز کے ذریعہ کچھ حرارت پیدا کرتے تھے وہ پتہ نہیں کہاں کھوگئے.. ملند دیورا، آنند شرما، یوپی سے تیواری.. سنجے نروپم جیسے اچھے ڈبیٹرز، لگتا ہے سیاسی وینٹیلیٹرز پر ہیں…

‌مردنی کے اس ماحول میں اگر پارٹی کے بڑے لوگ اگر” ہمہ وقتی صدر” جو پارٹی آفس میں "دستیاب” ہو، کا مطالبہ کرتے ہیں تو پانی سر سے اونچا ہوچکا ہے.. نوشتہ دیوار تو زیرک سیاستدان کو جو پارٹی چلاتا ہے، سچن پائلٹ کے باغی تیور سے پڑھ لینا چاہیے تھا..، جو گوکہ پارٹی میں رہ گئے اور واپس لے لئے گئے لیکن آواز اٹھانے کی راہ سجھا گئے.. یہ بڑی بدقسمتی ہے کہ راجستھان حکومت کے، حالت نزع سے نکلتے ہی، پارٹی مطمئن ہوگئی..اور پارٹی کے اندر اٹھنے والے طوفان کا کوئی ادراک نہیں کرسکی .
‌آج کی میٹنگ میں یہ اچھا فیصلہ ہوا کہ 6 ماہ کے لئے قیادت کا مسئلہ زیر التوا رکھا جائے.. مطالبہ پر فوری تبدیلی ایک طرح کی انارکی پیدا کرسکتی تھی اور مطالبات کا ایک نہ تھمنے والا سلسلہ شروع ہوسکتا تھا، کیونکہ کانگریس کی تنظیمی حالت ابتر ہے.. اس موقع کا فائدہ، طالع آزما لوگ اٹھا سکتے تھے،لیکن اب اس مسئلے کو مستقل بنیاد پر حل کرنا پڑے گا… یہ ایک اچھا موقع ہے پارٹی کے لئے بھی، اور گاندھی خاندان کے لئے بھی، کہ پرانی روایت توڑی جائے.. گاندھی خاندان کے باہر سے کسی سینئر کو موقع دیا جائے اور راہل گاندھی اور پریانیکا گاندھی جی کو دو ایسے کلیدی عہدے دئے جائیں جن پر دونوں متحرک ہوں اور سرگرم عوامی رابطے میں آئیں تاکہ آیندہ پھر قیادت ایک تجربے اور تیاری کے ساتھ سنبھال سکیں… پانی بھی دیر تک ٹھہرے تو متعفن ہوجاتا ہے، اور انسانوں کی عہدہ کار کی ضمانت اور اس پر برقراری کی درازی قوت کار کم کردیتی ہے…
‌سونیا جی کے نام 23 دگجوں کے مراسلہ کو ان کی سیاسی اٹھارٹی کے لئے ایک چیلنج سے زیادہ، پارٹی کی نشاۃ ثانیہ کا موقع سمجھنا چاہئے..

 

‌کیا پارٹی بالغ نظری کے اس درجہ پر ہے؟
‌راہل گاندھی جی کے بچکانہ بیان سے تو لگتا ہے کہ نہیں ہے…