مولانا ڈاکٹر عبد القادر شمس صاحب قاسمی کی رحلت سیمانچل کی علمی و ادبی دنیا کا عظیم خسارہ ہے!

31

ارریہ {روزنامہ نوائےملت}
اس سال اکابرین علماء ودانش وران کی رحلت کے تسلسل میں ایک اور نام جڑ گیاہے۔
مولانا ڈاکٹر عبد القادر شمس صاحب قاسمی بھی اللہ کو پیارے ہوگئے۔اناللہ و انا الیہ رجعون۔
یہ اندوہناک خبر سن کر قلب و جگر پر گویا بجلی کا ایک کڑکا گرگیا۔
موصوف ادارہ دعوۃ القرآن ٹرسٹ ارریہ کے صدر،روزنامہ راشٹریہ سہارا کے سینیر سب ایڈیٹر،معمار نسل نو،آبروئے صحافت اور اردو دنیا کے ہردالعزیز ممتاز و معروف صحافی تھے۔
مولانا مرحوم کی ایک خاص نسبت یہ بھی تھی کہ وہ اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا کے بانی قاضی القضاۃ حضرت قاضی مجاہد الاسلام صاحب قاسمی رحمتہ اللہ اور عظیم ملی رہنما حضرت مولانا اسرار الحق صاحب قاسمی رحمتہ اللہ علیہ کے تربیت یافتہ اور ان کے ساتھ کام کرنے کی سعادتوں سے مالامال تھے۔
مرحوم بیک وقت بے شمار فلاحی،ملی،دعوتی،سیاسی،سماجی،تعلیمی،تربیتی اور علمی و ادبی خدمات بحسن وخوبی انجام دے رہے تھے۔

وہ راجدھانی دہلی میں رہتے تھے مگر ان کا دل ارریہ اور سیمانچل کی پس ماندگی و زبوں حالی دور کرنےکے لئے ہمیشہ تڑپتا رہتا تھا اور وہ لگاتار اپنی کوششیں اور جدوجہد جاری رکھے ہوئے تھے۔اس وقت سیمانچل اور ریاست و ملک کو ان کی سخت ضرورت تھی مگر مرضی مولیٰ کہ یوں اچانک درمیان سے رخصت ہوگئے۔
ان کی وفات ملک وملت کے علاوہ بطور خاص ارریہ اور سیمانچل کی علمی،ادبی،فلاحی،قومی و ملی دنیا کا عظیم خسارہ ہے۔
جمعیت علماء ارریہ کے جملہ خدام و اراکین ان کی رحلت پر بیحد غمگین ہیں اور ان کے لئے دعاء مغفرت کے ساتھ ساتھ ان کے برادر اصغر مولانا عبد الواحد صاحب رحمانی،ان کی تمام تر تحریک کے رفیق مفتی محمد عارف صاحب قاسمی اور جملہ متعلقین کے لئے صبر جمیل اور ملک وملت کے لئے ان کے نعم البدل کی دعائیں بھی کرتے ہیں۔
آسماں تیری لحد پہ شبنم افشانی کرے
سبزہ نورستہ اس گھر کی نگہبانی کرے۔۔۔