قمرپیج” پر آن لائن ذکر شہدائےکرب وبلاہوا

43

پہلی محرم الحرام کو ‘قمرلرنگ اکیڈمی یوکے’ کی جانب سے "آن لائن ذکر شہدائے کرب وبلا”کا اہتمام کیاگیا،جس میں بیان کرتے ہوئے،محسن ملت خطیب اہل سنت حضرت علامہ مولانا محمد محسن رضاصاحب قبلہ (یونائیٹڈ کنگ ڈام) نےاپنی خطابات کے دوران فرمایا کہ، یہ مہینہ بہت ہی بابرکت اور حرمت والا مہینہ ہےسال بھر میں بارہ مہینے آتے ہیں، جس میں چار حرمت والے مہینے ہیں، اول ذوی القعدہ، دوئم ،ذوی الحجہ سوئم ۔محرم الحرام، اورچہارم رجب المرجب،ان چار مہینوں کو حرمت والا مہینہ قرار دیاگیاہے، اس لئے کہ جو بھی بندہءِ مومن اس ماہ مبارک میں کوئی بھی اچھا کام کرے تو اسے ثواب زیادہ ملتاہے اور ساتھ میں یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ کوئی شخص اگر خدانخواستہ کوئی گناہ کر بیٹھے تو اس کا گناہ بھی زیادہ بڑھ جاتا ہے، اس لئے اہل ایمان اور بندوں کو چاہیئے کہ اس ماہ مبارک میں اپنے آپ کو گناہوں سے بچائیں ،اور زیادہ سے زیادہ نیکی کرنے کی کوشش کریں، ہوسکے تو اس ماہ محرم الحرام میں روزہ بھی رکھیں، ترمزی شریف کی حدیث پاک میں ہے۔حضرت امیرالمومنین سیدنا سرکار علی ابن ابی طالب کرم اللہ تعالیٰ وجہ الکریم ارشاد فرماتے ہیں کہ میں حضورسرکاردوعالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ اقدس میں حاضر تھا، کہ ایک آدمی آیااور اس نے سوال کیا کہ، یا حبیب اللہ فداک ابی وامی، صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ،میں ماہ رمضان کے روزے تو پابندی سے رکھتا ہوں مگر میرا دل چاہتاہے کہ ماہ رمضان کے علاوہ کسی اور مہینے میں بھی روزےرکھوں، تو آپ میری رہنمائی فرمائیں کہ کس مہینے میں روزےرکھوں، تو رسول پاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تم اگر ماہ رمضان کے بعد روزے رکھنا چاہتے ہوتو محرم الحرام کے روزے رکھو، اس لیے کہ یہ اللہ تعالیٰ کا مہینہ ہے اس ماہ مبارک میں اللہ تعالیٰ نے ایک قوم کی توبہ قبول فرمائی ہے تو امید ہے کہ دوسری قوم کی بھی توبہ قبول فرمائےگا، اس حدیث پاک کا واضح اور مسلم پیغام یہ ہے کہ اس ماہ میں ہم سے ہوسکے تو روزے رکھیں اور دوسرا پیغام ی ہے کہ زیادہ سے زیادہ توبہ واستغفار کرنے کی کوشش کرنی چاہئے ،اللہ تعالی ہمیں اس ماہ میں مبارک میں روزہ رکھنے کی، اور توبہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے، مزید آپ اپنے خطاب کر دروان فرماتے ہیں کہ جب محرم الحرام کا مبارک مہینہ آتاہے تو شہدائے کرب وبلا کا تذکرہ اور اہل بیت عظام کا تذکرہ بھی ہوتا ہے، اور خاص طور سےسیدالشہداء نواسہ رسول، نورعین مصطفی حضرت سیدنا سرکار امام حسین عالی مقام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ذکر کثرت سے ہوتاہے، اورہونا بھی چاہئے، کیونکہ آپ کی محبت اور تمام اہل بیت کی محبت ہمارے ایمان کاحصہ ہے،حضرت امیرالمؤمنین سیدنا سرکار امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ،حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے صحابی تھے، بلکہ کاتب وحی بھی تھے،جب حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم پر وحی الہی کا نزول ہوتاتھا، تو اس وحی کو لکھنے کے لئےحضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے کم وبیش چودہ صحابہ کرام کو اس کام پر مامور فرمایا تھا، انہی میں سے ایک صحابی کا نام حضرت امیرالمؤمنین سیدنا امیر معاویہ رضی المولی عنہ کابھی ہے،
اور اپ کو یہ شرف حاصل تھا کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم پر نازل ہونے والی وحی کو اپنے مبارک ہاتھ سے لکھا کرتے تھے، اس سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ حضرت سیدنا سرکار امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے کتنے معتمد صحابی تھے،
اور نبئی پاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ان پر کتنا بھروسہ فرمایا کرتے تھے،
صحابی اس انسان کو کہتے ہیں، جس نے نبیءِ کریم علیہ الصلوٰۃ والتسلیم کو ایمان کی حالت میں دیکھاہو، اور ایمان کی حالت میں اسکی موت ہوئی ہو، ایسے انسان کو صحابی کہتے ہیں،
دین اسلام اس بات کو ہمیں سکھاتاہے اور اس بات کی تعلیم دیتاہے کہ صحابہ ءِ کرام کی تعظیم وتکریم کریں، اس لئے کہ یہ سب عادل تھے، متقی پرہیزگار تھے، بلکہ اللہ تعالیٰ نے انکے ساتھ بھلائی کرنے کا وعدہ فرمایا،
جیسا کہ قرآن ہاک میں ہے کہ اللہ تعالی نے قیامت کے دن سب کے ساتھ بھلائی کرنے کا وعدہ فرمایاہے،
اور احادیث میں بھی ہمیں اس بات کی ہدایت دی گئی اور تنبیہ کی گئی ہے کہ جب بھی ہم ان کا ذکر کریں اور تذکرہ کریں تو نہایت ہی ادب اور تعظیم وتکریم کے ساتھ کریں، حدیث پاک میں ارشاد فرمایا ما ،میرے صحابہ ستاروں کے مانند ہیں ،تو تم ان میں سے جس کی بھی اقتدا کروگے، پیروی کروگے تو ہدایت پاجاؤگے، اس سے معلوم ہوتاہے کہ تمام صحابہ ہدایت یافتہ تھے،
اور جو ان کی پیروی کرےگا چاہے وہ حضرت سیدنا صدیق اکبررضی اللہ عنہ کی پیروی کرے، حضرت سیدنا عمرفاروق اعظم رضی اللہ عنہ کی پیروی کرے، چاہے حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی پیروی کرے، چاہے حضرت سیدنا مولی علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی پیروی کرے، حضرت عبداللہ ابن مسعود کی پیروی کرے، صحابہ تو کم وبیش ایک لاکھ چوبیس ہزار ہیں، تو حدیث پاک میں فرمایاگیا کہ تم ان میں سے جس کی بھی پیروی کروگے تو ہدایات پا جاؤگے، تو اس سے معلوم ہوا کہ صحابہ ہمارے لئے نمونہءِ زندگی ہیں، نمونہءِ عمل ہیں،
ہمارے لئے رول ماڈل ہیں، ہمیں ان کو دیکھنا چاہئے، ان کی زندگی کو دیکھنا چاہئے، اور انہی کے نقش قدم پر چل کر اپنی زندگی کو بسر کرنی چاہیئے، ایک اور روایت میں ہے کہ جو شخص انہیں برا بھلا کہے جو
ان پر تنقید کرے، ان کی نیتوں پر شک کرے، یا ان پر طعن وتشنیع کرے، تو اس پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہے فرشتوں کی لعنت ہے اور تمام انسانوں کی لعنت ہے، اور آگے کی روایات میں فرمایاگیا کہ جو شص صحابہ کرام کی بارگاہ میں گستاخی کرے یا ان کی ذاتیات پر تنقید کرے، تو فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نہ تو اسکے فرض کو قبول فرماتاہے اور نہ ہی اسکے نفل کو،
تو آپ حضرت اس سے صحابہ کرام کے عزت وتکریم کو سمجھیں کہ جو صحابہ کرام پر انگلی اٹھائے، ان پر تنقید کرے،تو اللہ تعالیٰ اسکی عبادت کو قبول نہیں فرماتاہے،سراج الائمہ امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم اہل سنت تمام صحابہ سے محبت کرتے ہیں اور انہیں بھلائی سے ہی یاد کرتے ہیں،لہذا ہمیں چاہئے کہ تمام صحابہ کرام سے سچی محبت اور عقیدت رکھیں،
آخیر میں جیساکہ آپ حضرات کو معلوم ہے کہ محرم الحرام کے مہینے کا آغاز ہوچکاہے، سب سے پہلے میں تمامی ناظرین وسامعین کو اس ماہ مبارک اور نئے اسلامی سال کی تہہ دل سے مبارکبادی پیش کرتاہوں، اور ساتھ میں دعاگو ہوں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اس مبارک مہینے کی برکتیں رحمتیں عطا فرمائے، اور اسمیں ہم سب کی بے حساب بخشش فرمائے، آمین بجاہ سیدالمرسلین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم